0
Friday 21 Jun 2019 20:37

اسلامی ایران تخیلات اقبال کی مجسم تفسیر

اسلامی ایران تخیلات اقبال کی مجسم تفسیر
تحریر: سید اسد عباس
 
امریکہ اور اس کے حواری ایران کے بارے میں سخت غلط فہمی کا شکار ہیں، انہیں اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے حقائق پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ 1979ء کا ایران نہیں ہے، جس کے پاس ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کی کمی تھی اور دشمن اس پر جدید اسلحہ کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا، حتی کہ ایران کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کی چارج شیٹ میں ایک جرم یہ بھی ڈالا گیا کہ اس کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں، چارج شیٹ میں یہ نہیں لکھا گیا کہ صدام نے یہ ہتھیار کہاں سے حاصل کیے۔ اس وقت بھی ایرانی عوام نے اپنی سرزمین کے چپے چپے کا دفاع کیا، بھلے اس کے لیے انہیں لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ اقتصادی پابندیاں، جنگ، دہشت گردی کی کارروائیوں، سیاسی مقاطع ایران کا کچھ نہ بگاڑ پائے۔ انقلاب اسلامی کے بعد کے ایران میں ہم نے اقبال کے کئی ایک شعروں کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے دیکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقبال کا یہ شعر ایران میں ایک حقیقت بن کر اقوام عالم کے سامنے آیا۔
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے


اقوام عالم نے دیکھا کہ اقتصادی پابندیوں، سیاسی مقاطع، جنگ، خونریزی کے باوجود ایران نے ترقی کی اور آج یہ قوم اس قابل ہے کہ امریکہ کے جدید ترین ہتھیاروں کو رات کی تاریکی میں تباہ کرسکتی ہے۔ ایران کی علمی، سائنسی، ثقافتی، طبی، صنعتی ترقی اس کے علاوہ ہے۔ ایران عراق جنگ میں ایرانی قوم کی بے سروسامانی نے اقبال کے اس شعر کو سچائی کا رنگ دیا۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

ایرانی پاسداران نے آٹھ برس تک چھوٹے ہتھیاروں اور بہت کم فضائی قوت کے ساتھ سکڈ میزائلوں، ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، جہازوں، جنگی کشتیوں سے لیس اپنے سے طاقتور دشمن کا مقابلہ کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقبال اپنے اس شعر میں امام خمینی سے ہی ہم کلام تھے۔
اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے


ایران کی جنگی تاریخ کو جاننے والے افراد اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اساتذہ، طالب علم، یونیورسٹی اسٹوڈنٹ، ڈاکٹر، انجینئر، علماء، تاجر، دکاندار سبھی اس جنگ کا حصہ تھے اور ان کی نجی محافل نیز محاذ جنگ کی کیفیت اقبال کے اس شعر میں بیان ہوئی ہے۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

اقبال کا یہ شعر بجا طور پر اس وقت کے اور موجودہ عالم اسلام کی عکاسی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے مقابل ایرانی قوم کے رویے کو بیان کرتا ہے۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

اقبال نے اسی نظم کے پہلے شعر میں خودی اور اس کے سربستہ راز کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ


ایسے اشعار کا ایرانی قوم کے رویئے اور عمل پر صادق آنا محض اتفاق نہیں ہے بلکہ ایرانی قوم نے اپنے روحانی پیشوا کی قیادت میں اس راز کو پا لیا تھا، جس کی جانب اقبال اشارہ کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کا ہر شعر ہمیں اپنے ہمسایہ ملک کے معرکوں میں مجسم ہوتا نظر آتا ہے۔ اقبال بجا طور پر شاعر مشرق تھے، تمام امت مسلمہ کا اثاثہ، جو بھی قوم اقبال کے راز خودی کو پا لے گی، اس سے ایسے ہی حیران کن معجزے رونما ہوں گے، جو کہ غلام ذہنوں کے فہم و ادراک سے باہر ہیں۔ یمن کے بادیہ نشینوں کو ہی لے لیجیے، مسلسل چار برس تک وہ اپنے کلمہ گو ہمسایوں کی جانب سے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے، اب جبکہ ان پر حجت تمام ہوچکی تو انہوں نے چند ہی روز میں جنگ یمن کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ اب وہ ہوائی اڈے جہاں سے بلاخوف جہاز اڑان بھر کر غریبوں کی آبادیوں پر حملہ آور ہوتے تھے، ویران پڑے ہیں۔ وہ دشمن جو طاقت کے نشے میں یمنیوں کے عزم و حوصلہ کو توڑنے کے لیے سرگرم عمل تھا، چند ہی دنوں میں خاموش ہونے پر مجبور ہوگیا ہے اور فرار کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ اب اسے معلوم ہے کہ ایک حملے کا جواب بہت بڑے مالی نقصان کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

ایسا ہی ایک معجزہ اس سے قبل ہم لبنان میں بھی ملاحظہ کرچکے ہیں، جہاں مٹھی بھر جنگجوؤں نے چھوٹے ہتھیاروں سے خطے کی سب سے بڑی طاقت کو ناکوں چنے چبوائے اور وہ بدمست دشمن اپنی جان بچا کر لبنانی سرزمین سے نکلتا بنا۔ یہ سب اسی سر نہاں کی بدولت ہے، جس کا تذکرہ اقبال لاہوری نے اپنے اشعار میں کیا تھا۔ جنگ کو کوئی بھی شخص اچھا نہیں کہہ سکتا ہے، تاہم جب استبداد اور استعمار ظلم اور بربریت کے ذریعے اپنے حکم کو مستضعفین پر مسلط کرنا چاہے اور زمین کو ان پر تنگ کر دے تو اس وقت جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت ۔۔۔ سید علی خامنہ ای نے گذشتہ دنوں اقوام عالم کو حیران کر دیا، جب جاپانی وزیراعظم سے امریکی صدر کا خط وصول نہ کیا اور اس کے جواب میں کہا کہ میں اس کو پیغام دینے اور اس کا پیغام لینے کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹ کہتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ایران کا کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتا۔ اگر وہ ایران کی حکومت اور ریاست کا کچھ بگاڑ سکتا ہوتا تو وہ ایسا کرچکا ہوتا۔

جہاں یہ بیانیہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے لیے حیران کن ہے، وہیں یہ ان غلاموں کے لیے بھی نیا ہے، جنھوں نے اب تک خودی کے سر نہاں کو دریافت نہیں کیا ہے۔ ان غلام ذہنوں نے تو کبھی تنہائی میں بھی ایسا نہیں سوچا ہوگا کہ وہ امریکا کے کسی سربراہ سے اس زبان اور لہجہ میں بات کرسکتے ہیں۔ امریکی ڈرون گرانا یا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ سید علی خامنہ ای کا یہ لہجہ ایرانی قوم یا کسی خاص زبان سے مخصوص نہیں ہے، یہ لہجہ قرآن کریم کا لہجہ ہے۔ یہ زبان اسلامی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل سے حاصل ہوتی ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے یقیناً قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ایرانی قوم نے یہ قربانیاں دہائیاں پہلے دیں اور آج وہ اس قابل ہیں کہ دنیا کے ہر بدمعاش کی بڑھتی ہوئی کلائی کو مروڑ کر اسے اس کی حیثیت سے روشناس کروائیں۔
خبر کا کوڈ : 800784
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب