1
Tuesday 11 Jun 2019 23:32

سعودی عرب میں بچوں کو سزائے موت کے بڑھتے واقعات

سعودی عرب میں بچوں کو سزائے موت کے بڑھتے واقعات
تحریر: علی احمدی

سائیکل پر سواری کرنے والے کمسن لڑکوں کا ایک گروپ سعودی عرب کے مشرقی شہر کی ایک سڑک کے کچے کنارے پر جمع تھا۔ 10 سالہ مرتجی قریریص 30 بچوں پر مشتمل اس گروپ کو لیڈ کر رہا تھا۔ سی این این کو موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس بچے نے گرے رنگ کی ٹی شرٹ اور جینز کی پینٹ پہن رکھی تھی جبکہ اس کے پاوں میں چپل تھے۔ یہ بچہ کیمرے کو گھور رہا تھا۔ وہ عام سائیکلسٹ دکھائی دے رہے تھے لیکن یہ بچے درحقیقت ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے۔ محمد درویش، تمارہ قبلاوی اور قاضی بالکیز نے 6 جون کے دن سی این این کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سائیکل ریس شروع ہوتے ہی قریریص بچوں کے ہجوم میں گم ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لاوڈ اسپیکر تھا اور وہ بڑی محنت سے پیڈل چلا رہا تھا۔ وہ لاوڈ اسپیکر میں چلا رہا تھا: "عوام انسانی حقوق کے طالب ہیں۔"

وہ ایک بچے کے طور پر سائیکل ریس کی شکل میں اس احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ 2011ء میں عرب اسپرنگ کے عروج کے زمانے میں سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں منعقد ہوا تھا۔ تین برس بعد جب وہ محض 13 سال کا تھا، ایک بار پھر اس کی ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں وہ ایک سائیکل ریس میں شریک تھا۔ سعودی عرب کی بارڈر سکیورٹی فورسز نے اس وقت اسے گرفتار کر لیا، جب وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ملک فہد ہائی وے کے ذریعے بحرین جا رہا تھا۔ یہ ہائی وے سعودی عرب کو بحرین سے ملاتی ہے۔ گرفتاری کے وقت وہ ایک کمسن جوان تھا، جسے قانونی ماہرین نے "سعودی عرب میں کمسن ترین سیاسی قیدی" کا لقب عطا کیا۔ اس وقت اس کی عمر 18 سال ہوچکی ہے اور اس تمام مدت میں وہ جیل میں قیدی کے طور پر رہا جبکہ اسے سزائے موت کا بھی سامنا ہے۔

درویش، قبلاوی اور بالکیز کی ارسال کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اپریل میں اعلان کیا کہ اس نے 37 مردوں کو سزائے موت دے دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے بقول ان کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔ سعودی عرب ایسا ملک ہے جہاں دنیا کے دیگر تمام ممالک سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔ اب تک بڑی تعداد میں ایسے افراد کو بھی سزائے موت دی جا چکی ہے، جو ارتکاب جرم کے وقت نابالغ تھے اور قانونی اعتبار سے ان کا شمار بچوں میں ہوتا تھا۔ جب سی این این کے رپورٹرز نے مرتجی قریریص کی ایف آئی آر رپورٹ کی جانچ پڑتال کی تو انہیں معلوم ہوا کہ اس پر جن جرائم کی فرد جرم عائد کی گئی تھی ان کا ارتکاب کرتے وقت اس کی عمر صرف 10 سال تھی۔ قریریص پر ایک الزام یہ عائد کیا گیا تھا کہ اس نے اپنے بھائی علی کا ساتھ دیا ہے۔

قصہ کچھ یوں تھا کہ مرتجی قریریص اپنے بڑے بھائی علی کے ہمراہ ایک موٹر سائیکل پر بیٹھا ہوا تھا اور دونوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے العوامیہ میں سڑک سے گزرتے ہوئے پولیس کی جانب چند پٹرول بم پھینکے۔ سعودی عرب کے قانون میں سزائیں دینے کی قانونی عمر واضح نہیں کی گئی لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بقول 2006ء میں سعودی عرب نے بچوں کے حقوق سے متعلق کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ قانونی عمر بڑھا کر 12 سال کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے اقوام متحدہ کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ 12 سال سے کم عمر میں جرم کا مرتکب ہونے والے افراد کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ قریریص کا مقدمہ ایک ایسی عدالت میں چلایا جا رہا ہے، جہاں دہشت گردی میں ملوث ملزمین کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ اس پر ایک شدت پسند دہشت گرد گروہ میں رکنیت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مرتجی قریریص پر لگائے گئے الزامات میں احتجاجی مظاہرے میں شدت پسندانہ اقدامات کا ارتکاب، پٹرول بم تیار کرنے میں مدد فراہم کرنا، سکیورٹی فورسز کی طرف فائرنگ اور 2011ء میں اپنے بھائی کے جنازے اور تدفین کے موقع پر احتجاجی مظاہرے میں شرکت شامل ہیں۔ اس موقع پر تیار کی گئی ایک ویڈیو جو سی این این کو موصول ہوئی ہے، میں وہ چند دیگر افراد کے ہمراہ حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ یاد رہے مرتجی قریریص کا ایک اور بھائی اور والد بھی سعودی جیل میں ہیں۔ مرتجی قریریص کو اس کی سزائے موت کی اطلاع اپنی 18 ویں سالگرہ سے کچھ دن پہلے دی گئی تھی۔ 2016ء میں اقوام متحدہ کی ایک ٹیم نے سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک کمسن بچے کی گرفتاری کی خبر دی تھی۔ ان کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس بچے کو ٹارچر کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 799025
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے