0
Friday 21 Jun 2019 06:33

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(7)

(امام خمینی کی رحلت کے بعد)
امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(7)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
آپ نے گام دوم نامی اپنے پیغام میں بھی نوجوانوں کو اپنا اصلی مخاطب قرار دیا ہے۔ آپ کئی بار اس کا اظہار کرچکے ہیں کہ اگر نوجوان نسل صحیح راستے پر گامزن رہے تو انقلاب کے مقاصد اور امنگوں تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ رہبر انقلاب اسلامی ایرانی حکام کو ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی کی طرف سے عوام کے حقوق کے دفاع کا ایک اور مظہر و مصداق قانون پر سختی سے عمل درآمد ہے۔ آپ ذاتی اور سیاسی و اجتماعی زندگی میں تو اس پر پابندی کو نہایت اہمیت دیتے ہیں، آپ اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی چیز قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ آپ اس حوالے سے تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہر شخص کو قانون کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہیئے، قانون پر عمل کرنا چاہیئے تاکہ انصاف مہیا ہوسکے۔

بعض دفعہ ان سے قانون سے ماورا ہو کر کچھ امور انجام دینے کا کہا جاتا ہے تو آپ اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چونکہ آپ خود کو قانون سے ماورا نہیں سمجھتے، لہذا حکام سے بھی ہمیشہ اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیں اور جو شخص بھی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو، اس کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہ کر سلوک کیا جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا شمار ایران کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے لیے قربانیاں دیں اور زحمتیں برداشت کیں، نیز انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اہم مناصب اور عہدوں تک رسائی حاصل کی۔

 آپ نے جس طرح انقلاب کے آغاز و کامیابی تک الہیٰ ذمہ داری سمجھ کر اپنی ذمہ داری ادا کی، آج ایران کے سب سے اعلیٰ آئینی و دینی مقام پر بھی الہیٰ ذمہ داری سمجھ کر اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ آپ ملک کی ترقی و پیشرفت کے لے اٹھائے جانے والے ہر قدم کو فریضہ و ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ آپ انقلاب کی امنگوں اور اہداف کی روشنی میں آزادی، انصاف، تعمیر و ترقی، محروموں اور مستضعفوں کی خدمت اور دیگر شعبوں میں انجام دیئے گئے ہر کام کو عبادت کا درجہ دیتے ہوئے اس کے لیے خود بھی کوشاں رہتے ہیں اور حکام و عوام کو بھی اس کی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کا ایک ہدف اور امنگ محروموں، فقیروں اور مستضعفین کے حقوق کا دفاع اور ان کو مشکلات سے نکالنا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود محروم و مستضعف طبقے کے لیے بے چین و مضطرب نظر آتے ہیں اور انکے لیے ہر مناسب موقع پر آواز بھی اٹھاتے ہیں۔ آپ فلسطین، یمن، بحرین سمیت تمام محروموں اور حریت پسندوں کی حمایت کو اپنی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی کی عالمی سیاست پر بڑی گہری نظر ہے، عالمی مسائل پر آپ کی ماہرانہ اور گہری نظر آپ کے خطابات اور عالمی رہنمائوں سے ملاقاتوں میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ دشمن شناسی، دشمن کے حربوں اور چالوں سے آگاہی آپ کی شخصیت کا خاصا ہے۔ آپ کی دور اندیشی، زکاوت، معاملہ فہمی گذشتہ تیس سالوں میں نکھر کر سامنے آئی ہے۔ گذشتہ تیس برسوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کو مختلف چیلنجوں اور بحرانوں کو سامنا رہا۔ آپ نے ان تمام بحرانوں سے قوم و ملت کو بڑی خوبصورتی سے نکالا اور دشمن کی ہر سازش کو ناکامی و نامرادی کا سامنا کرنا پڑا۔ رہبر انقلاب اسلامی امریکہ کو ناقابل اعتماد اور اپنا حقیقی دشمن قرار دیتے ہیں، آپ اسی طرح اسرائیل کو ملت ایران اور عالم اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ آپ نے ایران اور ملت اسلامیہ کو مغرب اور بالخصوص امریکہ کے اثر و رسوخ سے ہمیشہ خبردار کیا۔ آپ امت مسلمہ کو اتحاد و وحدت کی دعوت دیتے ہوئے ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ امریکی تسلط کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے، کیونکہ امریکہ اسلامی اتحاد کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کے اس حوالے سے بیانات و مواقف قرآن پاک کی سورہ مبارکہ فتح کا مصداق ہیں، جس میں اشارہ ہوتا ہے "محمد خدا کے بھیجے ہوئے ہیں، ان کے ساتھی وہ ہیں، جو کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں۔" رہبر انقلاب کی شخصیت اور ان کے نظریات کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پرامید رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی پرامید رہنے اور مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آپ ایران اور عالم اسلام کو درپیش تمام مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود اسلام کے مستقبل کو روشن و تابندہ قرار دیتے ہیں۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر مسلمان راہ خدا میں ہمت و کوشش سے کام لیں تو کامیابی ان کا مقدر ٹھرے گی، کیونکہ خداوند عالم نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو خدا بھی تمھاری مدد کرے گا۔ خداوند عالم کا وعدہ یقینی ہے، اسی لیے رہبر انقلاب فرماتے ہیں کہ ہم ایک لمحے کے لیے بھی خدا کی مدد و نصرت سے مایوس نہیں ہوتے اور ہمیں امید ہے کہ آخری لمحے تک ہم نصرت خداوندی سے مایوس نہیں ہوں گے۔  
۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 800276
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب