0
Wednesday 26 Jun 2019 01:03

مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے بھوربن میں اہم بیٹھک

مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے بھوربن میں اہم بیٹھک
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
افغانستان مسئلہ کو کسی نہج تک پہنچانے کیلئے کچھ عرصہ سے کوششوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، افغان حکومت، طالبان، امریکہ اور حکومت پاکستان اس معاملہ میں اکثر مذاکرات کی میز پر نظر آئے ہیں، تاہم اس مذاکراتی عمل میں افغانستان کی دیگر سیاسی جماعتوں اور متحارب گروپوں کو کچھ نظرانداز کیا گیا۔ درحقیقت اگر فریقین مسئلہ افغانستان کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں افغانستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینا ہوگا۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے دو خود مختار تھنک ٹینکس لاہور مرکز برائے تحقیق امن (ایل سی پی آر) اور جنوبی ایشیائی ادارہ برائے تزویری استحکام (ایس اے ایس ایس آئی) کی جانب سے پاکستان کے سیاحتی علاقہ بھوربن مری میں افغانستان امن کانفرنس کے عنوان سے ایک بیٹھک کا اہتمام کیا گیا۔ اس کانفرنس میں افغانستان سے 50 سے زائد سیاستدانوں نے شرکت کی، جن میں قابل ذکر شخصیات میں حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمتیار، ہائی پیس کونسل کے چیئرمین محمّد کریم خلیلی، بلخ کے سابق گورنر عطا محمّد نور، سابق ثانوی ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو محمد محقق اور قومی سلامتی کے سابق مشیر و صدارتی امیدوار محمّد حنیف اتمار شامل ہیں۔
 
اس کانفرنس میں شریک افغان شرکاء کی اکثریت کا تعلق حزبِ اختلاف سے تھا، جن میں ستمبر کے انتخابات لڑنے کے لیے متعدد صدارتی امیدواران بھی شامل ہیں۔ کانفرنس میں شریک بااثر افغان سیاسی قائدین اور پاکستانی رہنماوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد پیدا کیا جائے اور متعدد شعبہ جات میں تعاون بڑھایا جائے۔ کانفرنس میں حکومت پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی، اس موقع پر افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، افغانستان مسئلہ کو حل کرنے کیلئے پاکستان کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کرتا ہے، پرامن اور مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان افغان بحران کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ مشترکہ دشمن نے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو بہت نقصان پہنچایا، دونوں ممالک کو الزام تراشی کے ماحول سے نکلنا ہوگا، دونوں ممالک ایک دوسرے کیخلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں، افغانستان کے مسائل کا حل جنگ نہیں صرف مذاکرات ہیں۔ افغان امن عمل کی باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر حمایت کر رہے ہیں۔
 
سابق افغان وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار نے اپنے جنگ سے تباہ حال ملک کے لئے امن کے جاری عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک نہایت اہم ملک ہے، اسلام آباد افغانستان میں امن لانے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے اور اب وہ کر رہا ہے۔ اتمار کی امن و مصالحت ٹیم کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بھی یہ کہا گیا کہ وہ پاکستان میں اجلاس سمیت، افغانستان میں قیامِ امن کے مقصد سے ہر مخلصانہ کاوش کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ہم امن و مصالحت کی حمایت میں پاکستان کے کردار کو سراہتے اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان کا یہ اقدام جلد بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے امن کانفرنس کے شرکاء نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک، افغان عوام کے حق انتخاب کا احترام کرتا ہے اور وہ افغانستان کے آئندہ صدارتی انتخابات میں کسی بھی گروہ کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے افغانستان کے امن مذاکرات کے آغاز کو مثبـت قرار دیا اور کہا کہ ان مذاکرات میں کابل حکومت کے نمائندوں کی شمولیت سے افغانستان میں جنگ کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔
 
واضح رہے کہ افغانستان امن کانفرنس ایسے اہم وقت میں انعقاد پذیر ہوئی ہے کہ جب افغان صدر اشرف غنی بہت جلد یعنی 27 جون کو اہم سرکاری دورہ پر پاکستان آرہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہفتہ کو امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا ساتواں دور ہوگا، جس میں امریکا اور طالبان 18 سال سے جاری تنازعات کو مذاکرات سے ختم کرنے کی کوشش کرینگے۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب انخلا کی تاریخ کا اعلان ہو جائے تو بات چیت خود بخود اگلے دور میں داخل ہو جائے گی، ہمیں انخلا کا عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، دونوں چیزیں بات چیت اور انخلا ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گی۔ مذاکرات کا محور طالبان کی جانب سے امریکی اور دیگر افواج کے انخلا اور امریکا کی جانب سے طالبان کی اس ضمانت پر رہے گا کہ افغانستان کی سرزمین کو عسکری حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دیگر دو معاملات میں جنگ بندی کا عمل اور افغان فریقین، حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین بات چیت ہونا ہے۔
 
دوسری جانب مئی میں ہونے والے مذاکرات کا آخری دور دونوں فریقین کے درمیان اختلافات پر ختم ہوا، لیکن اس وقت سے غیر رسمی ملاقاتوں میں ایسے قابل عمل نتیجے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر دونوں کا اتفاق ہو۔ حالیہ افغانستان امن کانفرنس جہاں امریکہ، افغان حکومت، طالبان اور پاکستان کے مابین جاری مذاکرات کو مزید بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، وہیں دیگر افغان سٹیک ہولڈرز کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنا افغانستان مسئلہ کے پائیدار حل کیلئے نہایت ضروری بھی تھا۔ بھوربن بیٹھک میں افغان سیاسی رہنماوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اور دلچسپی نے اس بیٹھک کو کامیاب ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کے افغان مسئلہ کے حل کیلئے موجودہ کردار کو امریکہ اور افغان حکومت اس وقت خاصی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ اب وہ شائد جان چکے ہیں کہ افغانستان مسئلہ کے حل کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مذاکراتی عمل کو مزید توسیع دیتے ہوئے افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک کو بھی اعتماد میں لیا جائے، کیونکہ اس وقت کوئی افغان پڑوسی ملک بظاہر اس حق میں نظر نہیں آتا کہ افغان جنگ مزید جاری رہے۔
خبر کا کوڈ : 801540
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے