0
Thursday 20 Jun 2019 11:52

نئے تعینات ہونیوالے ڈی جی آئی ایس آئی کون ہیں؟؟

نئے تعینات ہونیوالے ڈی جی آئی ایس آئی کون ہیں؟؟
رپورٹ: ابو فجر لاہوری

آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام 2017ء میں اس وقت منظرِ عام  پر آیا تھا، جب تحریک لبیک نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا اور اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر کئی دنوں تک دھرنا دیا۔ جنرل فیض اس دھرنے کو ختم کرانے میں اہم کردار ہونے کے باعث خبروں میں رہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 5 سے 26 نومبر 2017ء تک جاری رہنے والا تحریک لبیک کا دھرنا انتخابی فارموں میں ایک ترمیم کی بنا پر دیا گیا تھا (جسے بعد میں حکومت نے واپس بھی لے لیا)۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اُس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔ یہ 20 روزہ دھرنا حکومت کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات ماننے اور وزیر قانون کے استعفے کے بعد ختم ہوا۔

تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی نے میڈیا کو دیئے گئے بیان میں کہا تھا کہ شہباز شریف اور احسن اقبال سمیت کسی حکومتی شخصیت سے نہ مذاکرات ہوئے اور نہ معاہدہ، بلکہ مذاکرات جنرل فیض سے ہوئے اور وہی ضامن بھی ہیں۔ مولانا خادم نے دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر دھرنا ختم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جب اس دھرنے کا کیس سپریم کورٹ میں سنا گیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں حلف کی خلاف ورزی کرنیوالے فوجی افسران کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ وزرات دفاع نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں واضح کیا کہ سیاسی قیادت نے صورتحال پر کنٹرول میں ناکامی پر مسلح افواج کو مدد کے لیے بلایا تھا، اس لیے فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ آئین پاک فوج کو سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بننے سے روکتا ہے، فوج کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت نہیں کرسکتی۔ وزارتِ دفاع، افواج کے سربراہان حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ تحریک لبیک کے ساتھ ہونیوالے معاہدے میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی شامل تھا۔ دفاعی امور کی کوریج کرنیوالے صحافیوں کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس سے قبل بھی آئی ایس آئی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور اُن کے کریڈٹ پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی کئی کامیاب کارروائیاں ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم جو بھی فیصلے کرتے ہیں، ملک کی سکیورٹی کیلئے اچھے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ٹوئٹر پر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی چیلنجنگ ثابت ہوگی۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو رواں سال میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اُن کا تعلق پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ 22 فروری 2022ء میں ریٹائر ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 800516
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب