0
Wednesday 19 Jun 2019 07:38

بتوں سے تجھ کو امیدیں

بتوں سے تجھ کو امیدیں
اداریہ
مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی گذشتہ دن سخت ترین سکیورٹی میں بغیر کسی عوامی شرکت کے دفن کر دیئے گئے۔ مصر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق مصر کی فوجی جنتا نے قرون وسطیٰ کی یاد تازہ کرتے ہوئے پہلے محمد مرسی کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ذلیل و خوار کیا اور پھر الٹے سیدھے الزامات میں کئی سزائیں سنا کر بالآخر عدالت کے اندر تدریجی موت سے ہمکنار کر دیا۔ آج انسانی حقوق کی بڑی بڑی عالمی تنظمیں من جملہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل محمد مرسی کی موت کو تدریجی موت یا تدریجی قتل قرار دے رہی ہیں، لیکن جب اس کی منتخب حکومت کو ختم کیا گیا تو کسی نے مصری ڈکٹیٹر عبدالفتاح السیسی کو اس شدت سے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، جس سے وہ ایک منتخب صدر کے ساتھ اس طرح کا وحشیانہ عمل نہ دھراتے۔ مصری ڈکٹیٹر سے کیا گلہ شکوہ کیونکہ اقتدار کے نشے میں دھت ہر آمر نے ماضی میں ایسا ہی کیا ہے اور مستقبل میں بھی ان سے کسی خیر کی توقع نہیں۔

دوسری طرف محمد مرسی جیسے کردار بھی ماضی میں رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، لیکن یہ انسان ہے کہ اپنے ماضی سے نہیں سیکھتا۔ محمد مرسی جس سرعت سے مصر کی قومی سیاست پر ابھرے اسی تیزی سے غائب بھی ہوگئے۔ 2011ء میں انہوں نے اخوان المسلمین  کا سیاسی شعبہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نام سے شروع کیا اور 2012ء میں احمد شفیق کو شکست دے کر مصر کے پہلے منتخب صدر بن گئے، البتہ مصر کی فوج نے امریکہ اور سعودی عرب کی مدد سے انہیں ایک سال کے اندر ہی چلتا کیا، لیکن بدقسمتی سے اسلام کے نام پر کامیاب ہونے والے محمد مرسی نے بھی اسی غلطی کو دہرایا، جس کا نتیجہ امریکی دام میں گرفتاری کی صورت میں ظاہر ہوا۔ مرسی اگر بشار اسد کی طرح امریکہ کا سہارا لینے کی بجائے اسلامی مذاحمتی بلاک کا حصہ بن جاتے تو اس انجام سے دوچار نہ ہوتے۔

2012ء کے ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں مرسی نے جس مغرورانہ انداز میں تہران اجلاس میں شرکت کی اور تقریر کے اندر جو انداز اختیار کیا، اس سے دور کی کوڑی لانے والوں نے کہہ دیا تھا کہ ان تلوں میں زیادہ تیل نہیں۔ تہران کو نظرانداز کرکے جب انہوں نے انتہائی بددلی سے ایران میں مختصر قیام کے فوراً بعد سعودی عرب کا رخ کیا تو ایک صحافی نے بڑا خوبصورت جملہ کہا تھا "اسلامی بیداری کے نتیجے میں مصر میں ابھرنے والی اسلامی حکومت کو محمد مرسی نے اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ بنانے کی بجائے سعودی جوہڑ میں پھینک دیا ہے۔" محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے ایک دھڑے کی لمحوں کی یہ خطا اخوان المسلمین کے لیے صدیوں کی سزا میں بدل گئی ہے۔ محمد مرسی نے مصری انقلاب کو امریکی، صہیونی اور سعودی بلاک سے وابستہ کرکے اسلام و قرآن پر بھروسہ کرنے کی بجائے دنیا کی ظاہری طاقتوں سے امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال تو کئی سال پہلے کہہ گئے تھے"
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
خبر کا کوڈ : 800266
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب