0
Tuesday 11 Jun 2019 08:18

بھرپور جوابی حملے کی دفاعی حکمت عملی

بھرپور جوابی حملے کی دفاعی حکمت عملی
اداریہ
ہر ملک اپنی جغرافیائی صورت حال اور دشمن کی قوت و طاقت نیز اپنی صلاحیت اور پوٹینشل کو دیکھ کر دفاعی حکمت عملی ترتیب دیتا ہے۔ ہر ملک اسی تناظر میں اپنا ڈیفنس ڈاکٹرائن بھی تشکیل دیتا ہے۔ کسی ملک کی حکمت عملی ایٹم بم، کسی کے چھوٹے ایٹمی ہتھیار اور کسی کی دفاعی اسٹریٹجی آرٹلری اور بری یا بحری فوج ہوتی ہے۔ ایران جس خطے میں واقع ہے اور اس کو انقلاب کے چالیس برسوں میں جو تجربات حاصل ہوئے ہیں، اس کی روشنی میں ایران کے دفاعی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے دشمن بری یا بحری حملے سے ایران کے دفاعی نظام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، البتہ فضائی حملوں سے ایران کو نقصان پنچایا جا سکتا ہے۔ اسی امکان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایران میں میزائل ٹیکنالوجی اور ائیر ڈیفنس سسٹم پر بھرپور توجہ دی گئی۔ محتاط اندازے کے مطابق ایران کے پاس اس وقت چار ہزار کلومیٹر تک دور مار کرنے والے میزائل موجود ہیں، جو یورپ کے آخری سرے اور ایشیا کے ستر فیصد علاقے تک مار کرسکتے ہیں۔

ایک ایسا ایران جس کے پاس خاردار تار بنانے کی صلاحیت نہ تھی، اسلامی انقلاب کی برکت سے آج شہاب، سجیل، قدر، نصر، فتح ایک سو دس اور خلیج فارس سمیت درجنوں اقسام کے ایسے میزائل تیار کرچکا ہے، جس سے امریکہ، یورپ اور اسرائیل لزہ براندام ہیں۔ ایران کی فوجی صنعت کے ماہرین نے چند دن پہلے یعنی 9 جون کو پندرہ خرداد نامی جدید ائیر ڈیفنس سسٹم فوج کے کے حوالے کیا ہے، جس میں بیک وقت چھ اطراف میں حملہ آور جنگی جہازوں اور ڈرون طیاروں کو شناخت اور ان پر جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس دفاعی نظام میں موجود دفاع اور جوابی میزائل حملہ کرنے کی صلاحیت نے امریکی فوجی کمانڈ کو چیخنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے اس ردعمل سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ 15 خرداد نامی نئے دفاعی نظام نے امریکہ کے بعض ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیا ہے اور اب ان کے لیے کوئی نیا چیلنج سامنے آگیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کچھ عرصہ پہلے ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے خطاب میں فرمایا تھا کہ آج ہمیں جس طرح کے دشمنوں کا سامنا ہے، ان میں انسانیت اور اخلاقی اقدار ناپید ہیں، یہ کمزور کو ہڑپ کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں، لہذا ایسی دنیا میں سر اٹھا کر رہنے کے لیے اپنے آپ کو قوی و مستحکم کرنا واجبات میں سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج ایران کمزور ہوتا تو امریکہ کئی نئے صدام پیدا کرکے ایران پر جنگ مسلط کر دیتا اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو جاتا، لیکن آج ایران کا مضبوط دفاعی نظام دشمن کو اجازت نہیں دے رہا کہ وہ کسی جارحیت کا ارتکاب کرے، کیونکہ اسے اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ چار ہزار کلومیٹر کی رینج موجود ایران کا کوئی دشمن ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے محفوظ نہیں ہے اور اگر کسی نے ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی جنگی حماقت کی تو اس کا نقصان حملہ آوروں اور ان کے حامیوں کے لے اس قدر زیادہ ہوگا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔
خبر کا کوڈ : 798891
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے