0
Saturday 15 Jun 2019 08:39

عالمی سامراج کے اہداف

عالمی سامراج کے اہداف
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اس وقت عالمی سامراج کے سب سے بڑے نمائندے اور ترجمان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یوں تو ڈونالڈ ٹرامپ نے وائٹ ہاوس میں داخل ہوتے ہی اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا، لیکن صہیونی لابی کی کوششوں سے انہوں نے اپنے پہلے ہی بیرونی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا تو مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اسی وقت پیشنگوئی کر دی تھی کہ امریکی صدر ایران کے راستوں میں کانٹے بونے اور اسرائیل کے راستے سے کانٹے چننے کے لئے خطے کی سیاست میں داخل ہوگئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ دنیا کی سیاست کا ہمیشہ مرکز رہا ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں؟ یہ ایک طویل موضوع ہے لیکن دو واضح وجوہات غاصب اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ہے۔ یہ دو متضاد طاقتیں جو نظریاتی اور عملی دونوں حوالوں سے ایک دوسرے کے وجود کو پسند نہیں کرتیں، بلکہ بات اس سے بھی ایک قدم آگے ہے، نہ صرف پسند نہیں کرتیں بلکہ ایک دوسرے کو صفحہ ہستی پر دیکھنا بھی برداشت نہیں کرتیں۔

اسرائیل کی غاصب اور ظالم حکومت ایک مصنوعی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کی اسلامی حکومت کا بنیادی نظریہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی مثال حق و باطل کی تاریخی اور ابدی جنگ کی مانند ہے، جو ہمیشہ سے تھی اور ہمشہ ہی رہے گی۔ حق و باطل کی اس جنگ میں عالمی سامراجی طاقتیں بالخصوص عہد حاضر کے سب سے بڑے سامراج امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کا ہر سطح اور ہر میدان میں ساتھ دیا ہے۔ آج بھی ایران کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے پیچھے امریکہ نظر آتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ نے عالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے ایک پالیسی اپنا رکھی ہے، جسکو وہ اپنی زبان میں "خوف کی پالیسی" کہتا ہے، اس پالیسی کے تحت "Real power is fear" ہے۔

امریکی حکام ڈونالڈ ٹرامپ کی اس پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے آئے دن ایران کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنے لگے رہتے ہیں اور اس میں ڈونالڈ ٹرامپ کے اقدامات اور بیانات سب سے نمایاں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند دن پہلے ڈونالڈ ٹرامپ نے وائٹ ہاوس میں پولینڈ کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران علاقے اور دنیا میں جنگ اور دہشتگردی کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے اس موقف کو سن کر ٹرامپ کی عقل پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے۔ امریکہ کسی اور ملک پر یہ الزام دھر رہا ہے کہ وہ جنگ اور دہشتگردی کا باعث ہے، حالانکہ آج کون نہیں جانتا کہ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں موجود ہر بدامنی، دہشتگردی اور افراتفری میں امریکہ ملوث ہے اور اس کے پیچھے صہیونی لابی اپنے عالمی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 799661
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب