0
Saturday 29 Jun 2019 20:49

عمرا ن خان کی حکومت کہاں تک چلے گی؟(2)

عمرا ن خان کی حکومت کہاں تک چلے گی؟(2)
تحریر: ایل اے انجم

حکومتی فیصلوں پر بالآخر فوج نے بھی مہر تصدیق ثبت کر دی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کی گئی تقریر بڑی اہمیت کی حامل ہے، گویا انہوں نے حکومت کے سخت فیصلوں کی نہ صرف کھل کر حمایت کی بلکہ انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز سے بھی حکومتی فیصلوں کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا ہے، معیشت کمزور ہوگی تو ملکی سلامتی کی صورتحال بھی کمزور ہوگی، قومی امور پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے، مشکل حکومتی فیصلوں کو کامیاب بنانے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ مشکل معاشی فیصلے نہ کرنے سے مشکلات بڑھیں۔ آرمی چیف کا خطاب سیاسی و عسکری قیادت کے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور حکومت کے سخت فیصلوں پر مکمل ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آرمی چیف کو حکومت کے حق میں تقریر کی نوبت کیوں آئی؟ اس کیلئے ہمیں تھوڑا ماضی کی طرف جھانکنا ہوگا۔

ہنگامہ خیز الیکشن کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے عمران خان کی پہلی وکٹری سپیچ بڑی متاثر کن تھی، وزیراعظم ہاؤس کو استعمال نہ کرنے، یونیورسٹی میں تبدیل کرنے، گورنر ہاؤس اور صدارتی ایوان کو عوام کیلئے کھولنے سمیت بہت سے دیگر اعلانات کا عوام نے خیر مقدم کیا، کچھ اعلانات پر عمل ہوا، لیکن وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہنوز حل طلب ہے۔ نئی حکومت کے سامنے پاکستان کی ہر نئی حکومتوں کی طرح دیوہیکل معاشی چیلنجز درپیش تھے۔ کنٹینر پر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خودکشی کرنے کی تقریر کرنے والے عمران خان جب خود ایوان اقتدار میں پہنچے تو پتہ چلا کہ قرضہ تو ہر صورت ناگزیر ہے، سوال یہ ہے کہ یہ قرضہ کہاں سے لیا جائے، ماضی میں آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضوں اور ان سے مربوط تلخ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے دوست ملکوں کا آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا، ایک ماہ کے اندر عمران خان نے سعودی عرب کے دو مرتبہ دورے کیے، متحدہ عرب امارات اور چین سے بھی رجوع کیا گیا، یمن کی دلدل میں پھنسی ہوئی خلیجی ریاستوں سے ہدف پورا نہ ہوا تو ایک بار پھر سے آئی ایم ایف کی طرف رجوع کیا گیا، بدلے میں کڑوا گھونٹ پینا پڑا، لیکن یہ کڑوا گھونٹ عوام کو کتنا مہنگا پڑے گا، اس کا جواب مہنگامی کے ستائے عوام کی چیخیں خود بتا رہی ہیں۔

ماضی میں ملکی معیشت مصنوعی آکسیجن کے ذریعے قائم رکھی گئی، معیشت  چونکہ ایک مکمل ریاضی ہے، یہ عام عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے، یہ اعداد و شمار کے گورگھ دھندوں کا کھیل ہے، مصنوعی آکسیجن جب ختم ہوئی تو معیشت دھڑم سے نیچے گر گئی اور ملک کے دیوالیہ ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگیں، ڈالر کو پر لگ گئے، اب یہ ڈبل سنچری کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کیا جا چکا ہے، مہنگائی کا طوفان ہے، معیشت ہچکولے کھا رہی ہے، عمران خان کو پھر بھی امید ہے کہ دو سال میں معیشت سنبھل جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ عوام کی چیخیں نکلنے کے باؤجود حکومت سخت فیصلوں سے باز کیوں نہیں آرہی؟ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ حکومت کے حالیہ اقدامات کو اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور یہ فیصلے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، آرمی چیف کی تقریر اس کی واضح مثال ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے نتیجے میں حکومت کو کم از کم اڑھائی ہزار ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی، ساتھ ہی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھی کافی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ سخت فیصلوں کے دو اہداف بیان کیے جاتے ہیں:
حکومت کی آمدنی بڑھانا، تاکہ مستقبل میں قرضوں پر انحصار کم سے کم کیا جاسکے۔
معیشت کو مصنوعی بنیادوں سے ہٹا کرحقیقی بنیادوں پر کھڑا کیا جائے۔

حکومت کو معلوم ہے کہ سخت فیصلوں کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، لیکن سخت فیصلوں کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا ہے، اربوں کے نئے ٹیکس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانے کے بعد ادائیگی کے توازن میں بہتری تو ضرور آئے گی، بدلے میں عوام کو بہت کچھ جھیلنا پڑے گا۔ اب اگر ہم اپوزیشن کی جانب دیکھیں تو دلچسپ صورتحال ہے، کسی کی سیاست خطرے میں ہے، کسی کی قیادت۔ معیشت کے ساتھ کبھی تو جمہوریت بھی خطرے میں نظر آتی ہے، بجٹ کے معاملے پر حزب اختلاف نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، اس کے باجود اپوزیشن شور کرتی رہی اور حکومت نے بجٹ منظور بھی کروا لیا، اپوزیشن کی سیاست ناکام ہونے کی بنیادی وجہ ویژن سے خالی ہونا ہے، بجٹ کے معاملے پر آسمان سر پر اٹھانے کے باوجود اپوزیشن کوئی متبادل حل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے بارے میں کسی کے پاس بھی کوئی ٹھوس دلائل نہیں، کیا کسی سیاسی جماعت نے اس مہنگائی اور معیشت کی زبوں حالی کا جامع متبادل حل بھی پیش کیا ہے؟ یہ شور شرابہ مزید ایک دو سال تک چل سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں تحریک انصاف کی حکومت کو اندرونی طور پر کوئی خطرہ نظر نہیں آتا، جب تک یہ ''ہم آہنگی'' برقرار ہے، لیکن اگر خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارے تو کون روک سکتا ہے۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(تمام شد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 802208
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب