0
Friday 28 Jun 2019 21:31

فدک سے امریکی پابندیوں تک، غرقاب ہوتے شیطانی ہتھکنڈے

فدک سے امریکی پابندیوں تک، غرقاب ہوتے شیطانی ہتھکنڈے
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

اسلامی تحریک کا مفہوم اسلامی نظام کی حاکمیت سے عبارت ہے، اسلام دین ہے، نبوت اور امامت لیڈرشپ اور اہل ایمان کی مطلوبہ تعداد سے اسلام کی حاکمیت ممکن ہے۔ یہ اللہ کا پسندیدہ دین اور الہیٰ نظام کی حاکمیت مومنین کی ذمہ داری ہے، جس کی بشارت آسمانی کتب میں دی گئی ہے، توحید پر ایمان کی طرح اس بشارت پر ایمان بھی لازمی ہے۔ اس مقصد کا حصول سادہ اور آسان نہیں، جو تمام انبیاءؑ اور آئمہ معصومینؑ کا مطمع نظر رہا۔ بالآخر یہ آرزو مہدی آخرالزمان علیہ السلام پوری فرمائیں گے۔ اس کے لیے اہل ایمان کا پختہ یقین اور اتحاد ضروری ہے۔ قیادت ہمیشہ اس کی پہلی شرط اور علامت رہی ہے، نظام کی بنیاد یہی ہے، یعسوب کا یہی مطلب ہے۔ اسلامی قیادت آئیڈلوجی کا سرچشمہ اور ہدایت کا ذریعہ ہے، تمام اسلامی احکامات کے نفاذ کیلئے رہبری سے تمسک پہلی شرط ہے۔

انقلاب اسلامی اس دور میں اسلامی نظام کی عملی شکل اور مثال ہے، جو تمام امت کیلئے حجت اور کل انسانیت کیلئے ایک پیغام ہے۔ ولایت فقیہ کی شکل میں نظام امامت کی بنیاد پہ قائم اسلامی نظام دنیا میں اسلام کا نمائندہ سسٹم ہے۔ امامؑ برحق کی سرپرستی اور مدد سے یہ نظام دنیا میں اسلامی نظام کی حاکمیت کی ابتداء ثابت ہوگا۔ ابتداء سے ہی اسلامی نظام کے راستے میں شیطانی رکاوٹیں حائل ہیں، لیکن ان کا دائرہ اور اثر مادی زندگی تک محدود رہتا ہے، کیونکہ حقیقت تک ان کی رسائی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت کا بندوست فرما دیا ہے، تاکہ انسان اپنی زندگی کے ہدف کو پا سکے، ہدایت جو دین کا مقصد ہے، وہ انسان کا نصب العین قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی نظام کی حاکمیت کے راستے میں حائل رکاوٹیں ہر دور میں رہی ہیں، ایک حربہ معاشی مناطقہ ہے، جو آج بھی یہ طاقتیں آزما رہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فرستادگان ہر دور میں آزمائشوں میں کامران رہے ہیں، یہ بشریت کی طرف سے کمزوری کا نتیجہ ہے کہ وہ اسلام کی حاکمیت اور سرفرازی کی بدولت فیضانِ رحمت سے محروم رہی۔ کوہ فاران سے طلوع ہونیوالا ناقابلِ زوال سورج آج بھی چمک رہا ہے، ظلمت کا بادل اس کی روشنی کو نہیں چھپا سکے۔ آخری تاجدارؐ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ ایک زندہ اسوہ کے طور پر موجود ہے، قرآن مجید کی تعلیمات اس کی گواہ ہیں۔ امامت اس کا تسلسل ہے۔ جو اسلام کا واحد نمائندہ نظام ہے۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے پہلے دن سے اس چراغ ہدایت کو بجھانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی، لیکن ناکام رہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں اسلام کے مقابلے میں دین کے نام پہ کسی نظام کی تبلیغ نہیں کی گئی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مبارکہ کو ہر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔

آج بھی باطل طاقتیں اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ صرف لالچ، زور، دھونس، دھمکی اور طاقت کے ذریعے جماران سے طلوع ہونیوالی نورانی کرنوں کی روشنی کو مدھم کرسکیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فرعون صفت یزیدی طاقتیں آج بھی فرعون اور یزید کی طرح انسانیت کی نجات، فلاح اور ہدایت کے نام پہ کوئی نظام پیش نہیں کرتیں بلکہ انسانیت کو گمراہ کرنے کی تدابیر ہی بروئے کار لاتی ہیں، بس یہی اہل ایمان کا امتحان ہے، جس سے ایمان کی مضبوطی، توکل، استقامت اور ولایت سے تمسک مطلوب ہے۔ عالم اسلام کو دیکھیں تو آج بھی باطل طاقت حرمین پہ قابض ہے، جن کے ساتھ عالمی طاقتوں کا گٹھ جوڑ ہے، رکاوٹوں کے باوجود اسلامی تحریک کا مرکز یعنی نظام ولایت پہلے سے کہیں مضبوط اور پرامید ہے۔ حالات کی سنگینی اور مادی دباؤ صدور انقلاب میں کمی کی بجائے وسعت اور اضافے کا سبب بنے ہیں۔

سعودی منافقت کھل کے سامنے آچکی ہے، مقاومت کا محاذ زیادہ جڑ چکا ہے، صہیونی سلطنت کی تکمیل کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے، عظیم تر اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے، یہ ایک انوکھا موڑ ہے، جب انقلاب کامیاب ہوا تو سعودی رجیم نے اسلامی دنیا کو یہ باور کروایا کہ انہوں نے امریکہ کے ایماء پر اس لیے عربوں کو ایران اسلامی کیخلاف آمادہ پیکار کیا ہے کہ اس انقلاب سے ان کی سلطنتون، شہنشاہیتوں کو خطرہ ہے، یہ شیعہ انقلاب ہے، اس لیے مسلکی مخاصمت کی بنیاد پہ یہ ہمارے لیے خطرہ ہے، مسلمان ممالک اس لیے ایران اسلامی کیخلاف جنگ میں ہمارا ساتھ دیں یا غیر جانبدار رہیں، بہت سارے ممالک نے انکا ساتھ دیا یا خاموش رہے۔ اعلانیہ جنگ اور پس پردہ سازشوں کا محرک اور مقصد نہائی انقلاب کو مسلکی بنیادوں پہ روکنا اور ایران میں قائم ہونیوالے نظام ولایت کو کمزور کرنا تھا۔ اسوقت انہیں یقین نہیں تھا کہ نظریہ امامت کو دنیا میں عملی شکل دینے کیلئے یہ انقلاب بنیاد فراہم کریگا۔

لیکن آج وہی سعودی رجیم علی الاعلان یہ کہہ رہی ہے کہ اسلامی ایران امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کی راہ ہموار کر رہا ہے، ہم اس نظام کے دشمن ہیں، انقلاب کے آغاز میں دنیا کی معروف اسلامی جماعتوں بشمول اخوان المسلمون مصر، شام، اردن، عراق اور جماعت اسلامی پاکستان، ہندوستان، کشمیر اور بنگلہ دیش نے انقلاب کو اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے ماڈل کے طور پر لیا، انہیں بھی نظام امامت کا فہم اور انقلاب کی اس بنیاد کا یقین نہیں تھا۔ اسی طرح ایران مخالف عرب اتحاد کے علاوہ مسلمان ممالک کے حکمرانوں جیسے ضیاء الحق اور یاسر عرفات جیسوں کو بھی ایران میں آنیوالی تبدیلی کی بنیاد کے متعلق ایسا یقین نہیں تھا، اس لیے اسلامی جماعتوں اور بے طرف مسلمان ممالک کے سربراہوں نے ایران اسلامی کیساتھ دشمنداری کا رویہ نہیں اپنایا، اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور سعودی رجیم ان کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

اب صورتحال زیادہ واضح ہوگئی ہے، دنیا کا روایتی شیعہ جب اربعین کیلئے جاتا ہے تو امام زمان علیہ السلام کی عالمی حکومت کے خواب کو زیادہ عملی شکل میں محسوس کرتا ہے اور یزید صفت سعودی رجیم کی نیندیں بھی اس لیے اڑ چکی ہیں کہ امریکہ، اسرائیل اور علاقائی دوستوں کیساتھ مل کر اس یقین کیساتھ داعش کو منظم کیا گیا کہ نظام امامت کی بنیاد پہ ایران اسلامی میں قائم نظام ولایت قفیہ کو شکست دیکر عالمی اسلامی حکومت کے خواب کو چکنا چور کیا جائے، اس جمگھٹے میں جن اسلامی جماعتوں نے انقلاب کے آغاز میں غیر موثر تائید کی تھی، وہ پوری طاقت کیساتھ شامل ہوئیں، لیکن اب ان کا نعرہ اسلامی خلافت کا قیام تھا۔ لیکن اس میں خود ان شیطانی طاقتوں کو شکست ہوئی۔ تھوڑی وسعت اور اضافے کیساتھ مسلم ممالک کو بال کر ٹرمپ سے کہلوایا گیا کہ سعودی رجیم کو ایران سے خطرہ ہے، جو دہشت گردی کے ذمرے میں آتا ہے۔

اس دوران سعودی رجیم نے سیکولرائزیشن کا عمل بھی تیز کیا، امریکہ نے اسلامی ایران کیخلاف پابندیاں لگائیں، عربوں نے پیسہ بہایا، بے طرف مسلم ملکوں نے سیاسی اور عسکری مشاورت فراہم کرنے کی حامی بھری۔ جیسے سقیفہ میں سیاسی سازش ہوئی، مالی طور پر فدک غصب ہوا، یہ رٹ قائم کرنے کی مثال تھی، بالکل ایسے ہی جیسے امریکی پابندیاں اور راستے بلاک کرنے کی کوششیں۔ مکی دور کے حربوں کی ناکامی کی طرح رحلتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کی تدبیریں جس طرح ناکام ہوئیں، اسی طرح دست خدا اب بھی ایران اسلامی پہ سایہ فگن ہے، کوئی آزمائش انہیں توڑ نہیں سکی۔ اب یمنیوں کے قدموں کی آہٹ ان کے دروازوں پہ دستک دے رہی ہے، لیکن اسرائیلی پائلٹ اور طیارے انکے دفاع میں مصروف ہیں۔

بطور پاکستانی یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ سابق سپہ سالار اس یقین کیساتھ سعودی رجیم کی مدد کر رہے ہیں کہ دنیا میں فرزند علی ابن ابی طالب علہیم السلام کی حکومت کے قیام کیلئے ہونیوالی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ لیکن دلون کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے، ہوسکتا ایسا ہو، لیکن انہیں یہ جملے زبان پہ لانے کی طاقت نہ ہو، لیکن انہوں نے خاموشی سے بن سلمان کی بیعت کی ہو۔ ہماری آزمائش یہ ہے کہ ہم ایسی فضاء میں سانس لے رہے ہیں، جو امریکہ اور سعودی رجیم کے ڈالروں اور ریالوں کے قرض پہ چل رہی ہے۔ پاکستانی ملت کی ذمہ داری ہے کہ مملکت خداد داد کو 80ء کی دہائی سے پہلے والی صورت میں لے جائیں، جس کیلئے عظیم سیاسی اور معاشی تدابیر اور کوششوں کی ضرورت ہے، ورنہ ہمارا حشر خدانخواستہ صہیونی کی عالمی شیطانی اعلانیہ حکومت کے ہاتھ بٹانے والوں میں ہوگا، یہ پاکستان کے قیام میں خون، عزت ناموس اور اموال لٹوانے والے شہداء کا ہماری گردنوں پر قرض ہے۔ بھارت جیسے دشمن کے دانت کھٹے کرنیکے لیے امریکی سانپوں کا ڈنگ نکالنا ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 801661
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب