0
Thursday 20 Jun 2019 20:06

خیبر پختونخوا بجٹ کے خدوخال اور ٹیکسوں کی بھرمار

خیبر پختونخوا بجٹ کے خدوخال اور ٹیکسوں کی بھرمار
رپورٹ: ایس علی حیدر

وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال 20-2019ء کا سرپلس بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا ہے، جس کا کُل حجم 900 ارب روپے ہے۔ بجٹ میں بندوبستی اضلاع کیلئے 693 ارب جبکہ قبائلی اضلاع کیلئے 162 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا کُل حجم 319 ارب روپے ہے۔ وفاق سے 588 ارب 93 کروڑ 63 لاکھ روپے ملنے کا امکان ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق بجٹ 45 ارب روپے کا سرپلس ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی پر 83 ارب روپے خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرح بجٹ میں گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک ملازمین کی تنخواہوں میں اور پنشن میں 10 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 19 تک کے افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ گریڈ 20 سے 22 تک افسران کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں۔ بجٹ دستاویز کے مطابق وزراء کی تنخواہوں میں 12 فیصد کمی جبکہ محنت کشوں کی کم از کم اجرت 15 ہزار سے بڑھا کر ساڑھے 17 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبے کے اپنے محاصل اور آمدنی بڑھانے کیلئے ٹیکسوں کی شرح میں ردو بدل کرکے نسوار پر بھی ٹیکس عائد کیا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ فنانس بل کے مطابق پٹرول پمپس اور سی این جی فلنگ سٹیشنز پر سالانہ 11 ہزار 250 روپے جبکہ سہولت سٹورز کی موجودگی پر یہ ٹیکس 22 ہزار 500 روپے ہوگا۔ سروس سٹیشنز پر سالانہ 20 ہزار، صنعتی عمارتوں پر اڑھائی روپے فی سکور فٹ، موبائل ٹاور کی تنصیب پر 40 ہزار، ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں 30 ہزار روپے، دیگر اضلاع میں 20 ہزار سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا بجٹ میں 20 ہزار ماہانہ آمدنی والے افراد پر ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تاہم 30 ہزار روپے آمدنی پر ایک ہزار روپے، 50 ہزار آمدنی پر 1200 روپے، ایک لاکھ تک آمدنی 2 ہزار، 5 لاکھ تک آمدنی پر 3 ہزار اور 5 لاکھ سے زائد آمدنی رکھنے والوں پر 5 ہزار ماہانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز اور فنانس بل کے مطابق گریڈ ایک سے 6 تک ماہانہ ایک ہزار روپے، گریڈ 13 سے 16 تک ملازمین 1200 روپے، گریڈ 17 ملازمین 1500 روپے، گریڈ 18 کے 1800 روپے، گریڈ 19 کے 2000، جبکہ گریڈ 20 سے 22 تک افسران ماہانہ 3 ہزار روپے ٹیکس دینے کے پابند ہونگے۔ خیبر پختونخوا کے بجٹ میں ٹیکسوں کی بھر مار کرتے ہوئے کارپوریٹ سیکٹرز پر ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کیا گیا اور یوں ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی گئی، جس کے تحت ایک کروڑ تک کاروبار پر 30 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا۔ ایک کروڑ سے اڑھائی کروڑ روپے کے کاروبار کرنے والوں پر سالانہ 50 ہزار، 5 کروڑ روپے کے کاروبار تک افراد سالانہ 60 ہزار، 5 سے 10 کروڑ روپے کے کاروبار پر سالانہ 90 ہزار، 10 سے 20 کروڑ کا کاروبار کرنے پر سالانہ ایک لاکھ جبکہ 20 کروڑ روپے سے زائد کاروبار پر ایک لاکھ سے زائد کا ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

صوبائی بجٹ میں کاروباری حضرات اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ دیگر خدمات پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا، جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ فنانس بل کے مطابق صوبائی بجٹ میں 10 ملازمین پر مشتمل کلینکس اور ہسپتالوں پر 15 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا۔ علاوہ ازیں 50 ملازمین والے کلینکس اور ہسپتالوں پر 15 ہزار سالانہ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق 50 سے زائد ملازمین رکھنے والے کلینکس اور ہسپتالوں پر ایک لاکھ، نجی میڈیکل کالجز پر ایک لاکھ، نجی انجینئرنگ کالجز اور جامعات پر ایک لاکھ، 100 طلباء والے بزنس ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ پر 80 ہزار جبکہ 100 سے زائد طلباء والے اداروں پر ایک لاکھ روپے، نجی لاء کالجز پر ایک لاکھ روپے، ایک ہزار تک فیس لینے والے تیکنیکی تعلیمی اداروں پر 8 ہزار، ایک ہزار سے 2 ہزار تک فیس لینے والے اداروں پر 12 ہزار روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔

بجٹ دستاویز کے مطابق امپورٹ ایکسپورٹ، حج ٹور آپریٹرز، کلیرینگ ایجنٹ اور ٹریول ایجنٹس پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹ اور گیسٹ ہاؤس پر سالانہ 40 ہزار، کیٹرنگ پر 40 ہزار، شادی ہالوں پر سالانہ 60 ہزار، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں پر سالانہ 30 ہزار، پٹرول ڈیزل سی این جی اسٹیشنز پر سالانہ 30 ہزار روپے، ویڈیو شاپس، رئیل اسٹیٹ، کار ڈیلرز اور نیٹ کیفے پر سالانہ 6 ہزار روپے، چارٹر اکاونٹسنی پر 20 ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا۔ فنانس بل میں پشاور میں میڈیکل لیبارٹریوں پر سالانہ 25 ہزار، دیگر علاقوں میں 8 ہزار، کنٹریکٹرز اور سپلائرز پر 5 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں خیبر پختونخوا کے بجٹ میں ٹیکسوں کی اتنی بھر مار کبھی نہیں دیکھی گئی ہے۔ ٹیکسوں کی شرح میں رود بدل اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے مہنگائی کی سونامی آنے کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔

وفاقی بجٹ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں ٹیکسوں کی شرح بہت زیادہ بڑھائی گئی ہے اور نئے ٹیکسوں کا نفاذ کرنے سے عوام براہ راست متاثر ہونگے۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے بجٹ پیش کرتے وقت یہ عندیا دیدیا کہ آئندہ سالوں کے بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر صوبے کی آمدنی میں حیران کن حد تک اضافہ کیا جاسکے گا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ تنخواہوں میں اضافہ کے ساتھ ہی ان سے ماہانہ ٹیکس وصول کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ ایک ہاتھ پر اضافہ دیا گیا تو دوسرے ہاتھ میں ان سے کیا گیا اضافہ واپس لیا گیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے 319 ارب روپے مختص کرنا بڑا کارنامہ ہے۔ مالی سال 18-2017ء کے بجٹ کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ زیادہ ہے۔ مہنگائی اور گرانی کے تناسب سے ترقیاتی بجٹ بڑھانا ناگزیر تھا۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس لئے بجٹ مسترد کیا ہے کہ اس میں ٹیکسوں کے انبار لگائے گئے ہیں، ان کے موقف کی اس لئے تائید کی جاسکتی ہے کہ مہنگائی کے مارے عوام پر ٹیکسوں کے انبار لگانے سے گرانی کی شرح خوفناک حد تک بڑھے گی۔ صوبائی بجٹ میں وکلاء، چھوٹے حجام، ہاسٹل اور لانڈری سمیت مفت درسی کتب کو ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا گیا۔ صوبائی حکومت کا اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا سرا ظلم اور زیادتی ہے۔ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے وعدے پر برسراقتدار آئی ہے، لیکن بدقسمتی سے حکومت ریلیف دینے کی بجائے انہیں ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ بجٹ میں 47 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا اقدام قابل ستائش ہے، تاہم بے روزگاری کے مقابلے میں روزگار دینے کی شرح مایوس کن ہے۔ صوبائی بجٹ سابقہ بجٹ سے اس لئے منفرد ہے کہ اس میں پہلی بار قبائلی اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 800626
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب