0
Sunday 23 Jun 2019 08:19

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
اداریہ
خداوند عالم نے انسان کو اجتماعی زندگی گزارنے کے لیے خلق کیا تھا اور اس معاشرتی زندگی کو بہتر انداز سے گزارنے کے لیے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا، تاکہ انسان انفرادی کے ساتھ اجتماعی زندگی بسر کرنے کے طریقے اور روش سیکھے۔ خدا کے برگزیدہ انبیاء و اولیاء نے معاشرے کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد و ہدف قرار دیا، پس جو لوگ خدا کے بھیجے انبیاء و رسل کی تعلیمات سے وابستہ رہے یا مستقبل میں بھی وابستہ رہیں گے، وہ اجتماع اور معاشرے کی بہتری کے لیے سرگرم رہیں گے اور انفرادی مفادات کو قربان کرتے ہوئے اجتماعی مفادات کے لیے کوشاں رہیں گے۔ انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ سازی کے لیے نئے نئے راستے تلاش کیے اور نوبت موجودہ جمہوری نظام تک آپہنچی، جسے شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دیا کہ
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے


جمہوری تماشے میں لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے اور ووٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں، چونکہ تولنے کی بجائے گننے کا عمل ترجیح و فوقیت رکھتا ہے، لہذا عوام الناس کے قلب و ذہن کو لبھانے کے لیے سیاسی قائدین اور قیادتوں کے امیدوار اپنی انتخابی مہم میں آسمان سے ستارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے انتخابی نظام کی طرح دنیا کی بڑی طاقت امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات نعروں اور وعدوں کی گونج میں لڑے جاتے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی امیدوار داخلی اور خارجی پالیسیوں کو اپنی انتخابی مہم میں موضوع گفتگو بنا کر وائٹ ہائوس جانے کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ موجودہ امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات کی دوڑ شروع ہوا چاہتی ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کو الیکشن کمپین کے لیے چند بڑے نعرے اور کچھ کامیابیاں درکار ہیں۔ ان کامیابیوں کے حصول کے لیے ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کی ٹیم ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ ٹرامپ نے عرب حکمرانوں کو ایران سے ڈرا کر اپنی ہتھیاروں کی صنعت کو زندہ کرکے نہ صرف ایک بہت بڑی لابی اور اس صنعت سے وابستہ امریکہ کے بڑے سرمایہ دار گروپوں کو اپنا گرویدہ کر لیا ہے بلکہ عوام میں بھی روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ اپنی داخلی کامیابیوں سے کافی حد تک مطمئن نظر آرہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر انہیں چند اہم کامیابیوں کی سخت ضرورت ہے۔

ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنے دور صدارت میں تین سے چار بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے نعرے بازی کی تھی، ان میں فلسطین کے حوالے سے سنچری ڈیل، شمالی کوریا کو ایٹمی اسلحے سے روکنے کے لیے سفارتی حل، ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرکے اپنی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا اور افغانستان سے باعزت واپسی۔ ڈونالڈ ٹرامپ کو مذکورہ تمام مسائل میں بری طرح ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ اب وہ ان امور کو عارضی طور پر ہی سہی حل کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کی جنگ پسند ٹیم جسے "ہاکس اور نیئوکانس" کہا جاتا ہے، وہ فوری جنگ بالخصوص مشرق وسطیٰ کو فتح کرنے اور ایران پر حملے کے ذریعے کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے کی خواہشمند ہے، جبکہ ڈونالڈ ٹرامپ کو ریپبلکنز پارٹی کی واضح اکثریت اس اقدام کی مخالف ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ ایک تاجر پیشہ شخص ہے، وہ نطریاتی نہیں بلکہ نفع نقصان کی بنیادوں پر فیصلہ کرے گا۔ ایران نے ابھی تک اپنی دلیرانہ پالیسیوں اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دوراندیشی پر مبنی دوٹوک جرات مندانہ فیصلوں کی وجہ سے امریکہ کو جنگ شروع کرنے سے روکا ہوا ہے۔ ایران کی استقامت نے ٹرامپ اور اس کے جنگ پسند ٹولے کو ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے کہ اب "نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔"
خبر کا کوڈ : 801020
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب