0
Tuesday 18 Jun 2019 08:01

ایران کے ایٹمی ادارے کا اعلان

ایران کے ایٹمی ادارے کا اعلان
اداریہ
8 مئی 2018ء کو جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا تو ایران سمیت عالمی سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھنے والے ہر باشعور شخص نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے جنگل کا قانون اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسا عمل قرار دیا۔ عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے بعد بھی ایران نے ایک سال تک انتظار کیا کہ اگرچہ امریکہ اس معاہدے سے نکل گیا ہے، لیکن چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی تو موجود ہیں، لہذا وہ اس معاہدے کی شقون پر ضرور عمل کریں گے، لیکن 8 مئی 2018ء سے لیکر 8 مئی 2019ء تک پورپی ممالک اور معاہدے کے دیگر اراکین نے زبانی کلامی بیانات اور میٹنگ کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ اس دوران معاہدے کے رکن ملکوں کے دو وزائے خارجہ اور دو نائب وزائے خارجہ سطح کے اجلاس بھی منعقد ہوئے اور کمشن بھی تشکیل دیئے گئے، لیکن ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے لحاظ سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

ایران نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے 18 مئی 2019ء کو یورپی ٹرائیکا (فرانس، برطانیہ، جرمنی) اور یورپی یونین کی خاموشی اور معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنے پر ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں پر عملدرآمد کو روک دیا اور معاہدے کے رکن ملکوں کو مہلت دی کہ وہ ساٹھ دنوں کے اندر اپنے وعدے کو عملی جامعہ پہنائیں اور بینکنگ و تیل کے شعبے میں عائد پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدام انجام دیں۔ ایران نے اپنے الٹی میٹم پر عمل کرتے ہوئے بعض اہم اعلانات کئے، اسی تناظر میں ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران میں یورینیم کی پیداوار میں چار گنا اضافہ کیا جائے گا اور ایرانی حکام کے کہنے پر اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکے گا۔ ایٹمی توانائی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ تین سو کلوگرام تک یورینیم کی پیداوار پہنچانے کے بعد ایران یورینیم کی افزودگی کی شرح میں بھی اضافہ کرے گا اور اسے بیس فیصد تک پہنچا سکتا ہے۔

بہروز کمال وندی کا کہنا تھا ایران نے اگر بھاری پانی کو فروخت نہ کیا تو بھاری پانی کے ذخائر ایک سو تیس ٹن سے عبور کر جائیں گے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے اس بیان کے سامنے آتے ہی امریکہ نواز میڈیا نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے jcpoa کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ایران جب تک رضاکارانہ بنیادوں پر معاہدے کی شقوں سے بڑھ کر عمل کر رہا تھا تو سب خاموش رہے اور معاہدے کی رو سے اقتصادی پانبدیوں کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا اور جب ایران نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے صرف یورینیم کی افزودگی کو 20 فیصد تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے تو سب نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ عالمی میڈیا اور سامراجی ممالک کے اس ردعمل سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ معاہدے سے نکل بھی جائے تو موت جیسی خاموشی طاری رہتی ہے، لیکن ایران اگر قانونی دائرے کے اندر رہ کر بھی کوئی اقدامات انجام دے تو پوری دنیا میں شور و غل برپا کر دیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 800062
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے