0
Thursday 27 Jun 2019 07:55

ہفتم تیر ایران کے اسلامی انقلاب کا ناقابل فراموش واقعہ

ہفتم تیر ایران کے اسلامی انقلاب کا ناقابل فراموش واقعہ
اداریہ
دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف وجوہات کی بنا پر انقلاب برپا ہوئے، بعض کامیاب ہوئے، بعض بغاوت قرار دے کر کچل دیئے گئے، بعض کچھ عرصہ بعد اپنی نظریاتی روش سے منحرف ہوگئے۔ ان تمام انقلابوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو مشکلات ایران کے اسلامی انقلاب کو درپیش رہیں، اس کا کسی دوسرے انقلاب کو سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہر انقلاب میں جانوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور انقلابی افراد کو راستے سے ہٹانے کے لیے مختلف طرح کے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن ایران کا اسلامی انقلاب اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مقابلہ کرنا پڑا۔ ایران کا انقلاب شاید دنیا کا واحد انقلاب ہے جسکے خلاف اس دور کی دونوں سپر طاقتیں امریکہ اور سوویت یونین ایک صفحے پر تھیں۔ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام نے اسلامی نظام کے خلاف گٹھ جوڑ کرکے اسلامی انقلاب کو جڑ سے ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ امریکہ اور سوویت یونین کی مشترکہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں انجام پانے والے دہشت گردانہ اور وحشیانہ اقدامات میں ایک اقدام 27 جون 1981ء بمطابق ہفتم تیر 1360 شمسی کو کو پیش آنے والا وہ ہولناک سانحہ ہے، جس دن ایران کی پارلیمنٹ کے ساتھ ملحقہ ایک عمارت میں دھماکہ کرکے انقلاب کے صف اول کے بہتر سے زائد انقلابی رہنمائوں کو بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔

جمہوری اسلامی پارٹی کے اہم اجلاس میں اس وقت دھماکہ کیا گیا، جب ایران کے چیف جسٹس اور نئی اسلامی حکومت کی دستور ساز کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد حسین بہشتی خطاب فرما رہے تھے۔ اس ہولناک اور وحشیانہ دھماکے میں چیف جسٹس، چار وفاقی وزیر، آٹھ ڈپٹی وزیر اور 27 اراکین پارلمینٹ سمیت انقلاب کے صف اول کے درجنوں قیمتی افراد شہید ہوگئے۔ دشمن یہ گمان کر رہا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں وزراء، ڈپٹی وزراء اور پارلیمنٹ کے اراکین کی شہادت کے بعد انقلابی حکومت زمین بوس ہو جائے گی، لیکن امام خمینی کی قیادت اور ایرانی قوم کا انقلابی جذبہ تمام مشکلات پر غالب آگیا اور امام خمینی کا یہ جملہ "ہمیں قتل کرو، تاکہ ہماری امت بیدار ہو" انقلاب کا ہمیشہ کے لیے ضامن بن گیا۔ اس واقعہ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جس گروہ نے اس دھماکے کے ذمہ داری قبول کی، اس گروہ کے بچے کھچے افراد اب بھی مغرب اور امریکہ کی آنکھ کا تارہ ہیں۔

بارہ سے سترہ ہزار انقلابیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ ایم کے او  (منافقین خلق آرگنائزیشن) اب بھی یورپ کی سرپرستی اور امریکی رہنمائی میں ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مقابلہ کرنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والی مغربی حکومتیں ان دہشت گردوں کو پناہ دے کر ثابت کر رہی ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف ان کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ آج امریکہ ایران پر دہشت گردوں کی حمایت کا بے بنیاد الزام لگاتا ہے، لیکن امریکہ نے ایم کے او کے سرغنوں اور ایرانی عوام کے قاتلوں کو پناہ دے کر دنیا بھر کو اپنے دہرے معیار سے آگاہ کر دیا ہے۔ ایران اگر فلسطین کے مظلوموں، اسرائیل کے ہاتھوں ظلم و ستم کا شکار لبنانیوں یا داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل و غارت کا شکار ہونے والے شامیوں اور عراقیوں کی مدد کرے تو دہشت گردی کی حمایت ہو جاتی ہے، لیکن امریکہ اور مغربی ممالک ہزاروں ایرانیوں کے قاتلوں کو پناہ دے کر ان کی ہر طرح کی خدمت اور حمایت کریں تو یہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کی حمایت نہیں ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 801781
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب