1
Saturday 29 Jun 2019 16:58

ایتھوپیا کا نور محمد

ایتھوپیا کا نور محمد
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

علم و تعلیم میں جہاں علماء کی زحمات اور اہل مدرسہ کا کردار بہت اہم ہے، وہاں طالب علم میں بہت سی صفات کا ہونا بھی ضروری ہے۔ حقیقی طالب علم کے راستے میں آنے والی مشکلات اسے بلندی کی طرف لے جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم علماء و مدارس سے دور رہے، جس سے معاشرہ جہالت کا شکار ہوگیا۔ اسی طرح علما کی زندگیوں پر بہت کم لکھا گیا، جس کی وجہ سے نئی نسل ان کی قربانیوں سے بے خبر رہی۔ آج ہم جن مسائل کا شکار ہیں، ان میں سرفہرست یہ کہ جاہل لوگوں کی بات پر توجہ دی جاتی ہے اور علماء کی مخالفت ہوتی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ علماء کی زحمات اور ان کی قربانیوں سے آگاہ نہیں۔ سید دلدار علی غفران مآب، مولانا باقر ہندی، آیۃ اللہ ابولقاسم حائری، مفتی کفایت حسین اور دیگر بزرگان کی سیرت سے ہم کتنے آگاہ ہیں؟ علم کے ان پہاڑوں کی سوانح عمری تلاش کرنے نکلیں گے تو بعض کے بارے میں سرے سے کچھ لکھا ہی نہیں گیا اور بعض پر تیس چالیس صفحات پر مشتمل کتابچے مل جائیں گے۔ قوم اسی وقت علم و تعلیم کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہے، جب اسے علماء کی قدر و منزلت ہوگی اور وہ اس وقت ہوگی جب وہ علماء کے حالات پڑھیں گے۔

چند دن پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق ایک دوست نے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم نے آن لائن بہت تحقیق کی ہے، مگر ہمیں شیعہ علماء کی تحریک پاکستان کے لیے خدمات پر کوئی مضمون نہیں ملا، اسی طرح قرارداد مقاصد میں شامل شیعہ علماء کے حالات پر بھی کچھ زیادہ مواد نہیں ملا اور اس کے ساتھ ساتھ 1973ء کے آئین میں شیعہ علماء کا کیا کردار تھا؟ اس پر بھی کچھ مواد نہیں ملا۔ صرف اشارہ کروں گا کہ اگر آپ مارکیٹ میں جائیں تو آپ کو اس موضوع پر پوری کتاب مل جائے گی کہ دیوبندی علماء کی تحریک پاکستان کے لیے کیا خدمات تھیں؟ اسی طرح بریلوی اور اہل حدیث علماء کے کردار پر بھی کتب موجود ہیں۔ بائیس نکات اور تہتر کے آئین میں علماء کے کردار پر بھی وافر لٹریر موجود ہے، مگر ہمارے علماء جو ان تمام محاذوں پر موجود رہے، ان پر کچھ نہیں لکھا گیا۔ جو باتیں سینوں میں موجود ہیں، وہ ساتھ لیے زیر زمین چلے جائیں گے اور ہم وطن عزیز کے حصول اور آئین سازی میں ہمارا کیا کردار تھا؟ اس کی تاریخ سے ہی محروم رہ جائیں گے، جو ایک المیہ ہوگا۔ جامعات میں ہونی والی تحقیق میں بھی عملی مضامین کی بجائے تقویٰ کی اہمیت، ہاتھ کھول کر نماز پڑھنا، جمع بین الصلوتین اور توسل جیسے موضوعات ہی پر تحقیق کروائی جا رہی ہے، ان موضوعات کی اہمیت سے انکار نہیں ہے، مگر جہاں وسائل موجود ہیں، وہاں ایسے موضوعات پر کام کروانا چاہیئے، جن سے یہ مٹتی تاریخ زندہ ہو جائے۔

تمہید لمبی ہوگئی، کچھ دن پہلے سرگودھا جانے کا اتفاق ہوا، وہاں مولانا غلام جعفر نجفی صاحب نے علماء کے بہت سے واقعات سنائے، ایمان تازہ ہوگیا کہ کیسے کیسے ہیرے اس خاک پرموجود تھے، جن کی زحمات و کوششوں سے اسلام کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ دوسری جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی، پنجاب رجمنٹ کا ایک دستہ ایتھوپیا میں تعینات تھا۔ انہوں نے ایک جگہ حملہ کیا، لوگ افراتفری میں بھاگ گئے، اس افراتفری میں ایک ماں اپنے بچے کو سنبھال نہ سکی اور اسے پھینک کر خود جان بچا کر بھاگ گئی۔ تعجب ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں ایسا وقت بھی آجاتا ہے، جب وہ اپنے محبوب ترین فرد کو بھی بوجھ محسوس کرتا ہے اور پھینک دیتا ہے، قیامت یقیناً ایسے ہی حالات کا نام ہے اور ایسے حالات کو درست قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آج جن بچوں کے لیے حلال و حرام کی تمیز ختم کر دی جاتی ہے، کل قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر انسان انہیں پہنچانے سے بھی انکاری ہو جائے گا۔ وہ بچہ فوجی مرکز لایا گیا، وہاں سے اسے ہندوستان بھیج دیا گیا۔

ہندوستان پہنچے پر پنجاب رجمنٹ کے جس کرنل صاحب نے اسے وصول کیا، وہ چکوال کے سید تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ بچہ بہت چھوٹا ہے تو ترس کھا کر اسے گھر لے آئے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس بچے کا کوئی نام نہیں تھا، ماں باپ نے تو یقیناً کوئی نام رکھا ہوگا، مگر وہ معلوم نہ تھا۔ کرنل صاحب نے اس بچے کا نام نور محمد تجویز کیا اور اپنے جد بزرگوار خاتم الانبیاء کے نام کو اس کے نام کا حصہ بنا دیا۔ بچے کو ملازمہ کے حوالے کر دیا کہ اس کی پرورش کرے۔ جب وہ تھوڑا بڑا ہوا تو اس وقت کا رائج پیشہ یعنی بھیڑ بکریاں چرانا شروع کر دیا۔ کرنل صاحب کے ننھال بھلوال کے تھے، انہوں نے کہلوا بھیجا ہمیں جانور چرانے کے لیے ایک بچے کی ضرورت ہے، یوں نور محمد چکوال سے 7 چک بھلوال پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے بھینسیں چرانا شروع کر دیں، ایک دن حسب معمول بھینسیں چرا رہے تھے کہ دارالعلوم محمدیہ بھلوال کے پرنسپل مجاہد عالم دین مولانا غلام قنبر صاحب سر پر گندم کے دانوں سے بھری بوری اٹھائے وہاں سے گزرے، انہوں نے دیکھا ایک بڑا درخت ہے تو اس کے سائے میں بیٹھ گئے۔

قارئین کرام  7 چک سے بھلوال کافی سفر ہے، یہ عالم بزرگوار دانے مانگ کر یا گھر سے لیکر جا رہے تھے، تاکہ طالب علموں کے لیے روٹی کا انتظام ہوسکے۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد انہوں نے اس بھینس چراتے بچے سے کہا کہ گندم کے دانوں کی یہ بوری میرے سر پر رکھواو، بچے نے سر پر رکھوا دی، انہوں نے اگلے ہی لمحے وہ بوری نیچے رکھی اور پوچھا تم کون ہو؟ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ اہل افریقہ کا مجموعی رنگ کالا ہوتا ہے، ان کا رنگ ان سے بھی کالا تھا، دوسرا نقش و نین بھی خوبصورت نہ تھے۔ اس نے ساری کہانی سنا دی۔ مولانا قنبر صاحب نے فرمایا کہ تم درس پڑھو گے، اس نے کہا میں تو پڑھوں گا مگر ان بھینسوں کا کیا کروں؟ مولانا نے کہا یہ بھینسیں یہی رہیں گی، تم میرے ساتھ آو، یوں نور محمد مدرسہ دارالعلوم محمدیہ بھلوال پہنچ گیا۔

کچھ عرصہ وہاں پڑھا، بچہ ذہین تھا، استاد نے مرکزی دارالعلوم محمدیہ سرگودھا بھیج دیا، جہاں عالم بے بدل، بقول صاحب تذکرہ علمائے پنجاب سیبویہ زمان، اتقیٰ زمان، مفتی محبوب علی قبلہ کا دور دورہ تھا۔ انہوں نے دیکھا بچہ لاوارث اور محنتی ہے تو کلاسوں کے ساتھ ساتھ اسے ہنر کی تعلیم میں بھی شریک کر لیا۔ مفتی محبوب صاحب قبلہ مدرسہ سے تنخواہ نہیں لیتے تھے بلکہ کتابیں جلد کرتے، اس سے جو معاوضہ ملتا، اس سے گزر بسر کرتے تھے۔ ان کے ہاتھ کی مجلد کتب جامعہ منتظر اور دیگر کئی علمی اداروں میں موجود ہیں۔ ایسی نابغہ شخصیت کی شاگردی نے نور محمد کو ادبیات کا ماہر بنا دیا، اب یہ فیصلہ ہوا کہ نور محمد کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بار گاہ مدینۃ العلم میں نجف جانا چاہیئے، اس طرح وہ نجف اشرف پہنچ گئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں وہاں استاد بن گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ علم و فضل اور تقویٰ کی وجہ سے جب وہ نجف کی کسی گلی سے گزر رہے ہوتے تھے تو لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور علما انہیں استاذ الکل فی الکل کہتے تھے۔

مولانا غلام جعفر نجفی صاحب نے بڑی خوبصورت بات کی کہ انسان کے دو تعارف ہوتے ہیں، ایک اس کا چہرہ کراتا ہے اور دوسرا اس کا علم و اخلاق کراتا ہے۔ نور محمد کے علم و اخلاق والا تعارف ان سے دس میٹر پہلے چلتا تھا، اس لیے لوگ احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے، شکل و صورت والا تعارف تو کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ آج بھی ان کی اولاد قم و اصفہان میں موجود ہے، جن میں بہت سے علماء بھی ہیں۔ یوں وہ لاوارث نور محمد، اسم محمدﷺ کی برکت سے دین محمدی ﷺ کا خادم بن گیا اور باب العلم کے جوار میں رہ کر خدمت علم و طلاب کرتا رہا۔ یہ تو خدا کی عطا ہے، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایتھوپیا میں اتفاق سے پنجاب رجمنٹ ہو، اس میں جس کرنل کے پاس بچہ پہنچے، وہ سید ہو، وہ سید اسے ترس کھا کر گھر لے آئے، پھر وہ بھلوال بھجوا دے، مولانا غلام قنبر سر پر رکھے دانے اتارے کر اس کا بازو تھام لیں اور پھر ابوذر زمان مفتی محبوب ؒ کی شاگردی نصیب ہو۔ یہ سب اتفاق محض نہیں، اگر انسان پاک طینیت ہو تو اللہ انعام دیتا ہے اور اپنے دین کی خدمت کے لیے چن لیتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 802200
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب