0
Sunday 16 Jun 2019 21:19

پاراچنار، مجلس علماء اہلبیت کے انٹرا پارٹی الیکشن

پاراچنار، مجلس علماء اہلبیت کے انٹرا پارٹی الیکشن
رپورٹ: ایس این حسینی

آج 16 جون کو مجلس علماء اہلبیت کے مرکزی آفس میں مجلس کے انٹرا پارٹی الیکشن منعقد ہوئے، جس میں کرم کے علمائے کرام نے بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ تنظیم کے دستور کے مطابق دو امیدواروں کا اعلان پہلے ہی سے کیا گیا تھا، جس کے مطابق حجۃ الاسلام علامہ زاہد حسین انقلابی اور مولانا سید علی شاہ شیرازی صدارت کے لئے مدمقابل تھے۔ آج بروز اتوار بعد از ظہر مجلس کے مرکزی آفس میں الیکشن کا یہ پروگرام شروع ہوا۔ علامہ باقر حیدری نے پروگرام کا پورا خاکہ پیش کیا اور علمائے کرام کو باری باری دعوت خطاب دیا۔ علامہ ثواب علی حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام کو معاشرے کے تمام اصولوں کا لحاظ رکھنا چاہیئے۔ انہیں باادب و بااخلاق ہونا چاہیئے۔ ہر وقت خصوصاً عوام الناس کے سامنے خوارک، پوشاک، اٹھک بیٹھک، گفتار و کردار میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو عوام کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیئے۔ معاشرے سے فاصلہ رکھ کر معاشرے کی خدمت محال ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء معاشرے میں کسی بھی ایسے کام سے اجتناب کریں، جس کی وجہ سے عوام ان کی جانب انگلی اٹھائیں۔

علامہ سید احمد حسین الحسینی کا کہنا تھا کہ علمائے کرام کو چاہیئے کہ معاشرے کے ہر کمزور پہلو پر نظر رکھیں۔ آجکل جج کی تعیناتی کا جو مسئلہ ہے، اس حوالے سے علمائے کرام کا کردار نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاص مشن کے طور پر علاقے کو منشیات اور فحاشی کے ذریعے خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ نہایت افسوسناک ہے۔ چنانچہ ہم علماء کا فرض بنتا ہے کہ علاقے کے دیگر بااثر افراد، خصوصاً تنظیموں کے ساتھ ملکر اس وائرس کو روکنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی مسائل اور سکولوں کی حالت زار پر بھی علمائے کرام کو توجہ دینی چاہیئے اور اسے حوالے سے جگہ جگہ جا کر متعلقہ اداروں کے ساتھ اجلاس رکھ کر کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

سابق صدر علامہ احمد علی روحانی نے اپنے دورہ صدارت میں کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے جو کوتاہیاں ہوئیں ہیں، ان کے لئے وہ تمام علماء سے معذرت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کے افراد کا بیحد شکر گزار ہے، جنہوں نے ان کے ساتھ اپنی بساط کے مطابق کام کیا۔ اس کے بعد باقر حیدری صاحب نے مدمقابل امیدواروں کو دعوت خطاب دیا اور ان سے اپنا اپنا منشور پیش کرنے کی درخواست کی۔ دونوں امیدواروں نے علمائے کرام کے سامنے اپنا اپنا منشور اور حکمت عملی پیش کی۔ علامہ زاہد حسین نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی مجلس میں جنرل سیکرٹری کے عہدے پر کام کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایس او اور آئی او میں بھی باقاعدہ فرائض انجام دے چکے ہیں اور باقاعدہ ایک تنظیمی پراسیس سے ہو گزرے ہیں۔ چنانچہ اپنے تجربات کو بروئے کار لاکر وہ اس تنظیم کی سربلندی کیلئے دن رات کام کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ضلع کرم کی سطح پر وہ اتحاد بین المسلمین، بالخصوص اتحاد بین المومنین کی بھرپور کوشش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کی کامیابی کا اہم ترین نکتہ ایفائے عہد اور خلوص ہے۔ تنظیمیں اکثر وعدہ خلافیوں کی نذر ہوکر ٹوٹ یا کمزور ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے شہید ڈاکٹر آیۃ اللہ سید محمد حسین بہشتی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ ایران کے صدر شہید محمد علی رجائی، ممبر مجلس خبرگان مرحوم آیۃ اللہ مہدی کنی اور دیگر اہم افراد نے انہیں فون کرکے اگلے روز ایک میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اس وقت انہوں نے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کسی پارک جانے کا پروگرام رکھا ہوا ہے۔ رجائی شہید نے جب بہت اصرار کیا اور کہا کہ مذکورہ میٹنگ میں شرکت بہت ضروری ہے۔ تو جواباً شہید بہشتی نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ وعدہ نہ نبھاؤں، تو انہیں میں کیسے قائل کرسکوں گا۔ جب وہ مجھ سے پوچھیں کہ میں اپنے بچوں کا وعدہ نبھا نہیں سکتا، تو ملک کے کروڑوں عوام اور خواص کے وعدوں کا پاس و لحاظ کیسے رکھ سکونگا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو چاہیئے کہ اپنے وعدوں کا خصوصی پاس و لحاط رکھیں، تاکہ عوام الناس میں باعث نفرت نہ بنیں اور عوام کو کسی شکایت کا موقع از خود فراہم نہ کیا جائے۔

سید علی شاہ شیرازی آغا نے کہا کہ یہ مجلس مولانا سید احمد حسین الحسینی، مولانا ثواب علی حیدری وغیرہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ شروع میں بعض علماء کو شکایات تھیں کہ یہ مجلس انہوں نے اپنے لئے بنائی ہے۔ تاہم آج ہم جیسے لوگوں کو صدارت کا امیدوار نامزد کرکے انہوں نے ثابت کیا کہ یہ تنظیم کسی فرد واحد کی تنظیم نہیں بلکہ یہ کرم کے ہر عالم و مبلغ کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں صدارتی امیدواری سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے سامعین علماء سے کہا کہ قرآن مجید میں خلافت اور امارت کیلئے دو اہم صفات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جن میں سے ایک علم اور دوسری جسمانی قوت و استعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں۔ لہذا وہ خود اپنی طرف سے زاہد حسین کو اس عہدے کیلئے موذون تر اور اہل امیدوار تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے شرکاء سے گزارش کی کہ انہیں اس ذمہ داری سے معاف کیا جائے۔ چنانچہ ووٹنگ تک نوبت نہیں پہنچی، بلکہ مجلس نظارت کے چیئرمین علامہ سید محمد حسین طاہری نے اٹھ کر شرکاء سے مولانا زاہد حسین انقلابی کے حق یا مخالفت میں ان کی الگ الگ رائے طلب کی۔ مجمع میں موجود علماء کی اکثریت نے ہاتھ بلند کرکے مولانا زاہد حسین کی تائید کی۔ اس کے بعد الیکشن چیئرمین علامہ باقر علی حیدری نے مولانا زاہد حسین کی صدارت کا باقاعدہ اعلان کیا اور مجلس نظارت کے چیئرمین علامہ سید محمد حسین طاہری نے نئے میر کارواں سے حلف لیا اور یوں مولانا زاہد حسین نے نئے سیشن کیلئے مجلس علمائے اہلبیت کی صدارت کی ذمہ داری سنبھال لی۔
خبر کا کوڈ : 799838
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب