0
Wednesday 12 Jun 2019 19:55

مسجد شیعہ یا سنی نہیں ہوتی

مسجد شیعہ یا سنی نہیں ہوتی
تحریر: شبیر احمد شگری

انقلاب اسلامی ایران کے دوران حضرت امام خمینی ؒ نے کیا خوبصورت جملہ فرمایا "مسجد مورچہ ہے، ان مورچوں کی حفاظت کیجئے۔'' کچھ عرصہ پہلے کسی صحافی کی تحریر پڑھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ تہران میں ایک بھی سنی مسجد نہیں۔ پڑھ کر بہت دکھ ہوا کہ اپنی کم علمی کے باعث انہوں نے ایسی بات کی۔ کاش کہ پہلے وہ تحقیق کرتے اور پھر اس بارے میں بات کرتے۔ اس سے پہلے بھی کچھ لوگوں سے یہ بات سن چکا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اس افواہ کی شکل میں ایک غلط پروپیگنڈا ایران کیخلاف پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے اور ایران کیخلاف یہ پروپیگنڈا صرف اسی مسئلے پر یا آج سے نہیں بلکہ جب سے انقلاب اسلامی ایران آیا ہے، اس وقت سے پھیلایا جا رہا ہے۔ اس لئے میں اپنی پیاری عوام خصوصاً صحافی دوستوں سے گزارش کروں گا کہ خدارا کسی بھی صورت کسی سازش کا شکار ہوتے ہوئے اس طرح کے کسی بھی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ حمایت میں یا مخالفت میں لکھیں، کیونکہ یہ ایک صحافی کا حق ہے، لیکن یہ ضرور گزارش کروں گا کہ تحقیق ضرور کریں، کیونکہ اچھی تحقیق آپ کو حقائق کی طرف لے جاتی ہے اور حقیقت جو بھی ہو، اسے آپ بیان کرسکتے ہیں۔

میری اس تحریر کو پڑھ کر آپ کو سو فیصد اس موضوع کے بارے میں معلومات مل جائیں گی، بلکہ اگر کسی کے دل میں یہ ابہام ہو کہ ایران میں سنی مساجد نہیں ہیں تو وہ بھی ختم ہو جائے گا، کیونکہ اس جھوٹے پروپیگنڈے میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ جب سے ایران میں انقلاب اسلامی آیا ہے، اس وقت سے دشمن خوفزدہ ہے کہ کہیں یہ مسلمان ایک نہ ہو جائیں، ورنہ ہماری دال روٹی کیسے چلے گی۔ کچھ شرپسند عناصر ایران کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایران میں اہلسنت مساجد نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر تہران میں اہلسنت مسجد نہیں، جو کہ شر انگیزی پھیلانے والی باتیں ہیں۔ میں ان سے یہ کہوں گا گہ ایران کے آئین اور عوام کے خیال میں مسجد شیعہ یا سنی کی نہیں بلکہ مسجد ہوتی ہے اور اللہ کا گھر ہوتی ہے۔ میری اس تحریر میں آپ یہ بھی جان سکیں گے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی میں مساجد کا ایک بڑا اور خوبصورت اسلامی کردار ہے۔ ایران میں ایسا سسٹم نہیں کہ کسی دوسرے مسلک کی مسجد میں جائیں تو اٹھا کر آپ کو باہر پھینک دیں گے اور مسجد کو پاک کرنا شروع کر دیں گے۔

نہیں یہ تو دور کی بات ہے بلکہ  اگر آپ ایران میں کہیں کھڑے ہوکر کسی کو شیعہ مسجد یا سنی مسجد کا پتہ پوچھیں گے تو سب سے پہلے وہ آپ کو اوپر سے نیچے تک اتنے غور سے دیکھے گا کہ شاید یہ کوئی خلا سے آئی ہوئی مخلوق ہے۔ پھر اندازہ کرتے ہوئے وہ آپ سے یہ سوال ضرور کرے گا کہ آپ ایران میں باہر سے تشریف لائے ہیں۔ بیشک ایران میں اہل تشیع افراد کی تعداد زیادہ ہے، جس طرح ہمارے ملک میں اہلسنت زیادہ ہیں۔ لیکن وہاں کا قانون اسلامی انقلاب کا مرہون منت ہے، جو کہ تمام مسلمانوں کیا غیر مسلموں کے حقوق کی بھی حفاظت کرتا ہے اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی ؒ کی خواہش اور کوششیں جو اسلامی وحدت کے حوالے سے تھیں، وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ان کی کوششیں اس معاملے میں بے مثال ہیں۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر امام خمینی ؒ نے امت مسلمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا "تم ہاتھ باندھ کر اور ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے پر جھگڑ رہے ہو، جبکہ دشمن تمھارے ہاتھ ہی کاٹ دینے کی فکر میں ہے۔" اسی طرح ایک اور موقع پر انہوں نے فرمایا "جو کوئی شیعہ یا سنی کے درمیان جھگڑے کی بات کرتا ہے، وہ نہ تو شیعہ ہے اور نہ ہی سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔"

یہ باتیں یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اچھی طرح سے جان لیں کہ جس انقلاب اور سسٹم کا بانی اس طرح کی باتیں کر رہا ہو، کیا اس کے اور اسلامی قوانین میں اس طرح کی اختلافی باتوں کی اہمیت رہ جاتی ہے۔؟ ایران کے آئین اور اسلامی قانون کے مطابق ایران میں مسجد تو ہر جگہ ہوتی ہے، لیکن مسجد شیعہ یا سنی کی نہیں ہوتی بلکہ علاقے کی اکثریت کے حساب سے شیعہ یا سنی اس مسجد کا امام ہوتا ہے اور اس کے پیچھے تمام شیعہ اور سنی مسلمان اکٹھے نماز پڑھتے ہیں۔ یعنی جس علاقے میں شیعہ اکثریت ہوگی، وہاں ایک ہی مسجد ہوگی اور امام مسجد شیعہ ہوگا۔ لیکن شیعہ سنی سب مسلمان اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور اسی طرح سنی اکثریتی علاقے میں بھی اسی طرح  کا سسٹم رائج ہوگا کہ ایک ہی مسجد میں سنی امام مسجد ہوگا اور تمام مسلمان اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

ذرا آپ تصور کریں کہ اگر پورا معاشرہ ایسا ہو جائے کہ کوئی ہاتھ باندھے اور کوئی ہاتھ کھول کر سب اکٹھے نماز پڑھ رہیں ہوں تو کیا وحدت اور بھائی چارے کا سماں ہوگا۔؟ ایک دوسرے کے ساتھ کتنی محبت پیدا ہو جائے گی۔ نمازی چاہے کسی مسلک سے ہو، ایک دوسرے کے ذاتی اور علاقے کے مسائل و مشکلات سب سے ہر کوئی آگاہ ہوگا اور معاشرے میں خود بخود خوبصورتی پیدا ہو جائے گی۔ مسجد کا ایک اصل اسلامی پہلو یہ بھی تھا، لیکن مسالک اور فرقوں میں بٹنے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے گئے۔ جس کی وجہ سے بے شمار مسائل اور مشکلات نے جنم لیا۔ تاریخی نقطۂ نظر سے مذہب انسانوں کی معاشرتی زندگی کیساتھ بالکل ملا ہوا رہا ہے۔ ایک سماجی فطرت ہونے کی حیثیت سے مذہب قدرت کا ایسا مظہر ہے، جو زندگی کو مفہوم و معنیٰ بخشتا ہے۔ علاوہ ازیں مذہب تمام معاشروں میں فرض منصبی اور قانونی بنیاد رکھتا ہے، اس تعریف کے ساتھ مذہب الگ سے کوئی وجود نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی وہ اپنے وجود کو دوام دے سکتا ہے، مگر یہ کہ زندگی کے دوسرے شعبوں سے اس کا تعلق رہے اور یہ معاشرہ کے سماجی روابط کی شکل میں معاشرے کے ساتھ ملحق رہے۔

اگر ہم اسلامی جمہوری ایران کے آئین کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ حقوق کے علاوہ تمام اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کیلئے کچھ مزید امتیازات کی بھی رعایت کی گئی ہے، جو حسب ذیل ہیں:
الف۔ آئین کی دفعہ نمبر 20 کے مطابق سیاسی جماعتیں، جمعیتیں، سیاسی انجمنیں اور صنفی اور اسلامی انجمنیں تشکیل دینے کی آزادی۔
ب۔ آئین کی دفعہ نمبر 64 کے مطابق مجلس شوریٰ اسلامی (پارلیمنٹ) کا نمایندہ بننے کا حق۔
ج۔ آئین کی دفعہ نمبر 19 اور 20 کے مطابق اسلامی تعلیمات کی رعایت کرتے ہوئے تمام انسانی، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق میں ملک کے سب باشندوں کا مساوی ہونا۔
ایران میں بیشک اہل تشیع  مسلک کی تعداد زیادہ ہے، لیکن ایران میں اہل سنت مسلک کے لوگ اکثر صوبہ سیستان و بلوچیستان، صوبہ کردستان، صوبہ مغربی آذر بائیجان، صوبہ خراسان رضوی، صوبہ شمالی خراسان، صوبہ جنوبی خراسان، صوبہ بوشہر، صوبہ فارس کے جنوب میں اور صوبہ گلستان کے مشرق میں رہائش پذیر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ایک قلیل تعداد صوبہ گیلان اور بعض دوسرے صوبوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ملک کے مشرقی صوبہ سیستان و بلوچستان میں ہمارے اکثر سنی بھائی حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ صوبہ سیستان و بلوچستان کے زاہدان، چابہار، ایران شہر، خاش، سراوان، سرباز اور کنارک نامی شہروں میں اکثر اہلسنت رہتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے اہلسنت کی آبادی والا دوسرے نمبر کا حامل صوبہ ایران کے مغرب میں عراق کی سرحد سے ملحق صوبہ کردستان ہے، اس صوبہ میں رہنے والے اکثر اہل سنت شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس صوبہ کے سندج، سردشت، مریوان، بانہ اور نقدہ نامی شہروں میں ہمارے اکثر سنی بھائی رہتے ہیں۔

ایران کی مغربی سرحد پر عراق اور ترکیہ سے ملحق مغربی آذر بائیجان کے صوبہ کے شہر مہاباد اور اشنویہ میں بھی بعض اہل سنت بھائی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایران کے ترکمن اہل سنت ایران کے شمال مشرقی صوبہ گلستان کے بندر ترکمن نامی شہر میں رہتے ہیں۔ اس صوبہ میں اکثر اہلسنت ترکمن ہیں۔ ایران میں ستر ہزار سے زائد مساجد ہیں۔ جس میں سے دس ہزار سے زائد اہلسنت اکثریتی علاقوں کی مساجد ہیں۔ ایک اور مزے کی بات آپ کو بتاوں، جو شاید آپ کے علم میں اضافے کا سبب بنے کہ ایران کے مذہبی شہر قم میں پوری دنیا سے تمام مسالک کے لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، کیونکہ قم بہت بڑا علمی مرکز ہے، یہاں پر مسلمانوں کی چاروں فقہ پڑھائی جاتی ہیں اور یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ ایران میں صحیح اسلامی طرز کا قانون اور ماحول ہے اور کھلے دل سے تمام مسالک کا احترام کیا جاتا ہے۔

جس طرح کے ایران اور اسلام کے دشمن افراد ایران کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں اور اس پروپیگنڈے کا جواب میں ہم انقلاب اسلامی کے بانی حضرت امام خمینی ؒ جو کہ مسلک کے لحاظ سے ایک شیعہ عالم تھے، لیکن ہم ان  کے اس فرمان کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ ”اسلام میں شیعوں اور اہل سنت کے درمیان بالکل کوئی فرق نہیں اور شیعوں اور اہلسنت کے درمیان فرق ہونا بھی نہیں چاہیئے، ہمیں اتحاد و یکجہتی کا تحفظ کرنا چاہیئے، ہم ان کے بھائی ہیں اور وہ ہمارے بھائی ہیں۔" اب بتائیں اس کے بعد کیا کسر رہ جاتی ہے۔ ایران کی اب تک کی کامیابی کا راز ہی یہی ہے اور وہ پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود اسی لئے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہے کہ اس نے صحیح معنوں میں اسلامی اقدار کو اپنا لیا ہے اور وہ دشمن کی سازشوں کا شکار نہیں ہوتے۔

وہ شیعہ، سنی، وہابی اور دیگر فرقوں اور گروہوں میں بانٹنے والی سازش کا شکار نہیں ہوتے اور ایک بن کر ڈٹے ہوئے ہیں اور اسی لئے دشمن سب سے زیادہ ایران سے ہی ڈرتا ہے، کیونکہ نہ وہ بکتا ہے، نہ جھکتا ہے۔ کیونکہ اللہ کا حکم ہمارے لئے واضح ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ کاش کہ تمام امت مسلمہ اسی طرح ایک لڑی میں پرو جائے اور مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ بات انقلاب اسلامی کی ہو رہی ہے تو آپ کو اس حوالے سے بھی بتائیں کہ انقلاب اسلامی کیلئے مساجد کا کیا کردار رہا ہے، تو آپ کو نہ صرف اسلام کے اس انقلاب بلکہ مساجد کی بھی ایک خوبصورت شکل نظر آئے گی، کیونکہ عین ممکن ہے آج تمام دنیا کے مسلمانوں نے اسلامی جمہوری ایران کے سسٹم کو اس نظر سے دیکھنے کی کوشش نہ کی ہو۔

ایران کے اسلامی انقلاب میں مسجدوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مذہب کا دوسرے سماجی شعبوں سے رابطہ قائم کریں اور مذہب کو معاشرہ کے سماجی روابطہ میں رائج کریں۔ دوسری طرف مسجدیں سیاست کا مذہب کیساتھ رابطہ قائم کرنے اور اس رابطہ کا جواز پیش کرنے میں بھی کوشاں ہیں، کیونکہ سیاست بھی انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک حصہ ہے اور یہ مظہر خود بخود وجود میں نہیں آسکتا اور نہ ہی اپنے وجود کو قائم رکھ سکتا ہے، لیکن مذہب سے ان کا رابطہ برقرار کرکے سیاست کے وجود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے کیونکہ سیاسی امور کو مذہبی رنگ ملنے سے قانونی و معنوی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سیاسی مقاصد کو اخلاقی اصولوں پر پورا اترنا چاہیئے۔

انقلاب کے بعد ایران میں مذہب اور سیاست ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں اور اس میدان میں مسجدوں کا کردار بڑا واضح ہے۔ صرف یہی کہنا کافی ہے کہ پہلوی حکومت کے زوال کے نتیجہ میں ملک کے نظم و نسق میں جو خلا پیدا ہوگیا تھا، اسے مسجدوں میں قائم کردہ کمییٹیوں نے پُر کر دیا اور بھی کمیٹیاں بعد میں انقلابی تنظیموں کی شکل اختیار کر گئیں اور مسجدیں آزادی ملنے کے سبب فوجی، سیاسی و نظریاتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئیں اور عوام کی ضروریات پوری کرنے لگیں۔ انقلاب کے دوران بانی انقلاب اسلامی نے کیا خوبصورت جملہ کہا۔ "مسجد مورچہ ہے، ان مورچوں کی حفاظت کیجئے۔'' اسلامی انقلاب سے پیشتر ایران میں مسجدوں کا کام نماز کی ادائیگی کے علاوہ وعظ کرنا، کتابیں جاری کرنا اور بلا سود قرضے فراہم کرنے سے متعلق تھا اور عورتیں اور مرد مختلف اوقات میں ان سے استفادہ کرتے تھے، لیکن انقلاب کے وقت اور انقلاب کے بعد مساجد نے روز بروز نئی نئی ذمہ داریاں اور سرگرمیاں اپنے ذمہ لے لیں۔ مثلاً مسجدوں نے عوام سے مالی امداد جمع کرکے شہیدوں کے خاندانوں اور غریب و مستحق لوگوں میں تقسیم کی۔ بلا سود قرضے دینے والے بنکوں کی روایتی شکل تبدیل کر دی گئی اور مالی امداد کو انقلاب کی ضروریات کیلئے مختص کر دیا گیا۔

اس طرح انقلاب کے نتیجہ میں عوام کو پیش آنیوالی اقتصادی مشکلات کو مسجدوں نے براہ راست حل کیا۔ مسجدوں نے موسم سرما میں ہر محلہ کے مکینوں میں براہ راست مٹی کا تیل تقسیم کیا اور ان کو تیل کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔ مسجدیں اسلامی محافظ و مجاہد اور فوجی ساز و سامان جمع کرنیوالی چھاونیاں بن گئیں، مسجدوں میں ہی محافظوں کیلئے خورد و نوش اور دیگر سہولیات کا اہتمام کیا گیا اور آہستہ آہستہ انقلابی کمیٹیوں نے مسجدوں میں جگہ پالی۔ انقلاب کے وقت طاقت کے فقدان نے جو کچھ مٹا دیا تھا، اس نے انقلابی معاشرہ کے لئے امن و امان کے تحفظ کا مسئلہ پیدا کر دیا۔ مسجدوں میں قائم کمیٹیوں نے اپنی انقلابی توانائیاں یکجا کرکے انقلاب دشمن عناصر سے عملی طور پر نمٹنے کا انتظام کیا۔ مسجدیں فن حرب اور اسلحہ کی تربیت گاہ بن گئیں۔ مختلف مسجدوں میں کتابوں، کیسٹوں، پٹینگز، تصویروں اور سلائیڈوں کی نمائشیں منعقد کی گئیں۔ شاہی حکومت کے خلاف انقلابی تقریریں، آزاد بحث، جلسے اور حالات حاضرہ کا تجزیہ مسجدوں ہی میں پیش کیا گیا۔

مسجدیں مسلمانوں کی مشکلات کی عقدہ کشائی کی آماجگاہ بن گئیں۔ انقلاب کی کامیابی سے پیشتر کوڑا کرکٹ جمع کرنے کا کام جو بلدیہ کے ذریعے انجام پاتا تھا، بلدیہ کے کارکنوں کی ہڑتال کے باعث مسجدوں پر پڑا اور ہر محلہ میں عوام نے مسجدوں کی وساطت سے اس ضرورت کو پورا کیا۔ مسجدوں نے عوام کے خاندانی اختلافات اور قانونی مسائل کو حل کیا۔ انقلاب کے دوران میں مسجدوں نے دوائیں، روئی، ڈاکٹری اور دوا سازی کے آلات جمع کئے اور ان کو ہسپتالوں کے حوالے کیا۔ مختصر یہ کہ مسجدوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کے دوران میں حکومت کے فرض منصبی کے مانند کام انجام دیئے، لیکن مسجد کے کام کا طریقہ مرکزیت کے نظام سے ہٹ کر تھا۔ اگرچہ مسجدوں کو سرکاری اداروں کی سی سہولتیں حاصل نہ تھیں، لیکن کسی حد تک ایک مسجد میں انجام پانیوالے کام دوسری مسجدوں سے ہم آہنگ تھے اور اپنے علاقہ سے رابطہ رکھ کر ہر مسجد کام کی شکل، نوعیت اور سہولتوں کے اعتبار سے خود کفیل تھی اور تقریباً آزاد و خود مختار ہوکر کام کرتی تھی اور محلہ کے مکینوں کی مدد سے عوام کی ضروریات پوری کرتی اور مشکلات دور کرتی تھی۔

تہران کے مشرقی علاقہ میں کام کاج کے مرکز کی حیثیت سے جو مسجد خوب کام کر رہی تھی، وہ مسجد مسلم بن عقیل تھی۔ زیادہ تر کوشش یہ ہوتی تھی کہ اچھے قسم کے علماء، مبلغین اور واعظین کو دعوت دی جائے۔ چنانچہ وہ آتے اور عوام کے مسائل کو بڑی وضاحت کیساتھ زیر غور لاتے اور امام خمینیؒ کے پیغامات کو بڑے واضح انداز میں عوام کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ایسے اشخاص کو مسجد میں تقریر کی دعوت دی جاتی تھی، جو منبر پر بیٹھ کر امام خمینیؒ کے بیانات کو شروع سے لے کر آخر تک ایک لفظ بھی کم کئے بغیر بیان کرتے تھے۔ اس وقت کے حالات میں یہ بڑا خطرناک کام تھا اور شاہ کی پولیس مسجد کو ہمیشہ گھیرے رکھتی تھی۔ خفیہ پولیس ساواک کی بھی اس مسجد پر کڑی نظری تھی اور مقررین جن کو دعوت دی جاتی تھی، ان کی بھی سخت نگرانی کی جاتی تھی۔ بہرحال مسجد کی سرگرمی اور اس کے فعال عمل میں ان چیزوں سے کوئی خلل نہ پڑا۔ فضائیہ کے باایمان جوانوں نے مسجد اور گھروں سے برابر اپنا رابطہ قائم رکھا اور خفیہ طور پر ملاقاتیں بھی کیں۔

 لائبریری، عربی درس کی کلاسوں، قرآن مجید کی تفسیر، اخلاق و اصول عقائد کے پروگرام مسجد میں اس وقت سے جاری تھے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی دین مقدس اسلام کی تبلیغ ترویج کے پروگرام اسی طرح جاری ہیں۔ اس مسجد کے علاوہ علاقہ کا مرکزی دفتر بھی ایسی ہی سرگرمی کا مرکز تھا اور انقلاب اسلامی اور عوامی املاک کی حفاظت کے سلسلے میں پاسداران انقلاب (انقلابی محافظین) بڑے سرگرم عمل تھے، انقلاب کے شروع میں علاقہ میں پاسداروں کی تعداد سولہ سو  کے قریب تھی۔ مسلط شدہ جنگ کے بعد مسجد کا بھی ایک کام عوام سے چندہ اکٹھا کرنا رہا۔ مختلف علاقوں کے لوگ کمبل لیمپ، لباس جیسی اشیا سے جو مدد کرتے وہ مسجدوں میں جمع کی جاتی ہیں اور وہاں سے ان چیزوں کو جنگی علاقوں میں بھیج دیا جاتا اور جن اشیا کو بھیجنے کیلئے مسجد کے پاس معقول انتظام نہیں ہوتا، وہ امام کی امدادی کمیٹی کو بھیج دی جاتی ہیں، تاکہ کمیٹی ان کو جنگی علاقوں میں پہنچانے کا انتظام کرے۔

کم آمدنی والے افراد کی ضرورت پوری کرنے کیلئے مسجد کے بالمقابل ایک عمارت میں بلا سود قرضہ جاری کرنے کا دفتر قائم کیا گیا۔ ابتدا میں شادی کے اخراجات، گھروں کی مرمت، بیماری، وغیرہ اور کام شروع کرنے کیلئے قرضہ دیا جاتا تھا۔ مسجد میں فوجی اور اسلامی تعلیمات کی کلاسوں کا بھی اہتمام تھا۔ آٹھ سے چودہ سال کے بچوں اور نوجوانوں کو دعوت دی گئی کہ مذکورہ کلاسوں سے استفادہ کریں۔ مسجد کی انجمن اسلامی، مومن اور مکتبی مقررین کو دعوت دیتی، تاکہ وہ عوام کو اسلام اور دین سے آشنا کریں۔ اس لحاظ سے تمام مسجدیں ایک ہوکر عوام کے اجتماع، بحث و گفتگو اور تبادلہ خیالات اور جنگ آزما توانائیوں کی ہم آہنگی کا مرکز بن گئیں اور اپنی اولین صورت اختیار کر گئیں اور حسینیہ اور مہدیہ جسے امام باڑے بھی مسجدوں کی طرح فعال ہوگئے۔ شاہی حکومت کے خاتمہ کے بعد مسجدوں میں عوامی اور انقلابی قوتوں کے اکٹھا ہو جانے کی وجہ سے ان کو حکومت کی مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی اور اسلامی جمہوریہ کی اولین بنیاد کے طور پر کام کرنے لگیں۔ اکثر مسجدوں کو انقلابی کمیٹیوں اور مسلح انقلابی افراد نے اپنا مورچہ بنا لیا اور وہاں سے انقلاب دشمن افراد کا مقابلہ اور امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے لگے۔

استصواب رائے کے انعقاد کے دنوں میں ایران کے اکثر علاقوں میں مسجدوں ہی میں رائے دہی کے صندوق رکھے گئے۔ انقلاب اور اسلام سے متعلق فلم اور سلائیڈ اور کتابوں وغیرہ کی نمائش اور ایسی ہی ثقافتی سرگرمیاں تھیں، جن کا اہتمام مسجدوں میں کیا گیا۔ اسکاوٹس کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بھی مسجدیں تھیں اور یہیں سے اسکاوٹس کے مختلف دستوں کو دینی، اخلاقی، فنی تربیت اور مہارت کے پروگرام مرتب کرنے میں مدد ملی۔ اسلام میں موجود ایک اہم ترین روایت یعنی عدل کی روایت آخری دور میں مسجدوں میں زندہ ہوگئی۔ ایران پر عراق کی مسلط جنگ میں بھی مسجدیں جنگ زدہ شہروں کے عوام کی پناہ گاہ اور اشیائے خوردنی کے جمع کرنے کامرکز بن گئیں۔ صدام کی حکومت نے انسانیت کے برخلاف ایران کی مسجدوں اور ہسپتالوں پر بھی بمباری کی، لیکن آخری اور مضبوط ترین جگہ جو جارح فوجوں کے ہاتھ آئی یہی مسجدیں تھیں، کیوں کہ یہ معنوی اور مادی رشتہ قائم رکھے ہوئے تھیں اور زندگی کے نئے دور کا نمونہ تھیں۔

ایران میں مسجدیں، مذہبی، سیاسی، امدادی، تربیتی، فوجی اور عدلیہ جیسی گوناگوں سرگرمیوں کا مرکز ہیں اور یہ خود ایسی علامت ہے کہ مسجد ایک سماجی و ثقافتی ادارہ کی حیثیت سے معاشرہ سے گہرے روابطہ اور عوام سے اتحاد و ارتباط کی صلاحیت رکھتی ہے اور آج کی دنیا ایران اور اسلام میں اپنی موجودگی کا ثبوت دے سکتی ہے۔ اس لحاظ سے اہل فکر و نظر کے خیال کے مطابق بہتر ہے کہ اسلامی مسائل کو چوٹی کے مسائل قرار دے کر انہیں مسجدوں میں آزادانہ تقریر، تبادلۂ خیالات اور بحث و مباحثے کے ذریعے حل کیا جائے۔ حتیٰ کہ اسلام کے مخالفین کو بھی ان میں شریک ہونے کی اجازت ہونی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 799191
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے