0
Saturday 29 Jun 2019 16:00

ایران کو دبائو میں لانے کے امریکی ہتھکنڈے

ایران کو دبائو میں لانے کے امریکی ہتھکنڈے
تحریر: طاہر یاسین طاہر

کئی بار لکھا، مکرر عرض ہے کہ طاقت کے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں، جب مسلمانوں کے پاس طاقت تھی تو وہ بھی پیش قدمی کیا کرتے تھے۔ اگرچہ اس کی وجوہات اور جواز دین کی تبلیغ اور فروغ ہی تھا، لیکن غیر جانبدارانہ اور تعصب سے پاک ہو کر سوچا جائے تو اصل معاملہ وسائل پر قبضہ تھا۔ طاقتور جب کسی ملک یا خطے پر قابض ہوتے ہیں تو وہاں کچھ سہولیات بھی دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ سختی بھی کرتے ہیں، تاکہ رعایا کنٹرول میں رہے۔ جدید قومی ریاستوں میں یہی فارمولا اپنایا جا رہا ہے۔ قدیم سلطنتوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اب جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر عالمی فیصلہ ساز ملک تیسری دنیا کے ممالک کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ معاشی شکنجے میں کستے ہیں، آئی ایم ایف کے ذریعے اپنا تسلط مستحکم کرتے ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے کمزور ممالک کے وسائل کو سائنسی انداز میں اپنے تصرف میں لاتے ہیں۔

انقلابِ اسلامی ایران کے بعد ایران امریکہ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، اگرچہ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے ایران کی خطے میں حیثیت وہی تھی، جو آج کل امریکہ کے لیے عرب ممالک کی ہے، بالخصوص سعودی عرب کی۔ دنیا کبھی طاقت کے دو بلاکوں میں تقسیم تھی۔ پھر روس نے افغانستان میں افغانوں کی ہی دعوت پر فوجی مداخلت کی۔ امریکہ کے  لیے یہ موقع غنیمت تھا، اس نے مذہب کے نام پر عرب جوانوں کو اکسایا اور نام نہاد جہاد کا بھرتی کیمپ پاکستان قرار پایا۔ القاعدہ بنی، جو بعد میں کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار پائی۔ امریکی ڈالروں، پاکستانی حکمتِ عملی اور افغان "مجاہدین" کی ڈالروں کے عوض جارحانہ گوریلا کارروائیوں کے باعث روسی افواج کو واپس جانا پڑا، مگر اس طرح کہ روس کئی چھوٹی بڑی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔ روس کے ٹوٹنے سے نہ تو اس کا جوہری اسلحہ بچا سکا اور نہ ہی اس کی بھاری بھر کم فوج۔ روس کی معیشت تباہ ہوگئی اور روس ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ امریکہ کا مقصد پورا ہوا اور وہ نام نہاد مجاہدین کو ان کے حال پر چھوڑ پر چلتا بنا۔ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا اور نیو ورلڈ آرڈر کا نفاذ کرنے کی ٹھان لی۔

اپنے اسی ایجنڈے کے فروغ کے لیے امریکہ نے کم و بیش دنیا کے ہر ملک میں فوجی اڈے قائم کیے۔ بالخصوص مشرق وسطیٰ میں اس نے چین، روس اور ایران و پاکستان کو قابو میں رکھنے کے لیے افغانستان کا میدان منتخب کیا۔ اب تو شام، لبنان، یمن اور لیبیا بھی امریکی اور اس کے یورپی و عرب مفادات کی لپیٹ میں ہیں۔ ایران امریکہ تنازعہ نیا نہیں۔ ایران اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ کو شیطانِ بزرگ کہتا آرہا ہے، جبکہ امریکہ ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرکے اسے جھکنے پر مجبور کرنے کی "سفارتی" پالیسی پر گامزن ہے۔ ایران نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی جاری رکھی، امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے آخری عہد میں ضامن ممالک کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جسے صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔ یہاں سے ایران امریکہ نئی کشیدگی کا آغاز ہوا۔

امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب ایران کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ بات صرف یہی نہ رکی بلکہ امریکہ نے اپنے جنگی بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ بھی کر دیا اور اب امریکا نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں پہلی مرتبہ ایف 22 اسٹیلتھ جنگی طیارے تعینات کر دیئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کے مطابق واشنگٹن نے قطر میں اسٹیلتھ جنگی طیارے تعینات کیے، جو ریڈار پر ظاہر ہوئے بغیر ہی رازدارانہ طور پر حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈان نیوز کے مطابق امریکی فضائیہ کے سینٹرل ملٹری کمانڈ کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایئرفورس ایف 22 ریپٹر اسٹیلتھ جنگی طیارے امریکی فورسز اور مفاد کے تحفظ کے لیے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جدید تکینکی صلاحیت سے لیس کتنے جنگی طیارے تعینات کیے گئے۔ البتہ فراہم کردہ ہینڈ آؤٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قطر میں العدید نامی ایئربیس پر 5 اسٹیلتھ جنگی طیارے پرواز کر رہے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ ایران کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن، ایرانی تیل خریدنے والے تمام ممالک پر پابندی عائد کرے گا اور کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے گذشتہ ہفتے امریکی ڈرون مار گرانے کے واقعے کے بعد اس پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی سفیر برائن ہوک نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایرانی خام تیل کی کسی بھی قسم کی برآمدات پر پابندی عائد کریں گے۔ قبل ازیں ایران نے امریکہ کو ہر قسم کی جارحیت سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا۔ ایران کا یہ بیان امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کے بعد آیا تھا، جن کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ جمعرات کو ایران کے خلاف جوابی عسکری کارروائیوں کی منظوری دے دی تھی، تاہم جمعے کی صبح انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیاتھا۔

ایران کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اشتعال انگیزی کا ردعمل ہوگا، جس کے نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے پیر کو ایران پر یہ کہہ کر اضافی پابندیاں عائد کر دی تھیں کہ یہ ایران کے جارحانہ رویئے کا جواب ہیں۔ ان پابندیوں کی زد میں کئی افراد بھی آئے ہیں، جن میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ نیز اس  سے قبل خلیج کے پانیوں میں خام تیل کو لے جانے والے بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار بھی امریکہ ایران کو قرار دے رہا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی ایران پر حملہ کرے گا یا معاشی پابندیوں کے جال میں جکڑ کر ایران کو دبائو میں لائے گا؟ میرا خیال ہے کہ ایران ہر طرح کی معاشی پابندیاں برداشت کر لے گا، مگر امریکی دبائو اور ہتھکنڈوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہو گا۔

ہاں اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران کا پہلا ہدف اسرائیل اور خام تیل کی ترسیل کا بڑا ذریعہ آبنائے ہرمز ہوں گے، خطے میں امریکی فوجی اڈے بھی ایرانی میزائلوں کا ہدف ہوں گے۔ افغانستان میں امریکی فوجی اور فوجی اڈے بھی ایران کا  ہدف بنیں گے۔ جنگیں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتیں۔ امریکی صدر اور فیصلہ سازوں کو اس حوالے سوچنا چاہیئے اور یورپی ممالک کو بھی خطے پر منڈلاتے خونی خطرات کو ٹالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اس ساری صورتحال میں چین، روس اور پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہوگا۔ دنیا امریکہ کے نئے ایڈونچر کی تاب نہیں لاسکے گی۔ خطہ آتش و آہن کے الائو میں جلنا شروع ہو جائے گا اور یہ متوقع جنگ امریکہ و ایران کی جنگ نہیں رہے گی بلکہ ایک بڑی عالمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 802201
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب