0
Tuesday 18 Jun 2019 11:26

مغرب نواز آمر کے ہاتھوں قتل ہونیوالے عوامی رہنماء ڈاکٹر محمد مرسی

مغرب نواز آمر کے ہاتھوں قتل ہونیوالے عوامی رہنماء ڈاکٹر محمد مرسی
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

مصر کی عدالت میں اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے کے دوران 20 منٹ تک جج کیساتھ گفتگو کرنے کے بعد وفات پا جانیوالے محمد مرسی مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔ 1951ء میں ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ مرحوم نے 1980ء میں یونیورسٹی آف ساؤدرن سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نارتھرج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے۔ محمد مرسی 1985ء میں وطن واپس پہنچے اور تدریس کے ساتھ سیاسی سفر کا بھی آغاز کیا اور 2000ء سے 2005ء کے دوران اخوان المسلمین کے ممبر بھی رہے۔

2005ء کے انتخابات میں شکست کے باوجود سابق صدر نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے سیاسی قیدی کے طور پر پانچ سال سے زیادہ عرصہ اسیری میں بھی گزارا۔ اسلام پسندوں کی جماعت سمجھی جانے والے تنظیم اخوان المسلمین کے اراکین پر حسنی مبارک کے دور میں پابندی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ پابندیوں کا شکار مذکورہ جماعت نے 2011ء میں مرسی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور ساتھ ہی شرط بھی رکھی کہ ایک فرد ایک وقت میں اپنی مرضی سے ایک جماعت کی رکنیت رکھ سکتا ہے، (اخوان المسلمین یا فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی)۔

مئی 2012ء میں مصر صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوا، جس میں محمد مرسی اور ملک کے سابق صدر احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ جون 2012ء میں مصر کے قومی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مرسی نے 51.7 فیصد ووٹ لے کر سابق وزیراعظم احمد شفیق کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی روز نومنتخب صدر محمد مرسی نے التحریر اسکوائر پر لاکھوں کے مجمعے میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ صرف مصری عوام کے صدر ہیں۔ انہوں نے 20 جون 2012ء کو مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

جون 2013ء میں اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر تحریر سکوائر اور مصر کے دیگر شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے، جس میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ مصری فوج نے یکم جولائی 2013ء کو مرسی کو پیغام بھجوایا کہ 48 گھنٹوں میں عوامی مطالبات پورے کریں، بصورت دیگر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا، جسے مصر کی پہلی جمہوری حکومت نے نظر انداز کر دیا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج نے تین جولائی کو محمد مرسی کو معزول کرکے جیل میں ڈال دیا۔ مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مرسی اور 132 دوسرے افراد پر 2011ء میں جیل توڑنے، ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعے مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں مقدمات بنائے گئے۔

اپریل 2014ء میں عدالت نے مرسی کو 2012ء میں صدارتی محل کے باہر اشتعال انگیزی پھیلانے اور فسادات کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی۔ مصر کی ایک عدالت نے مئی 2015ء میں مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سابق صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے ودی نترون نامی جیل میں اسیری کے دوران غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو رہا کرانے کی سازش تیار کی اور 2011ء میں جیل توڑ کر فرار ہوئے۔ عدالت نے انہیں جاسوسی کے الزامات کے تحت عمر قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔ محمد مرسی نے سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کی، جسے مسترد کر دیا گیا۔

مرسی پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15 سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔ تین سال قبل 15 نومبر 2016ء کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی موت کی سزا کو ختم کر دیا تھا، لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخری دم تک زیر التوا رہے۔ جیل میں چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لیے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہلخانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔ محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔

محمد مرسی کے اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مصر کی فوج نے 30 جون 2013ء کو محمد مرسی کو برطرف کرکے انہیں جیل میں بند کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کے فوجی جنرل عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے ایماء پر ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کیا تھا اور خود مصر کے صدر بن گئے تھے۔ ان پر مخالف مظاہرن کے قتل کا الزام تھا، جس پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ محمد مرسی اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد حال ہی میں امریکا نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر مرسی کی اسیری کی حالت میں اچانک وفات پر اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے لوگوں سے محمد مرسی کے جنازے میں شریک ہونے اور دنیا میں موجود مصر کے سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ محمد مرسی کو ان کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انہیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انہیں بری خوراک فراہم کی گئی۔ انہیں ڈاکٹروں اور وکلا سے ملنے نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ انہیں ان کے خاندان سے بات چیت بھی نہیں کرنے دی گئی۔ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے محمد مرسی کی موت کا الزام مصر کے غاصبوں پر عائد کیا، جبکہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد ال ثانی نے نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی امریکہ کا کہنا ہے کہ مرسی کو چھ سال تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جس نے ان کے دماغ اور جسمانی حالت پر قابلِ ذکر اثر ڈالا، انہیں موثر اور بھرپور طریقے سے باہر کی دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے ڈاکٹر مرسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پورے ملک میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ کیلئے اپیل کی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر مرسی کی وفات کی خبر سنتے ہی قبلہ اول میں فلسطینی مسلمانوں نے انکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔
خبر کا کوڈ : 800109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب