0
Monday 17 Jun 2019 07:49

بڑی جنگ قریب ہے

بڑی جنگ قریب ہے
اداریہ
یمن پر سعودی جارحیت کو اکاون ماہ مکمل ہونے کو ہیں۔ ان پندرہ سو تیس سے زائد دنوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا، جس دن آل سعود اور اس کے اتحادیوں نے بےچارے یمنیوں پر آگ اور بارود کی بارش نہ کی ہو۔ یمن کا اسی فیصد انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے جبکہ باقی بیس فیصد کی صورت حال ابتر ہے۔ چار سال سے زائد اس عرصے میں یمنیوں نے اپنے دفاع کو ترجیح دی اور انتہائی مشکلات میں نہ صرف اپنی عوام کا مورال بلند رکھا بلکہ اپنے آپ کو ایک لمبی جنگ کے لئے بھی تیار کیا۔ اس لمبی جنگ کے لئے دفاع کے ساتھ حملے کی حکمت عملی بھی ضروری تھی، لہذا اس دوران یمنی مجاہدوں نے ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی، اس دوران یمنی مجاہدوں نے سنائپر کے ذریعے دشمن فوجیوں کا شکار بھی جاری رکھا، اسی دوران یمنی فوج نے انصاراللہ کے مجاہدین کے ساتھ ملکر اپنے پرانے ائیر ڈیفنس سسٹم کو بھی کسی حد تک قابل استعمال بنا کر سعودی اتحاد کے ستر سے زائد جنگی طیاروں کو ہوا میں ٹھکانے لگا دیا۔

چار سال کی مجاہدت کے بعد یمن جنگ اب نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اب یمنی مجاہدوں نے ہوائی حملوں کے جواب میں قرآنی حکم آنکھ کے بدلے آنکھ اور ائیرپورٹ کے بدلے ائیرپورٹ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا اور بہت کم وقت مین اس کو عملی جامہ پہنا کر دشمن کو اپنے ارادوں سے آگاہ بھی کر دیا۔ اسی تناظر میں یمن کی فضائیہ کے ترجمان عبداللہ جعفری نے کہا ہے کہ جب تک ہمارے ملک کا محاصرہ اور جارحیت ختم نہیں ہوگی، اس وقت تک ہمارے میزائل اور ڈرون نہ صرف سعودی دارالحکومت ریاض حتیٰ غاصب اسرائیل کے شہروں تک بھی پہنچ کر اہم اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ عبداللہ جعفری نے کہا کہ سعودی عرب کے بین الاقوامی "ملک خالد ایئر بیس" کو بھی جو اس ملک کا سب سے بڑا اور اہم فوجی اڈہ ہے اور جہاں اسرائیلی ماہرین تعینات ہیں، حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں ایسے حملے مزید تیز کر دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی فوج کے تیار کردہ جدید ترین میزائل اور ڈرون طیارے نہ صرف آبنائے باب المندب بلکہ نہر سوئز تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی فوج کے نئے حملوں سے جنگ کے ضابطے تبدیل ہو جائیں گے اور یمن میں جنگ کا توازن مزید یمنی مجاہدیں کی طرف جھک جائیگا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں تمام ایئر لائینوں اور کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے تمام ہوائی اڈے یمنی فوج کے نشانے پر ہیں اور ان پر کسی بھی وقت حملہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف یمنی فوج کے ڈرون یونٹ نے پچھلے چند روز کے دوران سعودی عرب کے شہروں نجران، جیزان اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں، جس سے سعودی اتحاد میں سراسیمگی پیدا ہونا فطری بات ہے۔

سعودی عرب کے ابہا اور جیزان کے ہوائی اڈوں پر یہ حملے قاصف کے ٹو نامی لڑاکا ڈرون کے ذریعے کئے جا رہے ہیں۔ اس پورے مشن کے دوران مذکورہ ڈرون طیاروں کو زمینی اسٹیشن سے کنٹرول کیا گیا، جس میں پہلے جیزان کے ہوائی اڈے کو اور اس کے بعد ابہا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی میں یمنیوں کی اس پیشرفت نے امریکہ اور اسرائیل کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ چند روز قبل یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے صنعا ایئر پورٹ کی بندش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جارح ملکوں کے تمام ایئر پورٹ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کو نشانے پر ہیں۔

یمن کی جنگ میں کامیابی کی بنیادی وجہ یمنیوں کا خدا پر ایمان اور اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور یہ وہ کامیاب تجربہ ہے جو حزب اللہ کے بعد انصاراللہ نے عملی طور پر کرکے دکھا دیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنی اس صلاحیت کو اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھنے والی صیہونی حکومت کو شکست دیکر ثابت کیا اور آج انصاراللہ یمن نے سعودی عرب اور اس کے عربی و مغربی اتحادیوں پر ثابت کر دیا ہے کہ اللہ پر ایمان اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد جس قوم میں آجاتا ہے تو اسے دنیا کی کوئی سپر طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ آج یمن کی مجاہد فورسز اس مقام پر پہنچ گئی ہیں کہ وہ آل سعود اور ان کے حواریوں کو چیلنج کر رہی ہیں کہ ایک بڑی جنگ قریب ہے اور بلا شبہ اس جنگ میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بقول وہی کامیاب ہوگا، جس کے ارادے قوی و مستحکم ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 799958
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب