0
Tuesday 11 Jun 2019 00:52

ایران کی استقامت اور امریکہ کی نفسیاتی جنگ میں ناکامی

ایران کی استقامت اور امریکہ کی نفسیاتی جنگ میں ناکامی
تحریر: عبداللہ شہبازی

گذشتہ چند ہفتوں میں امریکہ کی پروپیگنڈہ وار اور ایران پر فوجی حملے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ابراہم لنکن طیارہ بردار جنگی بحری جہاز خلیج فارس روانہ کرنے پر مبنی دعوے جیسے متنازعہ اقدامات نے ایران کے خلاف شدید فضا قائم کر دی تھی۔ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ حتی خود ایران میں بعض حلقوں کو یقین ہونے لگا کہ وہ واقعی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں اور بہت جلد افغانستان، عراق اور لیبیا کی طرح ایران پر بھی امریکہ کی فوجی یلغار کا مشاہدہ کریں گے۔ اسی طرح ان بعض حلقوں نے بھی جنگ کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جنہیں علم تھا کہ امریکہ صرف گیدڑ بھبکیاں مار رہا ہے۔ یوں انہوں نے بھی ایک طرح سے ایران کے خلاف امریکہ کی پروپیگنڈہ وار میں اسے مدد فراہم کی۔ دوسری طرف امریکہ سمیت دیگر ممالک کے تجربہ کار سیاسی ماہرین نے ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی دھمکیوں کو غیر حقیقی اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے انہیں محض نفسیاتی جنگ جانا۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ پر مبنی پروپیگنڈے کے خلاف ایک اہم ترین ردعمل چیک ہیگل کی جانب سے سامنے آیا۔ ہیگل ایک جانے پہچانے ریپبلکن سینیٹر تھے جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ جارج واکر بش کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے اصلی مخالفین میں سے تھے اور جارج بش کے خلاف ان کے دورہ صدارت کے آخری ایام میں کانگریس میں جنم لینے والی مہم میں پیش پیش تھے۔ وہ ریپبلکن پارٹی سے جارج بش کی پالیسیز کی اہم ترین مخالف شخصیت جانے جاتے تھے۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں دو معروف چہرے سینیٹر اوباما اور نینسی پلوسی تھے۔ نینسی پلوسی اس وقت ایوان نمائندگان کی سربراہ ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بعد میں صدر براک اوباما کے دورہ صدارت میں چیک ہیگل کچھ عرصے کیلئے سیکرٹری دفاع کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ لیکن اسرائیل کے خلاف موقف اختیار کرنے اور امریکہ کا دفاعی بجٹ کم کرنے کی کوشش کرنے کی وجہ سے انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ یعنی وہ شدید دباو، جس کا زیادہ تر حصہ امریکہ میں بنجمن نیتن یاہو کی لابی کی طرف سے ڈالا گیا تھا کے نتیجے میں استعفی دینے پر مجبور ہو گئے۔
 
۱۱ مئی ۲۰۱۹ء کو چیک ہیگل نے اعلان کیا کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی کے بعد اس کی جانب سے اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز خلیج فارس روانہ کرنا ایک روٹین کا کام ہے لیکن ٹرمپ حکومت انتہائی خطرناک انداز میں اس اقدام کو ایران کے خلاف فوجی خطرہ بنا کر پیش کر رہی تھی۔ خطے کی بعض سیاسی قوتوں خاص طور پر اسرائیلی لابی، بنجمن نیتن یاہو کی گینگ اور ابوظہبی، سعودی عرب اور دیگر ایران مخالف ممالک میں موجود ان کے ایجنٹس نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی پروپیگنڈہ وار کو حقیقی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ وہ تصور کر رہے تھے کہ ان کے ہاتھ سنہری موقع آ گیا ہے اور وہ بعض ناگوار حادثات ایجاد کر کے کانگریس کی منظوری اور حتی امریکی صدر کے حکم کے بغیر امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ کی آگ میں دھکیل سکتے ہیں۔
 
ایسے حساس حالات میں 14 مئی 2019ء منگل کے دن اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے تاریخی بیان نے جنگ پسندانہ پروپیگنڈہ کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے انتہائی واضح انداز میں کہا کہ نہ تو جنگ ہو گی اور نہ ہی ہم امریکہ سے مذاکرات کریں گے۔ اگلے ہی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی دھمکیاں صرف پروپیگنڈے کی حد تک محدود ہیں۔ یہ پیغام اس پسپائی کا آغاز تھا جو آئندہ چند دنوں تک جاری رہی۔ دوسرے الفاظ میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بیان کے چند دن بعد ہی ایران کے خلاف جنگ کا پروپیگنڈہ تقریبا اختتام پذیر ہو چکا تھا اور جمعہ 17 مئی کے دن امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے گذشتہ دو ہفتے سے ایران کے خلاف جاری پروپیگنڈہ وار کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
 
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے 14 مئی کی اپنی تقریر میں گذشتہ چالیس برس کے دوران ایران سے متعلق امریکی پالیسیوں کا تاریخی جائزہ بھی لیا۔ 1979ء میں جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا تو ایران اور سرد جنگ کے عروج کا زمانہ تھا اور امریکی طاقت اور اثرورسوخ بھی عروج پر تھا۔ اسلامی انقلاب سے پہلے محمد رضا شاہ کے زمانے میں ایران خطے میں امریکہ کا ایک انتہائی اہم اڈہ تھا جبکہ ایران امریکہ کا اصلی اور اسٹریٹجک اتحادی بھی شمار ہوتا تھا۔ امریکہ کیلئے خطے میں اپنے اس اڈے کی بقا بنیادی اہمیت کی حامل تھی۔ لیکن جیسا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی فرمایا امریکہ نے ہر گز ایران میں اپنی پٹھو حکومت کو بچانے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ امریکہ کی یہ حکمت عملی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی جاری رہی۔ حتی جب تہران میں امریکی سفارتخانے پر انقلابی جوانوں نے قبضہ کر لیا اور اس کے سفارتکار یرغمال بنا لئے گئے تب بھی امریکہ نے ایران پر براہ راست حملہ کرنے سے گریز کیا اور طبس کے صحرا میں کمانڈو ایکشن کرنے کی کوشش کی جو قدرتی اسباب کے باعث ناکام ہو گیا اور امریکہ کیلئے عبرتناک شکست میں تبدیل ہو گیا۔
 
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اب تک چالیس سال کی مدت میں امریکہ نے ایران کے خلاف بہت سازشیں انجام دی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ صرف طبس کے واقعے میں انتہائی محدود پیمانے پر کمانڈو ایکشن کیا گیا جو شکست کا شکار ہو گیا۔ جمی کارٹر کے بعد رونلڈ ریگن امریکہ کے نئے صدر بنے۔ رونلڈ ریگن اور ریگن ازم 45 برس پر مشتمل سرد جنگ کے عروج کا زمانہ ہے۔ اس دوران امریکہ نے الجزائر جیسے ممالک میں انقلاب اسلامی ایران سے متاثرہ اسلامی تحریکوں کو شدت سے کچلنے کی کوشش کی۔ الجزائر میں انقلاب اسلامی ایران سے متاثرہ اسلام پسند گروہ آپس میں متحد ہو کر بلدیاتی اور ملکی سطح کے الیکشن میں شریک ہوئے اور انہیں بڑی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن امریکہ کی مداخلت پر انہیں سیاسی میدان سے نکال باہر کر دیا گیا اور ایسی خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جو دسیوں برس تک جاری رہی اور 1 لاکھ 50 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ الجزائر میں یہ خانہ جنگی اور اسلام پسند گروہوں کے خلاف طاقت کا استعمال جرج بش باپ کے دور میں انجام پایا۔
 
امریکہ کی جانب سے انقلاب اسلامی ایران کی امواج کو کچلنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود حتی 8 سالہ ایران عراق جنگ کے دوران بھی امریکی حکومت نے ایران کے خلاف فوجی اقدام کی جرات نہ کی۔ اگرچہ عراق کے صدر صدام حسین کی جانب سے امریکہ کی نیابت میں جنگ کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صدام حسین نے ایران کے خلاف 8 سال تک امریکہ اور برطانیہ کی پراکسی وار لڑی تھی۔ مغربی طاقتیں ان 8 سالوں میں جب بھی محسوس کرتے کہ ایران فوجی برتری حاصل کر رہا ہے اور جنگ کا پلڑا ایران کے حق میں بھاری ہو رہا ہے تو شدت سے صدام حسین کی فوجی مدد اور حمایت کرتے تاکہ جنگ میں ایران کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے صدر صدام حسین کی جانب سے حتی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال جیسے جنگی جرم پر بھی خاموشی اختیار کی۔ اس دور میں بھی امریکی حکمران ایران پر براہ راست فوجی حملے کو لاحاصل اور بے فائدہ تصور کرتے تھے لہذا انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔
 
اس کے بعد 2001ء میں نائن الیون کا واقعہ پیش آتا ہے اور جرج بش بیٹے اور ڈیک چنی کا آٹھ سالہ دورہ اقتدار شروع ہو جاتا ہے۔ سب بخوبی آگاہ ہیں کہ ڈیک چینی آج تک عالمی سطح پر اسلحہ کے بڑے بڑے ڈیلرز سے رابطے میں ہے اور ایران فوبیا کے ذریعے عرب ممالک کو وسیع پیمانے پر اسلحہ فروخت کرنے میں انہوں نے بہت زیادہ سود کمایا ہے۔ ان دو افراد یعنی جرج بش بیٹے اور ڈیک چینی کے دورہ اقتدار میں نائن الیون جیسا انتہائی اہم واقعہ رونما ہوتا ہے جسے بنیاد بنا کر اسلامی ممالک کے خلاف امریکہ کے جارحانہ اقدامات کا آغاز ہوتا ہے۔ گور ویڈال جیسی امریکہ کی معروف شخصیات نائن الیون واقعے کو پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں اور جرج بش اور ڈیک چنی کی گینگ کو اس میں ملوث ٹھہراتے ہیں۔ اس خطرناک اور حساس دور میں بھی جب امریکہ کے پاس ایران پر براہ راست فوجی حملے کا آپشن موجود تھا امریکی حکمرانوں نے اسے مفید نہیں سمجھا۔ ایران اپنے اسٹریٹجک پوزیشن، آبادی اور خطے میں انقلاب اسلامی ایران سے متاثرہ اسلامی تحریکوں پر اثرورسوخ کا حامل ہونے کے ناطے عراق اور صدر صدام حسین سے بہت مختلف تھا۔
 
جرج بش کی حکومت امریکہ میں اقتصادی بحران پر منتج ہوئی جس کے نتیجے میں انٹی وار تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کے معروف رہنماوں میں ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر چیک ہیگل اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر اوباما شامل تھے۔ اسی تحریک کے نتیجے میں براک اوباما امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوئے اور اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے 37 دن پہلے جرج بش نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر مبنی معاہدے پر دستخط کر دیے۔ اس معاہدے کے تحت دسمبر 2011ء میں براک اوباما نے عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے پر جشن منایا اور ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی میں اپنی مشہور تقریر کے دوران امریکی خارجہ پالیسی میں فوجی طاقت کے استعمال کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ امریکہ میں جنگ کے خلاف فضا جاری تھی کہ اکتوبر 2013ء میں شام حکومت پر غوطہ کے علاقے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس بارے میں بہت سی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شائع کی گئیں جو بعد میں جعلی ثابت ہوئیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ نے بھی بحیرہ قلزم میں موجود اپنی جنگی کشتیوں کو 31 اکتوبر 2013ء کے دن شام پر حملے کا حکم دے دیا۔ لیکن آخری لمحات میں براک اوباما نے فرانسیسی صدر کو ٹیلیفون کیا اور شام پر حملے کیلئے کانگریس کی اجازت لازمی قرار دی۔
 
دوسرے الفاظ میں جرج بش کے دورہ اقتدار کے آخری حصے میں امریکہ کی اندرونی فضا ایسی سمت میں جا چکی تھی کہ ان کے زمانے میں اپنائی گئی جنگ پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنا تقریبا ناممکن ہو چکا تھا۔ لہذا جرج بش کے بعد براک اوباما اور حتی ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی الیکشن میں اپنی کامیابی کیلئے جنگ مخالف نعروں اور وعدوں کے مرہون منت ہیں۔ 2016ء میں امریکہ کی صدارتی مہم کے دوران بھی سب نے دیکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کن نعروں اور وعدوں کے ذریعے ووٹ بینک اپنی طرف جذب کیا۔ انہوں نے بارہا نائن الیون کے بعد مشرق وسطی کی جنگوں پر امریکہ کے 6 یا 7 کھرب ڈالر اخراجات کا تذکرہ کیا۔ لیکن انہوں نے ہر گز اس نکتے کی جانب اشارہ نہ کیا کہ یہ تمام ڈالر خطے کی عوام کی جیب میں نہیں گئے بلکہ امریکہ خاص طور پر پینٹاگون کے ٹھیکے داروں کی جیب میں گئے ہیں۔ اس کا مطلب امریکی عوام کی لوٹ مار ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ ان نعروں کے سہارے برسراقتدار آئے ہیں تو انتہائی واضح ہے کہ 2020ء کے الیکشن میں کامیاب ہونے کیلئے انہیں اپنے سابقہ نعروں اور وعدوں کو دہرانا پڑے گا اور ایسا کوئی اقدام انجام نہیں دینا ہو گا جس سے کسی نئی جنگ کے آغاز کی بو آتی ہو۔
 
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ میں جان بولٹن جیسے افراد کا انتخاب کیا ہے تاکہ ایران پر رعب جمانے کیلئے دھمکی آمیز پالیسیاں اختیار کی جا سکیں لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جان بولٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتیں یکسان نہیں ہیں۔ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مرعوب کرنے کے درپے ہیں لیکن جان بولٹن بنجمن نیتن یاہو اور خطے میں ایران مخالف قوتوں سے تعاون کرتے ہوئے حالات کو مشرق وسطی میں ایک نئی جنگ کی جانب آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ایسی جنگ واقع ہوتی ہے تو وہ انتہائی تباہ کن اور وسیع پیمانے پر ہو گی۔ امریکہ کے معروف اسٹریٹجسٹ اور قومی سلامتی کے سابق مشیر برجینسکی کے مطابق شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ شام سے متعلق ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کی حکمت عملی نے نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کو انتشار اور بدامنی کے پھیلاو سے بچا لیا اور ایران کیلئے عظیم کامیابی حاصل کی۔ ایران کی حکمت عملی کے تحت اکتوبر اور ستمبر 2013ء میں شام میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد روس نے اس ملک میں بنیادی کردار ادا کیا اور وہاں کی قانونی حکومت کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
 
خبر کا کوڈ : 798806
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے