0
Wednesday 12 Jun 2019 07:51

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(5)

(امام خمینی کی رحلت کے بعد)
امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(5)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے تیس سالہ دور قیادت میں واقعی داخلی اور خارجی حوالے سے کئی بڑے بڑے مسائل اور بحران سامنے آئے، لیکن آپ نے علم و حکمت، قوت و ارادے اور دور اندیشی سے ان مسائل کو حل کیا اور خداوند عالم کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے ملک کو بڑے بڑے بحرانوں سے بڑی کامیابی سے باہر نکالا۔ سیاسی میدان میں بھی ایران کے اسلامی نظام اور نظام رہبری کو کمزور کرنے کے لئے خطرناک عالمی سازشیں رچائی گئیں، لیکن رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے دشمن کے ہر ہتھکنڈے کو خدا کی مدد و حمایت سے شکست دی۔ 2009ء کا فتنہ انتہائی منظم اور شدید فتنہ تھا، اس سیاسی فتنے کے پیچھے مغرب پوری قوت سے موجود تھا، اس نے اپنی تمام قوتوں اور آلہ کاروں کو اس سیاسی بحران میں داخل کر دیا تھا اور انتخابات میں دھاندلی کے نام پر ملک میں ایسا سیاسی فتنہ کھڑا کیا، جس کا مقصد انتخابات نہیں پورا اسلامی نطام تھا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس سازش کو شروع ہی سے بھانپ لیا تھا اور بالآخر آپ نے اپنی بہترین الہیٰ حکمت سے اس سازش اور فتنے کو ناکام بنا دیا اور سامراجی طاقتیں اپنے تمام تشہیراتی، اقتصادی اور سیاسی و سماجی ہتھیاروں کے باوجود بری طرح ناکام ہوئیں۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے فرامین کی روشنی میں گذشتہ تیس سالوں میں ایران کو فوجی حوالے سے کمزور کرنے اور انہیں جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے محروم کرنے کے لئے مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لیکن ایران کے خلاف اقتصادی و فوجی پابندیاں ناکام ثابت ہوئیں اور ایران نے فوجی صنعت میں اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ آج ایران کا دفاعی میزائل سیٹم، نئے دور مار میزائل، جنگی آبدوزیں، ٹینک، جنگی جہاز، جدید ریڈار سسٹم، جدید ترین الکٹرونک انسٹرومنیٹس اور ہلکے اور بھاری ہتھیار دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لئے موجود ہیں۔

ایران نے ہارڈ اور سافٹ وار دونوں میں مقامی اور ملکی ماہرین کی مدد سے نمایاں ترقی کی ہے۔ ایران دفاعی صنعت میں خود کفالت کے مقام پر فائز ہے، ایران نے دفاعی حوالے سے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچایا دیا ہے کہ دشمن ایران کے خلاف کسی طرح کا فوجی اقدام کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ سیاسی شعبے میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے تین نکاتی ایجنڈے کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا اور ایرانی سیاستدانوں کو بھی اس پر کاربند رہنے کی تلقین کی۔ آپ عزت و وقار، حکمت اور مصلحت کو اپنی سیاست کا نصب العین قرار دیئے ہوئے ہیں۔ آپ نے ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کو ہی ہمیشہ اپنا سیاسی ہدف و مقصد قرار دیا ہے۔ آپ نے ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کی ہمیشہ مدد و نصرت کی۔

آپ نے اسی اصول کے تحت یمن، لبنان، عراق، شام، افغانستان، بحرین اور دنیا کے دوسرے خطوں میں مظلوموں کی امداد کی اور اسے ایران کی وزارت خارجہ کی ذمہ داری قرار دیا۔ بہرحال گذشتہ تیس برسوں پر اگر سرسری نگاہ بھی ڈالی جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایت و رہنمائی میں ایران کا اسلامی انقلاب امام خمینی کے خط اور راستے پر گامزن رہا اور آج ایران نے ایسے عالم میں انقلاب کے چالیس سال مکمل کئے ہیں کہ ایران علاقے کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 798702
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے