0
Saturday 15 Jun 2019 13:03

سندھ کا 12 کھرب 17 ارب روپے کا بغیر خسارے کا بجٹ

سندھ کا 12 کھرب 17 ارب روپے کا بغیر خسارے کا بجٹ
رپورٹ: ایس حیدر

سندھ حکومت نے نئے مالی سال 20-2019ء کے لیے 12 کھرب 17 ارب 89 کروڑ 79  لاکھ روپے کا بغیر خسارے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ اخراجات کا تخمینہ 12 کھرب 17 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت سے صوبے کو 835 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے محصولات کا ہدف 355 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت سندھ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 15 فیصد ایڈہاک اضافے اور محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت 17ہزار 500 روپے مقرر کرنے اور محکمہ پولیس میں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ میں غربت میں کمی کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے انتخابی وعدے کے مطابق ”پیپلز پرومس پروگرام“ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم صحت اور امن و امان کے شعبوں اور سماجی ترقی کواولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ روز جمعہ کو آئندہ مالی سال 20-2019ء کے لئے صوبے کا بجٹ میزانیہ سندھ اسمبلی میں پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ میں، سندھ کو فیڈرل ٹرانسفرز کے حساب سے صرف 492.135 بلین روپے وصول ہوئے اور یہ متوقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ کمی 117.527 بلین روپے  تک پہنچ جائے۔

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، مگر کئی ٹیکسوں میں ردوبدل کرکے متعدد شعبوں کو سیلز ٹیکس کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے، جس میں ای کامرس، آن لائن کاریں اور موٹرسائیکلیں چلانے والے، درزیوں، انشورنس ایجنٹوں، تعمیراتی مشینری فراہم کرنے والے، پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے والے، کچرا جمع کرنے والی کمپنیوں، غذائی اشیا اسٹوریج کرنے والوں کو بھی ٹیکس دائرے میں شامل کرلیا گیا ہے، جب کہ پروفیشنل ٹیکس اور انفرا اسٹرکچر سیس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت کے قابل تقسیم پول سے 761 ارب 1 کروڑ 62 لاکھ روپے، تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں 53 ارب 90 کروڑ روپے اور آکٹرائے ٹیکس کے نقصانات کے مد میں 20 ارب 45 کروڑ 90 لاکھ روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، محاصل اور غیر محاصل وصولیوں کی صورت میں 288 ارب 70 کروڑ 91 لاکھ روپے حاصل کرنے کی توقع ہے۔ ان میں صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 121 ارب 51 کروڑ 68 لاکھ روپے، خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں 145 ارب روپے اور غیر محاصل آمدنی کی مد میں 22 ارب 19 کروڑ 23 لاکھ روپے ملنے کی توقع ہے۔

مالیاتی ذرائع سے 11 ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، موجودہ بجٹ سے بچ جانے والے 5 ارب کو بھی آئندہ مالی سال کی آمدنی میں شامل کیا گیا ہے، محاصل اخراجات کا تخمینہ 870 ارب 21 کروڑ 72 لاکھ روپے لگایا گیا ہے اور کیپیٹل اخراجات 63 ارب 64 کروڑ 32 لاکھ روپے ہوں گے، 284 ارب 3 کروڑ 75 لاکھ روپے کے مجموعی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے 208 ارب روپے، غیر ملکی معاونت کے 51 ارب 14 کروڑ 80 لاکھ روپے، وفاقی گرانٹس کے 4 ارب 88 کروڑ 95 لاکھ روپے اور اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے 20 ارب روپے شامل ہیں۔ اس طرح صوبے کی مجموعی وصولیاں اور اخراجات 1 ہزار 217 ارب 89 کروڑ 79 لاکھ روپے کی یکساں سطح پر آگئے ہیں۔

سندھ حکومت نے بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے 36 ارب روپے مختلف منصوبوں کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے اور بین الاقوامی ترقی پارٹنر کے اشتراق سے پانچ سالہ مدت کے لیے انتہائی ترجیح کے شعبہ میں 226 ارب روپے کی سرمایہ کاری معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں فراہمی آب اور پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے صوبائی بجٹ میں مختلف منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ کراچی نیبر ہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت 98 ملین ڈالرز کی لاگت سے مختلف عوامی مقامات کی تزئین و آرائش، شہر کی سڑکوں کی بہتری اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے پروگرام شامل ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی مختلف اسکیموں کے لیے 105ملین ڈالر جبکہ بی آر ٹی یلو لائن بس کے لیے 438 ملین اور بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے 561 ملین ڈالر کی لاگت سے منصوبے شروع کر نے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں اور سماجی ترقی کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ تعلیم کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ 178.618 ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں 15.15 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کیلئے 18.094 ارب روپے، یونیورسٹیوں اور بورڈز کے لئے 3 ارب روپے شامل ہیں۔ بجٹ میں محکمہ صحت کے لئے 114.4 ارب روپے رکھے گئے۔ بجٹ میں امن و امان کے لیے 109.788 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال 20-2019ء کے لئے درج ذیل اسکیمیں تجویز کی گئی ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو از سر نوتشکیل دینے کے لئے اور ایک پیشہ ورانہ صلاحیت کا حامل ادارہ بنانے، مختلف گریڈز کی 3 ہزار آسامیاں پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاکہ سندھ  پولیس کے بجٹ میں حقیقی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

ترقیاتی بجٹ میں تخفیف غربت پروگرام کیلئے 12.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، واٹر سپلائی، سیوریج اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ سروسز کیلئے 35.90 ارب روپے رکھے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے سندھ پراونشل روڈ سیکٹر امپپر دو منٹ پروجیکٹ کے تحت 328 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی، جس پر 22.75 ارب روپے لاگت آئے گی۔ شعبہ توانائی کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ 23.883 ارب سے بڑھا کر 24.920 ارب روپے کر دیا گیا ہے، آئندہ مالی سال میں 590 ملین روپے بجلی کی فراہمی کی اسکیموں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ پانی کے شعبہ کے غیر ترقیاتی بجٹ 22.744 ارب روپے سے بڑھا کر 23.070 ارب روپے کر دیا گیا ہے، آبپاشی شعبہ کیلئے 22 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ماربل سٹی کراچی کی منصوبہ بندی نادرن بائی پاس سے ملحقہ 1300 ایکڑ اراضی پر کی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا آغاز آئندہ سال کیا جائے گا، جس پر 2400 ملین روپے لاگت آئے گی اور یہ مرحلہ 5 سال میں مکمل کیا جائے گا۔ خواتین کی انٹرپرونئل شپ، ہنرمند اور کاشتکاروں کی مالی امداد کیلئے 55 ملین روپے اور کپاس کے شعبے میں پیداوار بڑھانے اور بھی شعبے کے ذریعے سرمای کاری میں اضانے کیلئے 240 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ محکمہ زراعت کیلئے 8.4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جس میں بیرونی تعاون کے 4.7 ارب روپے بھی شامل ہیں، لائیو اسٹاک اور فشریز کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سندھ کو سرسبنر اور ماحول دوست بنانے کیلئے سرسبز سندھ "پروجیکٹ کے تحت اگلے پانچ سالوں میں 100 ملین درختوں کیلئے شجر کاری کی جائے گی، محکمہ جنگلات 200,000 درختوں کی شجر کاری کا ہدف مال سال 20-2019ء میں حاصل کرے گا۔

رواں مالی سال کے دوران 4.2 ارب روپے غریب طبقہ جس کی نشاندہی بی نظیر انکم سپورٹ میں کی گئی ہے، کو نقد ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، آئندہ مالی سال میں بھی 4.2 ارب روپے ادا کئے جائیں گے۔ حکومت سندھ نے مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں نکاسی و آب کے ایس تھری منصوبے پر عمل درآمد کا اعلان کرتے ہوئے 36 ارب 11 کروڑ روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ کراچی کے علاقے لیاری، ملیر اور کورنگی میں ٹریٹمنٹ پلانٹ پر کام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 میں 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے کے منصوبے کے فور کیلئے نیس پاک سے منصوبے کے ڈیزائن اور لاگت کی رپورٹ مرتب ہونے کے بعد 50 فیصد فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت سندھ نے صوبائی بجٹ میں پولیس کے شہید ہونے والے اہلکاروں اور ان کے لواحقین کے لیے معاوضے کی رقم 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کا اعلا ن کیا ہے اور صوبائی بجٹ 2019-20 میں اس مد میں 2ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں حادثات میں قیمتی جانوں کی ضیاء کی صورت میں معاوضہ کی ادائیگی کے لیے یونیورسل ایکسڈنٹ انشورنس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت حادثاتی موت کی صورت میں متوفی کے لواحقین کو ایک لاکھ روپے ادائیگی کی جائے گی، جس کے لیے صوبائی بجٹ میں ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے اختتام تک سندھ کے 570 گاؤں کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ 248 بنیادی مراکز صحت کو سولر ٹیکنالوجی کے ذریعہ بجلی مہیا کی جائے گی۔

عالمی بینک کے تعاون سے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کے تحت آن گریڈ اور چھتوں پر شمسی پلیٹوں کے ذریعہ 420 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی اور اس منصوبے کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں دو لاکھ گھروں کو سولر ہوم سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ سندھ حکومت صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پینشنرز کو وفاقی حکومت کے مقابلے میں تنخواہوں اور پینشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا اعلان کرکے وفاق پر بازی لے گئی ہے۔ ایک طرف حکومت سندھ مالی بحران سے دوچار ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں 177 ارب روپے کی کٹوتی کے باوجود سرکاری ملازمین اور پینشنرز کو مراعات دے کر وفاق پر بازی لے گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 799577
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے