0
Friday 28 Jun 2019 07:58

نئی امریکی پابندیاں

نئی امریکی پابندیاں
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کی کابینہ پے در پے غلطیوں کا ارتکاب کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حکام بھی دو بڑے گروہوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کے تھینک ٹینک نے ایک پالیسی "زیادہ سے زیادہ دباو" ایران کے خلاف اختیار کی تھی۔ امریکہ نے پچھلے چند ماہ میں اس پالیسی کو نافذ کرنے کے لئے ایران کے خلاف دباو کو عروج تک پہنچانے کیلئے فروری میں منعقدہ وارسا اجلاس سے آغاز کیا تھا اور اس کا ایک بڑا مرحلہ ڈرون کو ایرانی حدود میں بھیجنے پر منتج ہوا۔ فروری سے جون کے وسط تک اگر ایران کے خلاف انجام پانے والی سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور جنگی سرگرمیوں کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو ماضی میں اتنی سرعت سے انجام دی گئی کارروائیوں کی مثال نہیں ملتی۔ ابراہم لنکن بحری بیڑے کو خلیج فارس میں بھیجنے کا اعلان کیا گیا۔ ریاض اور امریکہ میں خلیج فارس تعاون کونسل، عرب لیگ اور او آئی سی کے اجلاس منعقد کئے گئے۔

امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے ان تمام ممالک کے مسلسل دورے کئے، جو ایران سے تیل خریدتے ہیں، تاکہ انہیں ایران کے خلاف اقتصادی دباو میں استعمال کیا جا سکے۔ جاپان کے وزیراعظم کو تہران بھیجا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ہندوستان کے دورے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ چین کو دھمکایا گیا کہ خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں کی سکیورٹی کا خرچہ دے۔ روس کو ایک اور انداز میں ایران کے مخالف کیا گیا، یہاں تک کہ دباو بڑھانے کے لئے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ امریکی صدر نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ ایران مخالف اپنے دباو کو روز بروز بڑھا رہا ہے، لیکن عالمی برادری میں اس کا منفی تاثر ابھر رہا ہے۔

دوسری طرف ڈونالڈ ٹرامپ کی اپنی انتظامیہ بھی دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے، ایک کی قیادت جان بولٹن کر رہا ہے اور دوسرے گروہ کی مائیک پمپیئو۔ مائیک پمپیئو کا کہنا ہے کہ "زیادہ سے زیادہ دباو" بڑھانے کی پالیسی کا نتیجہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، جبکہ جنگ پسند ٹولے کے سربراہ جان بولٹن کا مقصد ایران میں اسلامی انقلاب کا خاتمہ اور حکومت کی تبدیلی ہے۔ اس تناظر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کی نئی پابندیاں مایوسی، بے بسی اور بوکھلاہٹ کا پتہ دیتی ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا تھا کہ یہ جنگ ارادوں اور عزم کی جنگ ہے اور ایرانی قوم ان شاء اللہ اپنے عزم بالجزم اور قوی ارادے سے اس جنگ میں فاتح بن کر سامنے آئے گی۔
خبر کا کوڈ : 801999
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب