0
Monday 24 Jun 2019 08:40

بن زائد اور بن سلمان کی آہیں

بن زائد اور بن سلمان کی آہیں
اداریہ
خطے کی سیاست میں بظاہر نشیب و فراز دیکھنے میں آرہے ہیں، لیکن بنیادی پالیسیاں وہی ہیں، جو اسّی کے عشرے میں شروع ہوئی تھیں۔ 1979ء میں ایران کے اسلامی انقلاب نے خطے میں طاقت کا جو توازن تبدیل کیا تھا، وہ بدستور اپنی جگہ پر موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ اگر ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب نہ ہوتا تو آج اسرائیل مشرق وسطیٰ کی اصل سپرپاور ہوتا اور ایران و سعودی عرب سمیت تمام ممالک اسرائیلی صہیونی ریاست کے اشاروں پر ناچ رہے ہوتے۔ اس بات کا تصور کرتے ہوئے ہی خوف آتا ہے کہ اگر اسرائیل کے راستے میں مزاحمتی بلاک کی صورت میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو آج صہیونی اثر و رسوخ کہان تک پہنچ گیا ہوتا اور صہیونی پارلیمنٹ کے گیٹ پر بنے نقشہ کو حقیقت کا روپ مل چکا ہوتا۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے خطے کے لیے امریکہ کی دو ستونوں پر استوار معروف پالیسی کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ امریکہ انقلاب اسلامی سے پہلے مشرق وسطیٰ بلکہ پورے ایشیاء مین دو ستونوں سعودی عرب اور ایران پر تکیہ کرتا تھا، لیکن اسلامی انقلاب نے امریکہ کو ایک ستون سے محروم کر دیا اور آج خطے میں امریکہ کا تنہا ستون سعودی عرب رہ گیا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایران نے مزاحمتی بلاک کو قوی کرکے عراق، شام، لبنان اور یمن سمیت دیگر خلیجی ممالک کے عوام کی اکثریت کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے۔ اس وقت امریکہ کے لیے خطے میں جتنی نفرتیں ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ مشرق وسطی میں امریکہ کی تمام تر امیدیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنے داماد کوشنر کو بن سلمان اور بن زائد کے ساتھ ہم پیالہ اور ہم نوالا بنا کر ایران کا راستہ روکنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کا داماد کوشنر جس کے انتہا پسند یہودی ہونے میں کسی کو شک نہیں، ان دو شہزادوں کو اس سطح پر لے آیا ہے کہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کو ایک لمحہ بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران کی طرف سے امریکی ڈورون طیارے کے گرائے جانے کے بعد بھی امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف جنگی کارروائی نہ کرنے سے بن زائد اور بن سلمان کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور وہ امریکی خاموشی سے سخت مایوس نظر آ رہے ہیں۔

معروف جریدے میڈل ایسٹ آئی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر مملکت عادل الجبیر کے دورہ لندن میں ایک اعلیٰ سعودی سکیورٹی اہلکار نے برطانیہ سے ایرانی فوجی اہداف پر محدود حملے کی اپیل کی ہے، جسے لندن حکومت نے مسترد کر دیا۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اب ایک اعلیٰ سطحی سعودی وفد اسرائیل جا رہا ہے، تاکہ غاصب صہیونی حکومت کو ایران پر حملے کے لیے تیار کرسکے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام بائولے کتوں کی طرح منہ لٹکائے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں، تاکہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرا سکیں، لیکن ایران دشمن تمام طاقتوں کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہوگیا ہے کہ وہ جنگ شروع تو کرسکتے ہیں، لیکن اس کا انجام ان کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ ایرانی فورسز نے امریکہ کے جدید ترین ڈرون کو گرا کر سب کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ایران کی ارضی سالمیت ریڈ لائن ہے، جس پر ایران ہرگز سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 801146
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب