0
Wednesday 12 Jun 2019 23:46

دینی معارف میں دھوکہ دہی

دینی معارف میں دھوکہ دہی
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

دھوکہ صرف دنیاوی معاملات میں نہیں ہوتا، بلکہ دینی معارف میں بھی دھوکہ کیا جاتا ہے، مثلاً بعض لوگ مختلف حربوں سے مسلمانوں کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو بھی رازق، رب، مالک اور۔۔۔ کہا جا سکتا ہے، اس کے لئے وہ مختلف دلائل گھڑتے ہیں، مثلاً سورہ نساء کی آیت نمبر 65 کو بھی پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس آیت میں صاحبانِ ایمان کو اللہ، رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لہذا اس اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اللہ  تعالیٰ رازق، خالق، رب اور مالک ہے، اسی طرح رسولﷺ اور اولی الامر بھی رازق، خالق، رب اور مالک ہیں۔ آیت ملاحظہ فرمائیے: "یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الأَمْرِ مِنْکمْ" (النساء: ۵۹) "اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اولی الامر کی۔"

اسی طرح وہ لوگ سورہ یوسفؑ کی آیت نمبر 23 کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ دیکھو اس سورہ میں حضرت یوسف ؑ نے غیر خدا کو رب کہا ہے، لہذا تم بھی کہو۔ ہم یہاں پر سورہ یوسف کی آیت 23 بھی قارئین کی سہولت کے لئے پیش کر دیتے ہیں: "وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ" ﴿23﴾ "اور جس عورت کے گھر میں تھا، وہ اسے پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور کہنے لگی لو آؤ، اس نے کہا اللہ کی پناہ، وہ تو میرا آقا ہے، جس نے مجھے عزت سے رکھا ہے، بے شک ظالم نجات نہیں پاتے۔" اب سب سے پہلے ان لوگوں سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیئے کہ کیا مذکورہ بالا آیات کو اللہ کے رسولﷺاور چودہ معصومین ؑ سے بڑھ کر کوئی سمجھ سکتا ہے؟ جب انہوں نے ان آیات کی روشنی میں اپنے آپ کو رب، خالق۔۔۔ وغیرہ نہیں کہا تو پھر کیا کوئی اور ان سے زیادہ قرآن کو سمجھتا ہے، جو یہ کہتا ہے کہ معصومین ؑ نعوذ باللہ رب اور خالق وغیرہ وغیرہ ہیں!؟

اس سوال کے بعد آیئے ان دونوں آیات پر ایک مختصر مگر جامع تحقیقی نگاہ ڈالتے ہیں اور مذکورہ آیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں: سورہ یوسفؑ کی آیت نمبر 23 میں کلمہ أَطِیعُوا دو مرتبہ آیا ہے۔ ایک مرتبہ: یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللهَ اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی پھر والرّسول نہیں کہا گیا، یعنی یہ نہیں کہا گیا کہ اطاعت کرو اللہ اور رسول کی بلکہ رسول کی اطاعت کو الگ کیا گیا اور اس طرح ذکر کیا گیا وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ اور اطاعت کرو رسول کی۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اللہ وہ ہے، جس کی سب اطاعت کرتے ہیں اور رسول بھی اللہ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں، لہذا اللہ کی اطاعت کے بعد رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم الگ سے دیا گیا، اب رسولﷺ کی اطاعت کا حکم بھی اللہ کی طرف سے ہے، لہذا وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ کے شروع میں جو واو ہے یہ عاطفہ ہے، یہ بتاتی ہے کہ چونکہ اللہ نے اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، لہذا جو رسول کی اطاعت ہے وہ بھی اللہ کی اطاعت ہے۔

جیسا کہ سورہ نساء آیت چونسٹھ میں ارشاد پروردگار ہے: "و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللّه" "اور ہم نے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔" پس رسول کی اطاعت اس لئے ہے کہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ کے حکم سے جو بھی اطاعت ہوگی، وہ اللہ کی ہی اطاعت کہلائے گی۔ اب توجہ فرمایئے: "یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ" کے بعد پھر الگ سے اولی الامر کے لئے اطیعوا کا حکم نہیں آیا بلکہ براہِ راست وَأُولِی الأَمْرِ مِنْکمْ کہا گیا ہے، یعنی پہلے اللہ کی اطاعت الگ کی گئی پھر رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا اور پھر اطیعوا کہہ کر اولی الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت سے جدا نہیں کیا گیا، بلکہ  اولی الامر اور رسول کی اطاعت کو اکٹھا بیان کیا گیا جبکہ اللہ کی اطاعت کے لئے الگ سے اطیعوا  لایا گیا۔ پس چونکہ اللہ کی اطاعت رسولﷺ اور امام بھی کرتے ہیں، اس لئے اسے الگ لایا گیا اور رسول اور اولی الامر کی اطاعت کو اکٹھا بیان کیا گیا۔ یاد رہے کہ اگر اللہ اپنے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم نہ دیتا تو یہ اطاعت واجب ہی نہ ہوتی، چونکہ اللہ نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے، اس لئے یہ اطاعت اللہ کی ہی اطاعت ہے۔

اب آیئے سورہ یوسفؑ کی آیت نمبر  23 کی طرف، سادہ لوح، کم پڑھے لکھے اور یا پھر بالکل ہی ان پڑھ لوگوں کو یہ کہہ کر ان سے فراڈ کیا جاتا ہے کہ دیکھیئے قرآن مجید میں حضرت یوسفؑ نے اپنے بادشاہ کو ربّ کہا ہے، لہذا آپ بھی کسی غیر خدا کو مثلاً اپنے اماموں کو ربّ کہیں۔ ایسے افراد نے اگر تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا اور تحقیق سے ان کا سروکار ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ صرف حضرت یوسفؑ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ظہورِ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں آقا، مالک اور بادشاہ کو ربّ کہنا عام تھا، جیسا کہ حضرت عبدالمطلبؑ نے بھی ابرہہ سے کہا تھا کہ أنا رب الابلْ و ان للبیت ربّاً سیمنعه: میں اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا بھی مالک ہے، جو اس کا دفاع کرے گا۔ ظہورِ اسلام کے بعد  کلمہ ربّ صرف اللہ کی ذات سے مخصوص ہوگیا اور نبی اکرمﷺ اور کسی بھی معصوم ؑ نے اپنے لئے یا کسی دوسرے معصوم کے لئے اس کلمے کو استعمال نہیں کیا۔

تعلیم و تحقیق سے شغف رکھنے والے حضرات کے لئے عرض ہے کہ ایسے کلمات جو ایک سے زیادہ معانی رکھتے ہوں اور مرورِ زمان کے ساتھ کسی نئے معنی سے مخصوص ہو جائیں اور ان کے نئے اور پرانے معنی میں ایک ربط قائم رہے، انہیں علم منطق میں منقول کہتے ہیں، جیسے  کلمہ الصلاة پہلے دعا کے معنی میں تھا، بعد میں نماز کے لئے مخصوص ہوگیا۔ پس ظہورِ اسلام کے بعد کلمہ رب، اللہ کی ذات سے مخصوص ہے، چنانچہ ہمارے نبیﷺ اور ان کے معصوم جانشینوں نے کبھی اپنے آپ کو ربّ نہیں کہا اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ غالی اور مشرک ہیں۔
نتیجہ:
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور ان کے معصوم جانشین ہمارے لئے حجت ہیں اور ان کی اطاعت اس لئے کی جاتی ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور معصومینؑ کو جو بھی مقام و مرتبہ ملا ہے، وہ اس لئے ملا ہے چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مطیع، فرمانبردار اور عبد ہیں۔ وہ پورے قرآن مجید پر عمل کرکے ہمیں بتا گئے ہیں کہ خالق، مالک، رازق، رب۔۔۔ فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ان کے بعد جو شخص بھی قرآن مجید کی آیات پر اپنی پسند کے چٹکلے تھونپتا ہے، وہ معصومینؑ کی مخالفت کا مرتکب ہوتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 799228
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب