0
Sunday 23 Jun 2019 10:29

امریکہ۔۔۔۔ ایرانی حکومت سے ارادے کی تبدیلی تک

امریکہ۔۔۔۔ ایرانی حکومت سے ارادے کی تبدیلی تک
تحریر: تصور حسین شہزاد

امریکہ کے انتخابات میں صدارتی امیدوار کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام آیا تو بہت سے امریکی اس بات پر ہی ہنسے کہ "کیا اب ایک مسخرہ امریکہ پر حکومت کرے گا۔" امریکی میڈیا نے بھی امریکی عوام کے اس تبصرے کو من و عن شائع کیا، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے افسوس کا اظہار بھی کیا اور میڈیا کیساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ رہے۔ مگر اب ثابت ہوچکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں امریکیوں کی رائے درست تھی۔ ٹرمپ کے مزاج میں ٹھہراو نام کی کوئی چیز نہیں۔ صبح اس کی رائے کچھ ہوتی ہے تو دوپہر کو کچھ، جبکہ شام کو تو اس کی رائے مکمل طور پر بدل چکی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان کے وزیراعظم جب ایران کے دورے پر تہران آتے ہیں اور رہبر معظم سید علی خامنہ ای کیلئے ٹرمپ کا پیغام لاتے ہیں تو ٹرمپ کی "اصل اوقات" رہبر کے منہ سے سن کر خاموش ہو جاتے ہیں۔

رہبر نے اس موقع پر کہا کہ "ہم ٹرمپ کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ اس کی کسی بات کا جواب دیں، یا اس پر اعتبار کریں۔" رہبر معطم نے واضح کر دیا کہ ٹرمپ امریکہ کا بے اعتبار صدر ہے، جس کی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ 40 سال کوشش کرتا رہا کہ ایران کی اسلامی حکومت کو ختم کرکے وہاں سیکولر حکومت قائم کرے۔ ایرانی حکومت گرانے کیلئے امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مسلسل 40 سال اسی کوشش میں رہا کہ کسی طرح ایرانی حکومت تبدیل کر دی جائے۔ اس کا اظہار بھی برملا کیا جاتا رہا کہ ایران میں حکومت تبدیل کر دیں گے۔ حکومت کیساتھ ساتھ ایران کے اسلامی انقلاب کے حوالے سے بھی امریکیوں کی آراء ایسی ہی تھیں کہ یہ انقلاب اپنے 30 سال بھی پورے نہیں کر پائے گا، مگر تاریخ کی بوڑھی آنکھوں نے بذات خود یہ منظر دیکھا کہ انقلاب نے نہ صرف 30 بلکہ 40 سال پورے کر لئے ہیں اور آج کا اسلامی انقلاب ماضی کے  مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور مضبوط ہے۔

امریکہ کو ایرانی حکومت کی تبدیلی میں بدترین ناکامی ہوئی تو اب ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان بدل لیا۔ امریکی صدر کہتے ہیں کہ ہم ایران میں حکومت نہیں بدلنا چاہتے بلکہ ہم ان کیساتھ مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ حکومت یہی رہے، لیکن یہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے اور ہمارے کچھ مطالبات تسلیم کر لے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی مذاکرات کی پیشکش کو بھی جوتے کی نوک پر رکھا اور واضح کہہ دیا کہ اب امریکہ کیساتھ مذاکرات کا آپشن بھی باقی نہیں رہا۔ اب امریکہ ایران کو مزید اقتصادی پابندیوں سے ڈرا رہا ہے۔ اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے رہبر انقلاب امام خمینی نے فرمایا تھا کہ اگر امریکہ ہم پر اقتصادی پابندیاں لگانے جا رہا ہے تو سوچ لے کہ "ہم فرزندِ ماہ رمضان ہیں" یعنی ہم روزے رکھنے والی قوم ہیں۔ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں ہم روزے رکھیں گے، جس سے ثواب بھی ملے گا اور مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔

اب امریکہ نے اپنے ناکامی کے بعد نیا پینترا بدلا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے ایران کی حکومت نہیں بدلنا چاہتے، ایران اپنا ارادہ بدلے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کیلئے اس پر مزید بڑی پابندیاں عائد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تہران میں موجود مقامی قیادت اپنا ارادہ تبدیل نہیں کرتی، ان کیخلاف اقتصادی دباؤ قائم رکھا جائے گا۔ واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں، بعض معاملات میں ہم تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ اب امریکہ کی حالت یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے ارادے کی تبدیلی تک آن پہنچا ہے۔ مستقبل قریب میں یہ ایرانی قیادت کے ارادے کو بھی تسلیم کر لے گا اور پھر کوئی اور آپشن دے دے گا۔ اس کے بعد اس سے بھی دستبردار ہو جائے گا اور ایران کے سامنے لیٹ جائے گا۔

جہاں تک ایران کیساتھ جنگ کی بات ہے تو وہ امریکہ کسی طور بھی یہ خطرہ مول نہیں لے گا، کیونکہ ایران کیساتھ ہونیوالی جنگ دنیا میں امریکہ کے سارے رعب و دبدبے کو ملیا میٹ کرکے رکھ دے گی۔ ایران کی جانب سے حالیہ امریکہ ڈرون گرائے جانے کے واقعہ نے امریکہ کی نیندیں حرام کر دی ہیں کہ ایران کے پاس ایسی جدید ٹیکنالوجی آئی کہاں سے ہے کہ امریکہ کا جدید ترین ڈورن چند لمحوں میں زمیں بوس کر لیا گیا۔ امریکہ ویسے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر ایران پر حملہ نہیں کرسکتا۔ سلامتی کونسل میں چین اور روس موجود ہیں، جو امریکہ کا مطالبہ ویٹو کرنے میں اہم ترین کردار ثابت ہوں گے۔ یوں ایران کے معاملے میں امریکہ دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ یورپی یونین نے بھی ایران پر حملے کی صورت میں تعاون کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ ایران نے بہت سے ممالک کیساتھ دفاعی معاہدے کر رکھے ہیں۔ ایران پر حملے کی صورت میں عراق، افغانستان، شام، لبنان سمیت دیگر علاقوں میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ایران پر حملے کی صورت میں سب سے پہلا نشانہ اسرائیل بنے گا، جس پر میزائل بارش کی طرح برسیں گے اور اسرائیل کو مٹی کا ڈھیر بنا کر رکھ دیں گے۔

امریکہ ایران کیخلاف جن عرب ملکوں پر انحصار کئے ہوئے ہے، وہ بھی جنگی صورتحال میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے، بلکہ بساط ایک دم الٹ جائے گی اور امریکہ کیلئے یہاں ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ شام مکمل طور پر ایران کیساتھ ہے، عراق نے بھی امریکیوں کو جھنڈی کروا دی ہے۔ افغانستان میں طالبان کے ایران کیساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، چین اور روس کی حمایت بھی اعلانیہ طور پر ایران کیساتھ ہے جبکہ انڈیا کیلئے امریکہ کی نسبت ایران بہتر چوائس ہے، انڈیا چین کے بعد ایران سے خام تیل خریدنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ایران کی تیل کی برآمدات کا 10 فیصد انڈیا کو جاتا ہے۔ 2012ء سے 2016ء کے درمیان ایران کیخلاف امریکہ اور یورپی ممالک کی پابندیوں کے باوجود ایران انڈیا کو خام تیل سپلائی کرنیوالا سب سے بڑا ملک تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے اعلان کے چند ہفتے بعد انڈیا کی وزیر خارجہ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ انڈیا کسی کی پابندی کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعے منظور کی گئی پابندیوں کے نفاذ کا پابند ہے۔

ایران نے انڈیا کے اس موقف کی ستائش کی تھی اور اسے ایک اصولی موقف قراد دیا تھا۔ انڈیا نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس نے ایران سے تیل کی درآمد کے سلسلے میں کیا فیصلہ کیا ہے۔ کیا وہ ایران کو چھوڑ کر امریکہ کیساتھ کھڑا ہوگا یا وہ اپنے اصولی موقف پر عمل کرتے ہوئے ایران کا ساتھ دے گا اور امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لے گا۔ لیکن علاقائی صورتحال بتا رہی ہے کہ انڈیا 7 سمندر پار ملک کی بجائے اپنے ہمسائے سے تعلقات کو ترجیح دے گا، جو امریکہ کی ایک اور ناکامی ہوگی۔ امریکہ کا اقتدار جب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں آیا ہے، اسے مسلسل ناکامیوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے، جو ایران کی استقامت اور امریکہ کے زوال کی طرف ایک اشارہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 801038
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے