0
Saturday 22 Jun 2019 08:15

حملے سے پہلے ناکامی

حملے سے پہلے ناکامی
اداریہ
ایران کے خلاف امریکی صدر کے حملے کی اجازت اور اس فیصلے کی فوری واپسی عالمی میڈیا کا سب سے زیادہ مقبول موضوع بنا ہوا ہے۔ امریکی اخبارات نے اس بات کی تائید کی ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے سرجیکل اسٹرائیک کا حکم  جاری کر دیا تھا، لیکن انہیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنا حکم واپس لے لیا۔ ٹرامپ کے ٹوئٹ سے بھی اس کی تصدیق ہو رہی ہے۔ امریکی صدر جب سے ایٹمی معاہدے "جے سی پی او اے" سے علیحدہ ہوئے ہیں اور انہوں نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، وہ "زیادہ سے زیادہ دبائو" کی اسٹریٹیجی پر عمل پیرا ہیں، وہ ایک طرف حملے کی باتیں کرتے ہیں، دوسری طرف ایک مخصوص ٹیلی فون سوئٹزرلینڈ کے سفارتخانے کو دیتے ہیں کہ ایران اس کے ذریعے ان سے رابطہ کرے۔ ڈونالڈ ٹرامپ ایک طرف نئی نئِ پابندیاں عائد کرتے ہیں اور دوسری طرف جاپان کے وزیراعظم کو اپنا ایلچی بنا کر مذاکرات کا پیغام بھیجتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے امریکی صدر کی متلون مزاجی قرار دیتے رہے ہیں اور کچھ اسے امریکی بی ٹیم کا کیا دھرا ثابت کر رہے ہیں۔

عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق خطے پر جنگ کے بادل روز بروز گہرے ہو رہے ہیں، جبکہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بڑی صراحت کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ جنگ نہیں ہوگی۔ گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں گلوبل ہاک نامی جدید ترین امریکی ڈرون کی ایرانی فورسز کے ہاتھوں تباہی اور عمان کے ذریعے ایران کو جنگ کی دھمکی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ امریکہ ایک ایسے مخمصے میں گرفتار ہوگیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے اسے یا تو جنگ کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا یا کسی ایسے ثالث کو درمیان میں لانا پڑے گا، جو امریکہ کی ساکھ کو بھی بچا لے اور ایران سے کچھ مطالبات بھی منوا لے۔ دوسری طرف ایران اپنے دفاع اور دفاعی میزائلوں کے حوالے سے کسی سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ ایران کا ماضی کا تجربہ اور عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کمزور کر مزید دبایا جائے اور طاقتور کی ہر بات کو تسلیم کر لیا جائے۔

ڈونالڈ ٹرامپ آئندہ کے الیکشن کے لیے کسی بڑی کامیابی کے متمنی ہیں، اںہیں ایک ایسا ایشو چاہیئے، جسے وہ اپنی انتخابی کمپین میں سینہ پھیلا کر امریکی عوام کے سامنے پیش کرسکیں۔ اسّی کی دہائی میں اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی طبس کے صحرا میں اپنے جدید ترین طیاروں اور تربیت یافتہ کمانڈوز کے ذریعے سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ریت کا طوفان خدائی لشکر اٹھا، امریکی کمانڈوز اور امریکہ کی جدید ترین جنگی مشینری کو ناکام و نامراد ہو کر دم دبا کر واپس لوٹنا پڑا۔ اس ناکام فوجی کارروائی کی وجہ سے صدر کارٹر انتخابات میں بری طرح ہار گئے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کو بھی کارٹر سے عبرت حاصل کرنی چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو ایران کے خلاف کوئی انتہائی اقدام ٹرامپ اور ان کی جنگ پسند نیوکان کی ٹیم کو امریکی سیاست سے ہی نکال باہر کر دے۔
خبر کا کوڈ : 800852
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب