0
Thursday 13 Jun 2019 00:22

سعودی عرب اور ظلم کی نت نئی داستانیں!

سعودی عرب اور ظلم کی نت نئی داستانیں!
تحریر: محمد حسن جمالی
 
آئے روز سعودی عرب کے ظلم و ستم کی نت نئi داستانیں سن کر امت مسلمہ کا دل چھلنی اور آنکھیں خون کے آنسووں سے نم ہیں۔ بظاہر اس ملک پر قابض حکمران سعودی عرب مسلمانوں کا مرکز ہونے کے دعویدار ہیں، مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ کافر ملکوں سے بھی بدتر ہے، کیوں؟ اس لئے کہ اس ملک میں انسانیت غلامی کا شکار ہے، اس کے باشندے ہر طرح کی آزادی سے محروم ہیں، انہیں نہ اظہار رائے کی آزادی ہے اور نہ ہی نظام مملکت پر کسی قسم کی تنقید اور اعتراض کی اجازت، اس ملک میں رہنے والے نہ کھل کر اپنی مذہبی رسومات پر عمل کرسکتے ہیں اور نہ ہی سیاسی اور اجتماعی معاملات میں مداخلت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ ملک نہ احترام انسانیت کا قائل ہے اور نہ ہی قوانین اسلام کا پابند۔ خلاصہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں اسلام کا نام ہی رہ گیا ہے، خادم الحرمین کے دعویدار اسلام کے ساتھ وہ کھیل کھیلے جا رہے ہیں، جو بنی امیہ اور بنی عباسیہ کی سلطنت کے سیاہ ادوار کی یاد تازہ کر رہے ہیں، وہ سارے مظالم جو ان کی شناخت اور پہچان کے طور پر  تاریخ میں ثبت و ضبط ہوئے ہیں، ایک ایک کرکے آل سعود اور ان کے ہم نوالے تکرار کرکے سیاہ تاریخ رقم کرتے جا رہے ہیں۔
 
 تاریخ کا مطالعہ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ بنی امیہ کی حکومت تقریباً ستر برس پر مشتمل رہی، اس پورے عرصے میں اسلام کے حیات بخش قوانین اور دستورات پر ظلمت اور تاریکی کا سایہ چھایا رہا، بنی امیہ کے خلفاء نے اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کیا، دین کا حلیہ بگاڑنے میں ایک سے بڑھ کر ایک نے کردار ادا کیا، اپنی خواہشات کے مطابق آئین اسلام میں تحریف کر ڈالی، نص قرآن سے ٹکرانے والی بے شمار روایات میں جعل کروائی، انہیں پیغمبر سے منسوب کروانے میں جعلی راویوں کا سہارا لیا، منصب سلطنت کی طاقت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے خلفاء امویہ نے اپنے کارندوں کے ذریعے طرح طرح کی بدعتوں کو معاشرے میں عام کروانے کے لئے خوب سرمایہ خرچ کیا۔ مختصر یہ کہ اموی خلفاء کے سیاہ ادوار میں ہر قسم کا ظلم و ستم جائز تھا۔

ایک محقق کے بقول اس دور کو ایک ڈکٹیٹر شپ کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا، اسلامی حکومت کا اس پر صرف ایک لیبل تھاـ آج آل سعود بھی ہو بہو خلفاء بنو امیہ و بنو عباسیہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، آل سعود کی جنایات سے یوں تو تاریخ بھری پڑی ہے، سرفہرست قبرستان بقیع پر حملہ کرنا ہے، پہلی بار 1220 ہجری قمری اور دوسری مرتبہ 8 شوال 1344 ہجری قمری میں آل سعود نے قبرستان بقیع کو نشانہ بنایا، جبکہ یہ کوئی عام لوگوں کا قبرستان نہیں تھا بلکہ دختر لخت جگر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا سمیت آپ (ص) کی سب سے قریبی باعظمت شخصیات جیسے حضرت امام حسن علیہ السلام، امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت امام باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام وہاں مدفون ہیں۔ اس کے باوجود نسل یہود نے اسے مسمار کیا اور آج تک بالواسطہ یا بلاواسطہ آل سعود کے مظالم کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔
 
 سنہ 61 ھ میں یزید اور اس کے خاندان نے کربلا کو مقدس ہسیوں کا مقتل گاہ بنایا اور آج آل سعود نے یمن کو کربلا بنایا ہوا ہے، وہاں ابوسفیان کے خاندان سے تعلق رکھنے والوں نے چھے ماہ کے ننھے مجاہد علی اصغر تک پر رحم نہیں کیا اور کربلائے یمن میں بھی آل سعود کے نمک خوار چھوٹے چھوٹے بچوں کو ذبح اور قتل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لئے جا رہے ہیں۔ کربلا میں ناموس کا ہتک حرمت کیا اور آج یمن کے اندر بھی سعودی افواج کے ہاتھوں عورتوں کی عزت اور احترام محفوظ نہیں، وہاں یزید پلید کی منطق یہ تھی کہ بشریت کی ہدایت کے لئے نہ کوئی قرآن آیا ہے اور نہ وحی آئی ہے، یہ بنی ہاشم کا ڈھونگ کھیل اور تماشا ہے۔ ویسے ہی آل سعود نے اس منطق کو حرز جان بنایا ہوا ہے کہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے خانہ کعبہ پر قابض رہ کر خادم الحرمین کے لقب سے مشہور رہنا کافی ہے اور مادی مفادات کے حصول کے لئے عملی زندگی میں کفار کی گود میں بیٹھ کر ان کے ناپاک اہداف کی تکمیل کے لئے مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

اسی بے بنیاد منطق کے بل بوتے پر  چار سال قبل امریکہ کے اشارے پر سعودی عرب نے یمن پر جنگ مسلط کی اور آج تک یہ آگ خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہی، جس کے نتیجے میں یمن کے سارے اہم مقامات کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے، وسیع پیمانے پر مالی اور جانی نقصانات ہوئے، ایک اطلاع کے مطابق پچاسی ہزار سے زیادہ فقط بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں، اس کے علاوہ لاتعداد بے گناہ مردوں اور عورتوں کو بموں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ سعودی عرب نے آیت اللہ نمر اور معروف قلمکار جمال قاشقچی سمیت ہزاروں افراد کو آل سعود کے مظالم کے خلاف آواز حق بلند کرنے کے جرم میں شھید کر دیا۔ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب کے دسترخوان پر پلنے والے اسلام کے ماتھے پر بدنما داغ مفتیوں نے دس سالہ نابالغ بچے مرتجی القریریص کو بھی سزائے موت سنا کر انسان دشمنی کا ثبوت پیش کیا، اس بچے کا تعلق قطیف سے تھا۔

جس  پر الزام تھا کہ اس نے سائیکل پر اپنے 30 ساتھی بچوں کے ساتھ حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی ہے، یہ مظاہرے 2011ء میں کئے گئے تھے، اس کے علاوہ اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ یہ دہشتگرد تنظیم کا حصہ ہے، یہ سعودی عرب کے مظالم کی نت نئی داستانوں کے کچھ نمونے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے قلمکار اور کالم نگار دوستوں کو سعودی عرب کے جرائم و جنایات کیوں دکھائی نہیں دیتیں؟ انہیں آل سعود کے ظلم و ستم کی چکی میں پسے ہوئے مظلوموں کے دفاع میں قلم اٹھانے کی توفیق کیوں نہیں ہوتی؟ کیا نابالغ بچے کو سزائے موت دینا انسانیت کی تذلیل نہیں؟ کیا دس سالہ نوجوان کو مجرم قرار دے سزائے موت دلوانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں؟ کیا قلمی طاقت کا درست استعمال مظلوم کی حمایت میں لکھنا نہیں؟ کیا آل سعود کے جرائم پر نوک قلم کو جنبش نہ دینا خیانت نہیں؟ اور ہزاروں سوالات۔۔۔۔۔ غور کیجئے گا۔
خبر کا کوڈ : 799235
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب