1
Sunday 23 Jun 2019 20:23

سوڈان کا سیاسی مستقبل

سوڈان کا سیاسی مستقبل
تحریر: علی احمدی

11 اپریل کے دن سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر کو اقتدار سے علیحدہ کر دیے جانے کے بعد اب تک یہ ملک سیاسی بحران کا شکار ہے۔ گذشتہ دو ہفتے سے آرمی ہیڈکوارٹر کے سامنے جاری عوامی مظاہروں کے خلاف طاقت کا کھلا استعمال جاری ہے جس میں اب تک 118 افراد جاں بحق اور سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ لیکن اب تک ملک میں جاری سیاسی بحران حل ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ سوڈان پر برسراقتدار فوجی کونسل اور سیاسی مخالفین کے درمیان اب تک شدید تناو پایا جاتا ہے جبکہ دونوں طرف سے مذاکرات کا راستہ اپنائے جانے پر تاکید کی جا رہی ہے۔ سوڈان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں چند ممکنہ منظرنامے پائے جاتے ہیں:

1)۔ انارکی اور بدامنی
سوڈان کی مسلح افواج اور سیکورٹی فورسز جیسے ریپڈ ری ایکشن فورس، انٹیلی جنس اداروں اور پولیس میں مناسب ہم آہنگی اور اتحاد کا فقدان ہے جس کے باعث مستقبل قریب میں اس ملک میں وسیع پیمانے پر بدامنی اور انارکی پیدا ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔ البتہ حکمفرما فوجی کونسل کا دعوی ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے اور مسلح افواج ایک پیج پر ہیں اور ملک میں افراتفری کا خطرہ نہیں پایا جاتا۔ فوجی کونسل کا موقف ہے کہ گذشتہ صدر عمر البشیر کے حامی بعض مسلح عناصر عوام کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات میں ملوث ہیں اور ان کا مقصد سابقہ حکومت میں موجود افراد کے خلاف عدالتی کاروائی میں رکاوٹیں ایجاد کرنا ہے۔ البتہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سوڈان پر حکمفرما فوجی کونسل اپنا اقتدار یقینی بنانے کیلئے ملک میں بدامنی پھیلانے کا حربہ استعمال کر سکتی ہے جس کی آڑ میں وہ آسانی سے اپنے سیاسی مخالفین کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

2)۔ باہمی مفاہمت
دوسرا امکان سوڈان پر حکمفرما فوجی کونسل اور ان کے سیاسی مخالفین میں مفاہمت کا عمل ہے۔ یہ آپشن علاقائی اور بین الاقوامی برادری کی نظر میں مطلوب ہے۔ اس مقصد کیلئے فوجی کونسل اور سیاسی مخالفین کے درمیان عبوری حکومت کے قیام سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ باہمی مفاہمت ایسی صورت میں امکان پذیر ہو گی جب عبوری حکومت میں فوجی اور سویلین قوتوں کو مناسب حد تک حصہ دیا جائے گا۔ اس سمت میں کچھ اقدامات انجام پائے ہیں لیکن ماہرین کی نظر میں فی الحال فریقین کے درمیان مفاہمت کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس کی ایک وجہ فریڈم اینڈ چینج پارٹی کی جانب سے فوجی سربراہان مملکت سے براہ راست مذاکرات سے انکار ہے۔ اس پارٹی نے ملک میں انسانی حقوق کی بحالی اور عوامی مقامات سے فوجی کے انخلاء کیلئے بین الاقوامی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

3)۔ مصر طرز کا ماڈل
اس منظرنامے کے تحت یہ امکان پایا جاتا ہے کہ سوڈان پر برسراقتدار فوجی کونسل مخالفین کے مطالبات سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنا اقتدار بدستور جاری رکھیں۔ سیاسی ماہرین کی نظر میں سوڈان میں حکمفرما فوجی کونسل کے اب تک کے اقدامات بہت حد تک مصر میں برسراقتدار آنے والی فوجی حکومت سے ملتے جلتے ہیں۔ یاد رہے مصر میں 6 برس پہلے جنرل عبدالفتاح السیسی نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا جو اب تک جاری ہے۔ سوڈان میں حکمفرما فوجی کونسل بھی جنرل السیسی کی طرح عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ 3 مئی کے دن فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی اور ان میں سے بعض کو اٹھا کر دریا میں پھینک دیا گیا۔ برسراقتدار فوجی کونسل نے اب تک سابقہ حکومت میں شامل افراد کے بینک اکاونٹس منجمد نہیں کئے جبکہ اہم اور حساس عہدوں پر بھی گذشتہ حکومت سے وابستہ افراد باقی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی سربراہان انقلابی عوام کو فریب دینے میں مصروف ہیں۔

4)۔ فوجی بغاوت
سوڈان میں ایک اور ممکنہ منظرنامہ فوجی بغاوت ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ فوج ملک میں موجود بدامنی اور سیاسی بحران کی آڑ میں حکمفرما کونسل کو برطرف کر کے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ اس آپشن کیلئے ملک میں سابقہ حکومت جیسے بحران کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ملک میں اقتصادی بحران پہلے کی طرح باقی ہے۔ دوسری طرف عالمی برادری نے بھی فی الحال سوڈان کی فوجی کونسل کو تسلیم نہیں کیا۔ اس وجہ سے بھی عوامی احتجاج میں شدت آرہی ہے۔ سوڈان کے مستقبل میں فوج کے کردار کا امکان بہت زیادہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 801101
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے