0
Tuesday 11 Jun 2019 22:57

پاکستان میں گرفتاریوں کی لہر

پاکستان میں گرفتاریوں کی لہر
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ باری باری اقتدار سنبھالتی رہیں، اس دوران کبھی آمریت بھی مسلط رہی، سیاسی لیڈر شپ کو جلا وطن ہونا پڑا تو کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ ملک میں عرصہ دراز سے سیاسی عدم استحکام جاری ہے، عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان شائد دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جہاں سیاست میں آنے کا مقصد ملک و قوم کی خدمت نہیں بلکہ لوٹ مار کرنا اور اپنے کاروبار کو توسیع دینا ہوتا ہے۔ بڑے سے لیکر چھوٹے سیاستدانوں کی اکثریت اپنی الیکشن کمپینز کو انوسٹمنٹ سے تعبیر کرتی ہے، یعنی الیکشن سے قبل جتنا پیسہ لگائیں گے، بعدازاں اقتدار میں آنے کی صورت میں کئی گنا وصول کریں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں سیاسی کارکنان (ووٹرز) کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس شخص کو ووٹ دے رہے ہیں وہ کرپٹ ہے، تاہم یہ طبقہ اسی بنیاد پر ان امیدواروں کو اسمبلی تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے کہ مذکورہ سیاسی رہنماء اقتدار میں آکر ان کے جائز و ناجائز کام کرائے گا۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ ان کرپٹ سیاستدانوں کو سپورٹ کرنے والوں کی اکثریت عام عوام نہیں بلکہ انہی کے ہم خیال ووٹرز ہوتے ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔
 
الیکشن 2013ء سے قبل ہی اس بات کے اشارے ملنا شروع ہوگئے تھے کہ ملک میں جلد تیسری بڑی سیاسی قوت آنے والی ہے، گو کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ نواز ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب رہی، تاہم خیبر پختونخوا میں عمران خان کے سونامی نے تبدیلی متعارف کرا دی۔ نواز شریف کے اس دور حکومت میں عمران خان مسلسل سیاسی میدان میں حاضر رہے، کبھی 125 دن تک مسلسل دھرنا دیا تو گاہے بگاہے جلسے اور احتجاج کرتے رہے، عمران خان کی حکومت مخالف تحریک کو تقویت پامانہ کیس سے مل گئی اور یوں نواز شریف کے فارغ ہونے کے بعد عمران خان کھل کر حکومت کیخلاف میدان میں اتر آئے۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے کرپشن کو جواز بنا کر عوام میں شعور اجاگر کرنا شروع کیا اور اگر یوں کہا جائے کہ وہ اپنی اس مہم میں کامیاب بھی رہے تو غلط نہ ہوگا۔ الیکشن 2018ء میں بالآخر عمران خان کو 22 سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد وفاق میں حکومت بنانے کا موقع مل گیا۔ عمران خان وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد بھی اپنے اس موقف پر ڈٹے نظر آئے کہ کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ سیاستدانوں کو جیل بھیج کر ہی وہ دم لیں گے۔
 
خان صاحب نے اپنے انتخابی منشور میں عوام کو کئی ویژنز پیش کئے، تاہم لوٹ مار سے ستائے عوام نے کرپٹ سیاستدانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور ملکی نظام تبدیل کرنے کیلئے آخری امید کی بنیاد پر عمران خان کو ووٹ دیا۔ دوسری جانب مقتدر قوتیں بھی شائد یہ فیصلہ کرچکی تھیں کہ دہشتگردی کیساتھ ساتھ کرپشن کے ناسور کو بھی ملک سے ختم کرنا ہے۔ نظام میں پس پردہ تبدیلیوں کے بھی واضح اشارے مل رہے تھے، قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنی تابڑ توڑ کارروائیوں کا آغاز کر رکھا تھا، سابق چیف جسٹس جناب ثاقب نثار بھی اس حوالے سے زیرو ٹالرنس لیول پر نظر آتے تھے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران حالات قدرے اپوزیشن کی فیور میں تھے، وہ یوں کہ ثبوت ہونے کے باوجود عدالتیں ملزموں کیخلاف قدرے نرم ہاتھ رکھے ہوئے تھیں، اس کی واضح مثال آصف زرداری اور انکی ہمشیرہ کی ضمانت میں 5 بار توسیع، شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد رہائی، حمزہ شہباز کیخلاف کارروائی کا نہ ہونا، اسحاق ڈار کی بیرون ملک آزادی وغیرہ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے عوام میں یہ تاثر قائم ہونے لگا تھا کہ شائد کہیں حالات کسی این آر او یا ڈیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
 
گذشتہ روز پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی میگا منی لانڈرنگ اور جعلی اکاونٹس کیس میں درخواست ضمانت میں مزید توسیع مسترد کئے جانے کے بعد گرفتاری نے حالات کو نیا رخ دیدیا، واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے عید الفطر کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم یہاں عدالتی کارروائیوں اور نیب کی سرگرمیوں کو حکومتی پوزیشن سے جوڑنا مناسب نہ ہوگا۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے اگلے ہی روز یعنی آج حمزہ شہباز کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق عین ممکن ہے کہ سندھ سے بھی جلد اہم گرفتاریاں ہوں۔ اس کے علاوہ لندن میں خود ساختہ جلاوطن بانی متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کو اسکاٹ لینڈ یارڈ نے نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ الطاف حسین کی گرفتاری کا تعلق کرپشن کیس سے نہیں، البتہ محسوس یہ ہو رہا ہے کہ نیب نے کرپشن کیخلاف باقاعدہ طور پر آپریشن لانچ کر دیا ہے۔ ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا ہے کہ اس بات کے روشن امکانات ہیں کہ کسی اہم حکومتی شخصیت پر بھی نیب ہاتھ ڈالے اور وہ اہم شخصیت پرویز خٹک ہوسکتے ہیں۔
 
آصف زرداری کی گرفتاری کا سب سے بڑا اثر سندھ پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ کئی کیسز میں سندھ حکومت نیب سے بالکل تعاون نہیں کر رہی تھی، زرداری کی گرفتاری کے بعد سندھ حکومت نفسیاتی دباو میں خود کو محسوس کرے گی۔ حمزہ شہباز کی گرفتاری نے یقیناً نون لیگ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، ان اہم گرفتاریوں کے ردعمل میں اپوزیشن کی جانب سے کسی مضبوط اور موثر حکومت یا نیب مخالف تحریک کی توقع نہیں کی جاسکتی، کیونکہ عوام کو سڑکوں پر لانے کیلئے مضبوط موقف کی ضرورت ہوتی ہے، یہاں مسئلہ چوری کا ہے، اس کے علاوہ مقبول عوامی لیڈر کا ہونا بھی ضروری ہے، اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں کے پاس اس چیز کا فقدان ہے۔ علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمان اس صورتحال میں خود کو خاموش رکھنا ہی مناسب سمجھیں گے، کیونکہ وہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ پی پی یا نون لیگ کی حمایت کرکے وہ خود کو کسی مشکل میں ڈال لیں۔ اس ساری صورتحال میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا رول انتہائی اہم ہے۔ اگر کرپشن کیخلاف شروع کئے جانے والے اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے تو یقیناً نئے پاکستان کی جانب یہ اہم ترین قدم ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 799043
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب