0
Monday 24 Jun 2019 07:49

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(8)

(امام خمینی کی رحلت کے تیس سال بعد)
امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(8)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
کسی بھی انقلاب یا تحریک کی قیادت انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جس تحریک و موومنٹ یا انقلاب کو بہترین اور دوراندیش و مدبر قیادت نصیب ہو جاتی ہےو وہ اس کی کامیابی کی ضامن بن جاتی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی چالیس سالہ تاریخ پر بھی نظر دوڑائیں تو اس انقلاب اور اسلامی نظام کو حکیم، مدبر، دواندیش اور الہیٰ قیادت نصیب رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب اور اسلامی نظام کو جتنے حوادث، مشکلات، بحران اور چیلنجز درپیش آئے، وہ بہترین قیادت کی وجہ سے حل ہوتے رہے اور انقلاب و اسلامی نظام اپنے صحیح راستے اور درست سمت میں آگے بڑھتا رہا۔ امام خمینی کے بعد رہبر انقلاب اسلامی کی تیس سالہ قیادت میں ملک کا نظام اور انقلابی پروگرام بہتر انداز سے آگئے بڑھتا رہا اور اس میں رہبر انقلاب اسلامی کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔

ایران کی ماضی کی ترقی و پیشرفت میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمایاں کردار کی وجہ سے یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ وہ ملک کے آئندہ کے بارے میں کیا منصوبہ بندی اور پلاننک رکھتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے کیا تدابیر سوچ رکھی ہیں۔ اس سوال کا جواب چند نکات میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب الہیٰ اہداف اور دین اسلام کی بلند و ارفع تعلیمات کی روشنی میں کامیاب ہوا اور رہبر انقلاب اسلامی نے بھی گذشتہ تیس برسوں میں انقلاب کی امنگوں اور اہداف کو پس منظر میں نہیں جانے دیا اور اس بات پر یقین رکھنا چاہیئے کہ رہبر انقلاب اسلامی آئندہ بھی اس روش اور اسلوب کو جاری و ساری رکھیں گے۔

انقلاب کے اہداف کو چند الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی ملک میں معنویت، عدل و انصاف، آزادی، سیاسی استحکام، اقتصادی پیشرفت، تعمیر و ترقی اور ملکی آئین کے اندر رہ کر ملکی ترقی کے لیے بنائے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کو ترجیح دیں گے، وہ انقلاب کے بنیادی اہداف یعنی امتیازی رویوں کے خاتمے، محروموں اور مستضعفین کی حمایت اور خود مختاری، خود کفایت کے اس راستے کو مزید آگے بڑھائیں گے، جنہیں امام خمینی نے شروع کیا تھا اور رہبر انقلاب اسلامی نے اس کو آگے بڑھایا تھا۔ ایرانی پارلمینٹ نے ترقی کے جس منصوبے کو منظور کیا ہے، اس میں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور حتیٰ رہبری کی بنیادی ذمہ داریاں واضح کر دی گئی ہیں۔

 رہبر انقلاب اسلامی کی ماضی کی تیس سالہ تقاریر، خطابات اور حکام سے ملاقاتوں کا خلاصہ کیا جائے تو اس میں اس روڈ میپ کو آگے بڑھانے پر تاکید کی گئی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے گذشتہ سال اکتوبر میں ایرانی ترقی کے اسلامی ماڈلز کی روشنی میں ایک نیا منصوبہ یا دستاویز جاری کی ہے، جس میں ملکی ترقی کے اہم مبانی اور اصولوں کو ذکر کیا گیا ہے، اس میں واضح کہا گیا ہے کہ آئندہ پانچ عشروں میں مطلوبہ ترقی و پیشرفت کے حصول کے لیے کیا کیا اقدامات ضروری ہیں۔ اس اہم دستاویز کو ماہرین کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے، تاکہ متعلقہ ماہرین اس پر اپنی رائے دیں اور بعد میں اس کو عملی جامعہ پہنایا جائے۔

رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں ایران کا مستقبل روشن و تابندہ ہے، آپ ملکی ترقی و پیشرفت کے حوالے سے پرامید ہیں۔ آپ دوسروں کو بھی خداوند عالم کی ذات پر بھروسہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے اس بات کی ترغیب دلاتے ہیں کہ ایران اور ایرانی قوم کا مستقبل پرامید اور روشن و درخشندہ ہے۔ آپ حکام کی امیدیں بڑھاتے ہیں، ان میں حوصلہ پیدا کرتے ہیں اور انہیں عزم کو جزم کرنے کی تاکید کرتے ہیں، تاکہ ایران کے ہر سطح کے حکام جوش و ولولے اور امید و نشاط سے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ نے گام دوم کے نام سے جو دستاویز جاری کی ہے، اس میں بھی مستقبل کے بارے میں خوش بینی اور امید کیا اظہار کیا ہے۔ پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کا آئندہ کے بارے میں پروگرام اور منصوبہ امید اور خوشی بینی پر استوار ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب دنیا کا واحد انقلاب ہے، جو روحانی اور الہیٰ و آسمانی تعلیمات پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی بھی اسلامی اقدار، اخلاقی فضائل و اسلامی و قرآنی تعلیمات پر عمل درآمد پر تاکید فرماتے ہیں۔ رہبر انقلاب کا منصب ولی فقیہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ نظام اور انقلاب جن الہیٰ اور قرآنی اہداف، امنگون اور تعلیمات سے آراستہ ہے، اس کو اسی طرز پر آگے بڑھایا جائے۔ ایران کے آئندہ پچاس سالہ پروگرام میں بھی دینداری، قرآن کی پیروی، محمد و آل محمد کی سنت پر عمل درآمد اور سیرت اہلبیت کی روشنی میں اسلامی گھرانے کی تشکیل و استحکام پر تاکید کی گئی ہے۔ اس پچاس سالہ منصوبے میں ایران میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں الہیٰ و قرآنی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے کی تشکیل ہے، ایسا سماج جس میں انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں اخلاقی فضائل اور اسلامی اقداری کی پاسداری کو فوقیت و ترجیح حاصل ہو۔

ایک اور موضوع اقتصاد و معیشت کا موضوع ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی ایران کے مستقبل کی معیشت کو ترقی، مستحکم اور دوسروں کے لیے مثالی نمونے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایران قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، اسی لیے رہبر انقلاب اسلامی نے گام دوم نامی اپنی دستاویز میں داخلی صلاحیتوں اور قومی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادے پر تاکید کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے مستقبل کے معماروں کو جس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیئے، وہ یہ ہے کہ جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں، اس میں انسانی و قدرتی وسائل بے مثال ہیں اور ان صلاحیتوں اور گنجائشوں کو لاعلمی یا سستی و کوتاہی کی وجہ سے صحیح طریقے سے استعمال میں نہیں لایا گیا۔ ہمارے ملک کے پرعزم اور باہمت نوجوان ان صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لائیں گے۔ ہماری جوان انقلابی نسل اپنے مضبوط عزم کے ساتھ مادی و معنوی ترقی کے لیے اں صلاحیتوں اور وسائل کو استعمال میں لائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 801175
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب