1
Monday 17 Jun 2019 18:24

کانگریس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش

کانگریس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش
تحریر: سید رحیم نعمتی

امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سربراہ اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن نینسی پلوسی نے کہا ہے: "پیسے کی خاطر کیا کیا ہو جاتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کو جوہری توانائی کی فراہمی سے کسے فائدہ پہنچے گا؟" انہوں نے یہ سوال پوچھنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو بھاری مقدار میں اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدوں کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں کے بارے میں کانگریس میں ووٹنگ کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم مقابلہ کریں گے۔ یہ ان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب سے ان کے معاہدوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ تھا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس جنگ میں ان کا انحصار صرف ایوان نمائندگان میں اپنی پارٹی کی اکثریت پر نہیں بلکہ وہ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے کئی معروف اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو چکی ہیں۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
 
درحقیقت یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ کے کانگریس اراکین سعودی عرب کے ساتھ موجودہ امریکی حکومت کی اربوں ڈالر پر مشتمل اسلحہ کے معاہدوں کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ چار برس پہلے صدر براک اوباما کے دور میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے 20 کانگریس اراکین نے 153 ٹینکس، سینکڑوں مشین گنوں اور دیگر فوجی سازوسامان پر مبنی امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 150 ملین ڈالر کے معاہدے کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ اس وقت یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور امریکی حکومت نے سعودی عرب کو لیزر گائیڈڈ بم فروخت کرنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔ امریکی سینیٹ نے 47 ووٹوں کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے اس تحریک کو منظور کیا تھا۔ اوباما حکومت نے وسیع پیمانے پر سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے باوجود یہ ڈرامہ اس لئے رچایا کہ کم از کم ظاہری حد تک خود کو یمن جنگ اور اس میں انجام پانے والے وسیع جنگی جرائم سے خود کو مبرا کر سکے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اس ظاہر سازی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2017ء میں سعودی عرب کا دورہ کیا اور گذشتہ حکومت کے تمام تر تحفظات کو نظرانداز کرتے ہوئے اعلانیہ طور پر 110 ارب ڈالر اسلحہ فروخت کرنے کا معاہدہ طے کیا۔ یہ معاہدہ 10 سال کے دوران پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ بیٹھ کر ہاتھ میں سعودی عرب کو فروخت کئے گئے اسلحہ کی تصاویر اٹھا کر ڈونلڈٰ ٹرمپ کی شیخیاں دیکھنے کے قابل تھیں۔ لیکن استنبول میں امریکی قونصلیٹ میں معروف صحافی جمال خاشگی کے وحشیانہ قتل کے بعد یہ شیخیاں ختم ہو گئیں۔ یہی محمد بن سلمان جمال خاشگی کا قاتل نکلا اور کانگریس کے اراکین فوراً سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدوں پر مرکوز ہو گئے۔ امریکہ میں اسلحہ کی لابی اس قدر پریشان ہو گئی کہ روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کی بڑی بڑی فضائی صنعت کی کمپنیز جیسے لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، جنرل ڈائنامکس اور نور ٹروپ گورمین نے اعلی سطحی حکام کو خط لکھ کر ان سے ان معاہدوں کو بچانے کی درخواست کی۔
 
اس وقت ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت تھی لہذا حکومت سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے کے خلاف پیش ہونے والے بل کو روکنے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن اب جبکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ اراکین کی اکثریت ہے یہ بل دوبارہ پیش ہونے سے ٹرمپ حکومت شدید مشکلات سے روبرو ہو سکتی ہے۔ اس وقت کئی ریپبلکن پارٹی کے اراکین بھی حکومت کے مخالف ہیں جیسا کہ انڈیانا سے ٹڈ یانگ، کینٹاکی سے رینڈ پالو، آیوٹا سے مائیک لی اور جنوبی کیرولینا سے لنڈسے گراہم کا نام قابل ذکر ہے۔ کانگریس میں حکومت کے خلاف پیش ہونے والے بل میں ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کئے جانے کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا۔ حکومت نے یہ کام کانگریس کو اعتماد میں لئے بغیر کیا ہے۔ دوسرا مسئلہ سعودی عرب کو وسیع پیمانے پر اسلحہ فروخت کرنے خاص طور پر اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدوں کی منظوری ہے۔ گذشتہ امریکی صدور ایسے معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے کانگریس کو اعتماد میں لیتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس سے منظوری لئے بغیر ہی ان معاہدوں پر دستخط کر دیتے ہیں جو اراکین کی شدید ناراضگی کا باعث بنا ہے۔ لہذا اب لنڈسے گراہم جیسے اراکین بھی صدر کے اختیارات محدود کرنے پر زور دے رہے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے شدید حامی تصور کئے جاتے تھے۔
 
خبر کا کوڈ : 799983
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے