0
Monday 10 Jun 2019 17:15

جلتا سوڈان، سرخ نیل اور سعودی عرب

جلتا سوڈان، سرخ نیل اور سعودی عرب
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ویسے تو مصر کو نیل کی سرزمین کہا جاتا ہے، لیکن افریقہ کا یہ سب سے بڑا دریا گیارہ ممالک کی پیاس بجھاتا ہے، جن میں سے ایک اہم ملک سوڈان ہے۔ ہمارا نیل سے زیادہ تعارف حضرت موسیؑ کو ان کی والدہ کی طرف سے بحکمِ خدا سپردِ نیل کرنے اور زوجہ فرعون کے دریائے نیل سے نکالنے سے ہوتا ہے۔ یہی دریائے نیل جسے زندگی کی علامت اور کروڑوں لوگوں کی واحد امید سمجھا جاتا ہے، اسی کے کنارے آباد سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں سیاسی انقلاب عروج پر ہے۔ عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے پچھلے کئی مہینوں سے سڑکوں پر ہیں، جوان آمریت اور ان کی کٹھ  پتلیوں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں حقیقی آزادی ملے، اس لیے وہ بار بار ہر اس اقدام کو چیلنج کرتے ہیں، جس سے انہیں محسوس ہو کہ ان کی آزادی خطرے میں ہے۔ جیسے ہر تحریک کے ساتھ ہوتا ہے کہ قربانی کوئی اور دیتا ہے اور جھوٹے رانجھے چوری کھا جاتے ہیں، عوام کی قربانیوں پر اپنے ہی ملک کی فوج نے شب خون مارا اور اقتدار پر قابض ہو گئی۔ عمر البشیر کی حکومت کا جانا اس دن ٹھہر گیا تھا، جس دن اس نے تمام پابندیوں اور دھمکیوں کو پس پشت ڈال کر شام کا دورہ کیا تھا، وہ وہاں سے واپس پہنچا ہی تھا کہ یہ مظاہرے شروع ہوگئے۔ عمر البشیر کی شخصیت کے کئی پہلو تھے، وہ اسلام پسندوں کے قریب بھی تھا اور سعودیہ کا اتنا بڑا اتحادی کہ اس نے یمن پر حملے کے لیے فوج دے رکھی تھی اور کچھ عرصہ پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام کونسل خانے بند کر دیئے تھے۔

اب اس تحریک کا خونی دور چل رہا ہے، لوگوں کو لگ رہا ہے کہ ان کے خواب چوری کیے جا رہے ہیں، اس لیے وہ شدت کے ساتھ مظاہرے کر رہے ہیں۔ عمر البشیر کے ہٹ جانے سے انہیں لگا تھا کہ اب ان کی حکمرانی ہوگی، مگر اقتدار پر فوجی کونسل قابض ہوگئی ہے، عوام نے ان کے خلاف فوجی مرکز کے سامنے دھرنا دے دیا، وہ دھرنا جاری تھا کہ ان پر فوج نے حملہ کر دیا، فوج نے چالیس تک ہلاکتوں کو تسلیم کیا اور تین سو لوگ زخمی ہیں، مگر جان بحق ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔ ظلم یہ ہے کہ لاشیں عزیز و اقارب کے حوالے کرنے کی بجائے سپرد نیل کی جا رہی ہیں۔ لوگ رضاکارانہ طور پر لاشوں کو دریائے نیل سے تلاش کر رہے ہیں اور بہت سی ویڈیوز سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر دکھائی جا رہی ہیں کہ لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کو دریائے نیل سے نکال رہے ہیں۔ جانے کیوں لوگ اپنے جرائم چھپانے کے لیے دریاوں کا سہارا لیتے ہیں؟ شائد وہ سمجھتے ہیں کہ دریا ان کے جرائم کو بہا لے جائیں گے، مگر ایسا ہوتا نہیں، دریا تو اپنے سینے میں محفوظ رکھنے کے بعد ہر راز کو اگل دیتے ہیں۔

اس قتل عام سے چند دن پہلے فوجی حکام نے سعودی عرب، عرب امارات اور مصر کا دورہ کیا تھا۔ معاشی طور پر مفلوک الحال ملک ایسا کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ کہیں اس کے نیتجے میں بین الاقوامی پابندیوں کا شکار نہ ہو جائے، اس لیے  فوجی حکام ان تینوں ممالک گئے اور وہاں سے گرین سگنل ملنے کے بعد وہاں آپریشن کیا گیا، جس میں سینکڑوں لوگ جان بحق ہوئے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو یہ فوجی حکومت ہی فائدے میں نظر آتی ہے، اس لیے جس دن سے عمر البشیر کو معزول کیا گیا اور موجودہ سیٹ اپ سامنے آیا ہے، سعودی کے ان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے معاشی مسائل پیدا ہوئے، جس کے نیتجے میں سوڈانی پاونڈ کی وہی حالت ہوگئی، جو پی ٹی آئی حکومت کے آنے سے پاکستانی روپے کی ہوگئی تھی۔ اس صورتحال میں سعودی عرب فوراً مدد کو پہنچ گیا اور اس نے تین ارب ڈالر فوری طور پر سوڈان کے مرکزی بینک کے اکاونٹ میں ڈال دیئے جس سے گرتی کرنسی کو سہارا بھی مل گیا۔

سعودی عرب کی اس امداد کو سوڈان کی مزاحمتی عوام نے سیاسی رشوت سے تعبیر کیا اور کہا کہ سعودی عرب کو اپنی امداد اپنے پاس رکھنی چاہیئے اور ایسے وقت میں جب عوامی تحریک کی بیج کنی کی جا رہی ہے، حکومت کو تین ارب ڈالر دینا ظالم حکمرانوں کے ہاتھ مضبوط کرنے والی بات ہے۔ حالات خراب ہو رہے ہیں، انتقال اقتدار کا ایک معاہدہ کیا گیا تھا، جس میں نو ماہ میں الیکشن اور ایک آزاد و خود مختار پارلیمنٹ اور اس کے نتیجے میں حکومت کی بات کی گئی تھی، ملک کے چلانے والی کونسل میں اپوزیشن الائنس کی نمائندگی کی بات تھی۔ یہ معاہدہ فوجی کونسل نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں ہی رکھے۔ اس قتل عام کے بعد ایتھوپیا نے اپوزیشن اور فوجی کونسل میں بات چیت کرانے کی کوشش کی، جسے مسترد کر دیا گیا کہ فوجی کونسل اپنی کسی بھی بات پر قائم نہیں رہتی۔

میں اکثر دوستوں سے کہتا ہوں کہ چیزوں کو فرقہ واریت کی آنکھ سے نہ دیکھا کریں، ہر چیز بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے مطابق ہو رہی ہوتی ہے۔ یمن، عراق اور شام میں ہم نے جب بھی سعودی عرب کے منفی کردار کی بات کی، اس کو فرقہ کی آنکھ سے دیکھا گیا۔ آج سوڈان میں تو کوئی شیعہ سنی تنازع نہیں ہے؟ اس لیے مسائل کو جیسے وہ ہیں، ویسے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ ایک سوال سعودی عرب، عرب امارات اور مصر کیوں سوڈانی فوج کی حمایت کر رہے ہیں؟ یہ اہم اور بنیادی سوال ہے، اس کا جاننا انتہائی اہم ہے۔ اصل میں سوڈان ایسا ملک ہے، جہاں اخوان المسلمین بہت زیادہ مضبوط ہے، ایک اندازے کے مطابق اس کے پانچ لاکھ رجسٹرڈ کارکن ہیں، اگر آج آزاد الیکشن ہوتے ہیں تو اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں کہ سوڈان میں ایک اسلام دوست حکومت بنے گی، جو اخوانیوں کے ہاتھ میں ہوگی۔

ایسا مصر، سعودی اور متحدہ عرب امارات کو کسی بھی صورت قبول نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تینوں ممالک اپنی اپنی بادشاہتوں اور آمریتوں کو جس قوت سے سب سے زیادہ خطرہ سمجھتے ہیں، وہ اخوان المسلمین ہے۔ مصر میں تو سیسی نے براہ راست اخوان سے حکومت چھنی ہے، اس لیے وہ کسی طور پر نہیں چاہے گا کہ اس کے بارڈر کے ساتھ ایک ایسی حکومت قائم ہو جو اخوان المسلمین کی یا اس کی ہمدرد ہو۔ اسی طرح بین الاقوامی قوتیں امریکہ اور اسرائیل بھی کسی طور ایسی حکومت کو قائم نہیں ہونے دیں گے، جو ان کے لیے مسائل کھڑے کرے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ذریعے اخوان کے آنے کا راستہ روک رہا ہے۔ حکومت بچانے کا ظالمانہ کھیل سوڈان کے عوام کا خون بہا رہا ہے۔ سعودی اور دیگر ممالک یمن، عراق اور اب سوڈان میں غلط سائیڈ پر کھڑے ہیں، ایک نہ ایک دن عوام کی فتح ہونی ہے، اس دن ان کو سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 798782
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے