4
Friday 21 Jun 2019 14:09

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس پر ایک نظر

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس پر ایک نظر
تحریر:  محمد سلمان مہدی
 
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے انیسویں سربراہی اجلاس کے حوالے سے چند اہم نکات پیش خدمت ہیں۔ وسطی ایشیاء کی ریاست کرغیزستان کے دارالحکومت بشکک میں آٹھ رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کے ساتھ ساتھ ایران و افغانستان سمیت چار مبصر ممالک کے سربراہان حکومت نے اس اجلاس میں شریک تھے۔ بنیادی طور یہ تنظیم اس شنگھائی فائیو کا تسلسل ہے، جو 1996ء میں اس وقت منظر عام پر آئی تھی، جب اس خطے میں افغانستان کی طالبان حکومت نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو تنگ کرکے رکھ دیا تھا۔ دنیا اس شنگھائی فائیو کو اس خطے میں امریکی ایجنڈا کے خلاف علاقائی ردعمل کے طور پر دیکھ رہی تھی۔ بعد ازاں نائن الیون 2001ء سے بہت پہلے یہ باقاعدہ ایک علاقائی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ پاکستان اور بھارت کو اس میں 2017ء میں رکنیت دی گئی، اس سے قبل دونوں ملک مبصر تھے۔
 
یہ پلیٹ فارم اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی تعاون کے لئے کام کرنے کی غرض سے بنایا گیا ہے۔ 13 اور 14 جون کے اس سربراہی اجلاس میں نام لئے بغیر امریکی بلاک کی پالیسی کو مسترد کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں دہشت گردی کو اس کی ہر شکل میں مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی و انتہاء پسندی کو ختم کرنے کے بہانے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دہشت گرد، انتہا پسند اور ریڈیکل گروپس کو کرائے کے قاتلوں کی حیثیت سے استعمال کرنا بھی قابل قبول نہیں ہے۔
 
بشکک میں شنگھائی سربراہی اجلاس نے واضح کیا کہ دوسرے ملکوں کی سلامتی کی قیمت پر کسی ایک ملک کی سلامتی کو محفوظ بنانے کی کوششیں بھی قابل قبول نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے یا ممالک کے گروہ کی جانب سے یکطرفہ اور لامحدود میزائل ڈیفنس نظام بین الاقوامی امن کے لئے خطرناک  اور دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا عامل ہے۔ رکن ممالک نے اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کاؤنسل کے مرکزی کوآرڈینٹنگ کردار کو بڑھانے کی حمایت کی، کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت عالمی امن کے قیام کا ذمے دار یہی ادارہ ہے۔
 
اس تنظیم کے رکن جن ممالک نے ”دہشت گردی سے پاک دنیا“ کے لئے ضابطہ اخلاق پر دستخط کئے ہیں، انہوں نے اس پر مسلسل و مستقل عمل کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔ وسطی ایشیاء کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاہدے کے لئے دستخط کرنے والے سارے ممالک کو سلامتی کی ضمانت کے پروٹوکول کو فوری نافذ کرنے کو ضروری قرار دیا۔ اجلاس نے رکن ممالک پاکستان، بھارت، تاجکستان اور کرغیزستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کی (غیر مستقل) رکنیت کے ارادے کی حمایت کی۔ ساتھ ہی چین، روس، پاکستان، قزاقستان اور ازبکستان کی اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کاؤنسل کی رکنیت کے ارادے کا تذکرہ بھی اعلامیہ میں شامل کیا گیا، جبکہ شنگھائی تنظیم افغانستان کنٹیکٹ گروپ کی طرف سے مزید اقدامات کا روڈ میپ بھی منظور کر لیا گیا۔ اگلی سربراہی کانفرنس تک روس کو شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ روسی صدر پوتین رکن ممالک کے مابین ثقافتی اور انسانی (humanitarian) تعلقات کو گہرا کرنے اور فزیکل ایجوکیشن، ماس میڈیا، کھیل اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر کام کرنا چاہتے ہیں۔
یوں تو مختلف ممالک میں اس اجلاس کے بارے میں ہر کوئی اپنے ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے دے رہا ہوگا، لیکن اس اجلاس کی سائیڈ لائنز پر چند ڈیولپمنٹس ایسی ضرور ہوئی تھیں، جسے کوئی بھی دوسرا ملک نظر انداز نہیں کرسکا ہوگا۔ پہلی اہم ترین ڈیولپمنٹ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور روس کے صدر ولادیمیر پوتین کی غیر رسمی قربتیں اور خوش گپیاں تھیں۔ انتہائی خوشگوار موڈ میں دونوں کی بات چیت سبھی کی توجہ کا مرکز تھی۔ عمران خان کا پروٹوکول کو نظر انداز کرنا ایک منفی پہلو تھا، جس پر شدید تنقید بھی کی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان کے نئے وزیراعظم کسی بھی بین الاقوامی فورم پر سفارتی محاذ پر چھائے ہوئے نظر آئے۔ صدر پوتین سے باہمی تعامل کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ تھی کہ وہاں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی بھی اس ملاقات و بات چیت کے چشم دید گواہ تھے۔

گروپ فوٹو میں بھی مودی دوسرے کونے پر تھے جبکہ پوتین اور عمران خان اس وقت بھی خوش گپیاں کرتے دیکھے گئے۔ کھانے کی میز پر بھی پوتین عمران قربتیں دیکھی گئیں۔ حالانکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ویب سائٹ نے عمران خان کی دو طرفہ ملاقاتوں میں پوتین سے بات چیت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے صرف میزبان ملک کرغیزستان، بیلاروس اور اہم پڑوسی ملک چین کے سربراہان مملکت سے دو طرفہ ملاقاتوں کی خبر کو جگہ دی ہے۔ یہ ملاقاتیں ضرور اہم ہوں گی، لیکن روس کے صدر پوتین کے ساتھ یہ باہمی تعامل ان سبھی ملاقاتوں سے زیادہ اہم تھا اور یہی وجہ تھی ذرائع ابلاغ اور عوام الناس ہی کی نہیں بلکہ وہاں موجود سربراہان کی توجہ بھی اسی پر مرکوز رہی۔
 
البتہ جس خبر کو پاکستان میں کم اہمیت دی گئی، وہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی باہمی ہیلو ہائے تھی، حالانکہ یہ بھی کم اہم بات نہیں تھی کہ دونوں کی علیک سلیک بھی خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی۔ عمران خان نے شنگھائی سربراہی کانفرنس کے اجلاس میں جو تقریر کی، اس میں لفظ کشمیر کا تذکرہ شامل نہیں تھا جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنی تقریر میں خطے کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے ان ترقیاتی منصوبوں کی بات کی، جس میں بھارت شامل ہے یا جس کی وہ حمایت کرتا ہے، جیسا کہ نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور، چابہار بندرگاہ، اشک آباد معاہدے کی بات بھی کی۔ انہوں نے زور دیا کہ دیگر ممالک کی خود مختاری کا بھی احترام کیا جائے۔ پہلے بھی وہ یہ تاکید کرچکے ہیں اور اس نکتے کی تشریح کرنے والے ان کی اس بات کا اطلاق چائنا کے بیلٹ روڈ یا بی آر آئی منصوبے پر کرتے ہیں کہ سی پیک منصوبہ بھی اسی کا حصہ ہے، یعنی مودی کا پاکستان اور چائنا دونوں کو یہ پیغام ہے کہ وہ علاقہ جسے بھارت اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے، اسکو بھارت کی اجازت کے بغیر اس منصوبے کا حصہ بنانا اس کی نظر میں اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔
 
حیرت انگیز تقریر عمران خان کی ہے کہ وہ پوتین سے مل لئے، مودی سے ہیلو ہائے کرلی۔ میزبان ملک، بیلاروس اور چین کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کرلیں۔ تقریر میں افغانستان کا نام لے لیا مگر لفظ کشمیر انکی تقریر میں ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں ہوا۔ اس پر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھی خاموشی چھائی رہی اور کہیں سے بھی مائنس کشمیر تقریر پر تنقید سامنے نہیں آئی۔ اس کے بعد کے ایک ہفتے میں یہ ضرور ہوا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو جوابی خطوط بھیجے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان نے مودی کو دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے پر تہنیتی خطوط بھیجے تھے، لیکن نہ تو بھارت نے پاکستانی وزیراعظم کو تقریب حلف برداری میں مدعو کیا اور نہ ہی تہنیتی خط کا جواب دیا تھا۔ البتہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد یکایک جواب دینے کی زحمت گوارا کرلی گئی ہے۔ سفارتی اخلاقیات کے تحت اس نوعیت کے تہنیتی پیغامات بھیجے جاتے ہیں اور سفارتی آداب ہی تقاضا کرتے ہیں کہ اس پر جوابی خط میں شکریہ ادا کیا جائے، لیکن مودی حکومت نے جوابی خط ارسال کرنے میں بہت وقت لگایا۔
گو کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں بہت سے نکات پر اتفاق رائے موجود ہے، لیکن رکن ممالک کی امریکا سے بھی بہت سے معاملات میں قربتیں ہیں۔ صرف پاکستان اور بھارت کشیدہ تعلقات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ رکن ممالک میں چین اور بھارت کے اختلافات بھی ایسی تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر اس سربراہی اجلاس میں بھی آٹھ رکن ممالک میں سے 6 ممالک بشمول پاکستان، روس، کرغیزستان، قزاقستان، تاجکستان اور ازبکستان نے ساتویں ملک چین کے بیلٹ روڈ منصوبے کی حمایت کی، لیکن بھارت واحد ملک تھا جس کا نام اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ اسی تحریر میں ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ اس حوالے سے بھارت کا موقف کیا ہے!

جب تک بھارت، چین اور پاکستان یعنی اس تنظیم کے تین اہم رکن ممالک کے مذکورہ اختلافات موجود ہیں، جنوب مشرقی ایشیاء سے وسطی ایشیاء تک یہ علاقائی بلاک اتنا مضبوط پلیٹ فارم نہیں بن سکے گا، جتنا کہ اس کی مخفی صلاحیت ہے۔ البتہ کسی نہ کسی حد تک اس کی اہمیت ضرور ہے لیکن موثر کردار کے لئے اختلافات کا خاتمہ پہلی شرط ہے۔ یہ ان ممالک کے اختلافات ہی ہیں کہ امریکا صرف چین ہی نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ بھی تجارتی جنگ کا آغاز کرچکا ہے جبکہ پاکستان کو بھی دیگر ایشوز پر بلیک میل کر رہا ہے۔ حالانکہ مختلف معاملات میں امریکا کی بھارت، پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ قربتیں بھی ہیں، جبکہ روس کے ساتھ بھی اپنے مطلب کے لئے تعلقات اچھے کرنے کی تگ و دو میں مصروف نظر آرہا ہے۔ امریکا کی اس روش میں شنگھائی تنظیم کے رکن ممالک کے لئے یہ سبق پوشیدہ ہے کہ رکن ممالک امریکا کی غیر قانونی مداخلتوں اور سازشوں کو روکنے اور ناکام کرنے کے لئے اپنے اور اس خطے کے مفاد میں متفقہ موقف کے ساتھ مسلسل ٹھوس اور موثر عملی اقدامات کریں۔
خبر کا کوڈ : 800722
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے