0
Tuesday 25 Jun 2019 22:38

مسئلہ فلسطین کو معاشی مسئلہ بنانے کا منصوبہ

مسئلہ فلسطین کو معاشی مسئلہ بنانے کا منصوبہ
تحریر: سید اسد عباس

آج کل کچھ سوداگر بحرین کے شہر مانامہ میں اکٹھے ہوئے ہیں اور فلسطین کے حوالے سے سودا بازی کر رہے ہیں۔ یہ بازار بحرین کے حاکم نے مسلمانوں کی دولت سے ہی مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں سودے بازی کے لیے سجایا ہے، جس میں امریکی یہودی تاجر جارڈ کشنر جو امریکی صدر کا داماد نیز فلسطین کے بارے میں امریکی سودے کی شقوں کا ظاہری ماسٹر مائنڈ ہے، امریکہ کی نمائندگی کر رہا ہے، دیگر سوداگروں میں خلیج کے عرب ممالک کے سوداگر، مراکش کا ایک وفد سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نیز کچھ دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک کے تجار شامل ہیں۔ اس بازار میں فلسطین کے مستقبل کے بارے میں سودے بازی کی جا رہی ہے۔ صدی کا سودا نامی اس بازار کا مقصد مختلف تاجروں کے مابین ذمہ داریوں اور فوائد کو تقسیم کرنا ہے۔ فلسطینی جن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ بازار سجایا گیا ہے، وہ اس سودے بازی کا حصہ نہیں ہیں۔

پی ایل او، حماس اور دیگر فلسطینی تنظیمیں آج مغربی کنارے، بیت اللحم، جینین، نابلس، تلکرم، سلفیت، قلقیلا اور غزہ میں احتجاج کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں آباد فلسطینی اس سودے بازی سے نالاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی کسی صورت میں بھی اپنے حق خودارادیت اور آزادی کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم اس قسم کے کسی سودے کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ ہماری بندوقوں کے رخ ہمیشہ صہیونیوں کی جانب رہیں گے۔ فلسطینی وزیراعظم کا رملہ میں کابینہ کے اجلاس میں کہنا تھا کہ میں نے اس دستاویز میں کہیں غاصبانہ قبضے کا ذکر نہیں دیکھا، میں نے کہیں یہودی آبادیوں کا تذکرہ نہیں دیکھا، میں نے کہیں قبضے کے خاتمے کا تذکرہ نہیں پڑھا، مجھے نہیں معلوم کہ کاغذی پیسہ فلسطینیوں تک کیسے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صدی کی ڈیل مکمل طور پر بے وقوفی ہے، یہ یہودی آبادیوں کے لیے ایک سیاسی لانڈری ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو قانونی شکل دینا ہے۔

فلسطین کے بارے میں امریکی امن منصوبے کے لیے 50 بلین ڈالر کا عالمی فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو اس امن منصوبے کے انجن کے طور پر کام کرے گی۔ دس برس کے لیے قائم اس فنڈ میں سے 6.3 بلین ڈالر لبنان میں پناہ گزین فلسطنینیوں کے لئے وقف ہیں، 27.5 بلین ڈالر مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں پر لگایا جائے گا، اسی طرح 9.1 بلین ڈالر مصر میں مقیم فلسطینیوں جبکہ 7.4 بلین ڈالر اردن میں پناہ لیے ہوئے فلسطینیوں کے لیے وقف ہوگا۔ میں نے اپنے گذشتہ کالم میں ایک اسرائیلی اخبار کے حوالے سے اس سودے کی کچھ مزید تفصیلات بیان کی تھیں۔
اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والے اس دستاویز کے نکات میں شامل تھا کہ امریکا اس منصوبے کا بیس فیصد، یورپی یونین دس فیصد اور خلیجی ریاستیں اس منصوبے کے لیے ستر فیصد سرمایہ کاری کریں گی۔

نئی فلسطینی ریاست اپنی فوج نہیں بنا سکے گی بلکہ فقط پولیس کا محکمہ قائم کرنے کی مجاز ہوگی۔ اسرائیل اور نئی فلسطینی ریاست کے مابین ایک معاہدہ ہوگا، جس کے تحت نئی فلسطینی ریاست خارجی حملے کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے اسرائیل کو ادائیگی کرے گی۔ عرب ریاستیں اس سلسلے میں اپنا حصہ دیں گی۔ سودے پر دستخط کے بعد حماس کو اپنے تمام تر ہتھیار بشمول نجی ہتھیار مصر کے حکام کے سپرد کرنے ہوں گے۔ ہتھیاروں کی سپردگی کی صورت میں حماس کے اراکین کو عرب ریاستوں کی جانب سے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔ غزہ کے بارڈر، اس علاقے میں ائیر پورٹ اور سی پورٹ کے قیام تک اسرائیلی کراسنگ اور ٹرمینلز کے ذریعے باقی دنیا کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ دستاویز کے مطابق اگر حماس اور پی ایل او نے اس ڈیل پر دستخط سے انکار کیا تو ان کو سزا دی جائے گی اور یہ سزا امریکہ نیز دیگر سرمایہ کاروں کی جانب سے فنڈز کی معطلی کی صورت میں ہوگی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے پہلے ہی اقوام متحدہ کے ذریعے فلسطین کو دیئے جانے والے تمام فنڈز کو معطل کر رکھا ہے۔ اگر پی ایل او اس معاہدے کو مانتی ہے اور حماس نیز اسلامی جہاد اسے قبول نہیں کرتا تو پھر ان دونوں جماعتوں کے خلاف امریکی سرپرستی میں جنگ شروع کی جائے گی۔ اگر اسرائیل اس معاہدے پر دستخط سے انکار کرتا ہے تو امریکہ اسرائیل کے لیے اپنی امداد کو بند کر دے گا۔
اس سودے کا مقصد فلسطین کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ کے بجائے معاشی مسئلہ بنانا ہے اور اس کی سیاسی حیثیت کا مکمل طور پر خاتمہ ہے، یعنی پناہ گزین، غاصبانہ قبضہ، یہودی آبادی، آزادی فلسطین جیسے سب الفاظ منظر نامے سے غائب ہو جائیں گے اور ان کی جگہ ائیرپورٹ، پاور پلانٹ، فیکڑی، زراعت، پلوں کی تعمیر جیسے الفاظ لے لیں گے۔ امریکہ یا اسرائیل تن تنہا یہ کام نہیں کرسکتے تھے، ان کے اس منصوبے کی ضمانت خلیجی ممالک اور وہاں موجود بادشاہتیں ہیں۔

امریکہ پہلے ہی فلسطینیوں کو ملنے والی اقوام متحدہ کی امداد کو بند کروا چکا ہے۔ عرب ریاستوں سے ملنے والی امداد کو بھی بند کروا کر وہ فلسطینیوں کو اس مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں گذشتہ کچھ عرصے سے سعودیہ یمنیوں کو لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اگر عرب ریاستیں اس معاملے میں ان کی ہمنوا ہو جائیں تو بہت جلد فلسطینی بھی اس منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہ امت مسلمہ اور فلسطینی شہداء کے خون سے بہت بڑی خیانت ہے، یہ ان پناہ گزینوں سے بہت بڑی خیانت ہے، جو گذشتہ ستر سے زائد برسوں سے اپنے وطن کو لوٹنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب فلسطینیوں کو حقیقی معنوں میں شجاعت، استقامت اور حریت پسندی کا ثبوت دینا ہے، تاکہ وہ اپنی آزاد حیثیت کا دفاع کرسکیں۔ اب فلسطینیوں کو فقط اور فقط خدا پر بھروسہ کرنا ہے، انہیں اپنا مقدمہ خود سے اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا ہے، کیونکہ جن وکلا پر ان کا تکیہ تھا، وہ تو ان سوداگروں سے مل چکے ہیں، جو فلسطینیوں کی آزادی، عزت و وقار کو پیسوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 801507
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے