0
Tuesday 2 Jul 2019 08:21

کابل میں دھماکے اور دوحا مذاکرات

کابل میں دھماکے اور دوحا مذاکرات
اداریہ
افغانستان میں گذشتہ روز کے دھماکوں نے اس جنگ زدہ ملک کو ایک بار پھر عالمی میڈیا میں نمایاں کر دیا ہے۔ کابل سے متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں، لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ طالبان اور افغان سکیورٹی کے درمیان چوہے بلی کا کھیل جاری ہے اور اس میں عام افغان شہری بھی بری طرح پس رہے ہیں۔ کابل کے گذشتہ روز کے دھماکے ایسے عالم ہیں ہوئے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ چند دن پہلے ایک ہنگامی دورے پر افغان صدر اشرف غنی سے اس وقت ملے، جب وہ پاکستان کے انتہائی حساس دورے پر جا رہے تھے۔ دوسری طرف حکومت مخالف افغان رہنمائوں نے بھوربن کی سرد و خنک ہوائوں میں پاکستانی حکام کے ساتھ تفصیل سے مذاکرات کیے، ان مذاکرات میں حزب اسلامی کے رہنما حکمت یار کی سرگرم شمولیت سب کے لیے دلچسپی اور توجہ کا باعث بنی۔ حکمت یار ایک طویل عرصے تک پاکستان کی ملٹری بیوروکریسی کی آنکھ کا تارا رہے ہیں اور جماعت اسلامی پاکستان سے ان کی وابستگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس دورے میں بھی جماعت اسلامی نے حکمت یار کو کھانے پر دعوت دے کر اپنے ماضی کے تعلقات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان اور افغان لیڈروں کی پاکستان میں مذاکراتی سرگرمیاں اپنی جگہ پر اہم ہیں، لیکن عین اس وقت جب کابل دھماکوں سے گونج رہا تھا، قطر کے دارالحکومت دوہا میں طالبان کے امریکہ سے مذاکرات جاری تھے۔ افغان امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل ذاد گذشتہ نو مہینوں میں طالبان کے ساتھ مختلف ممالک میں متعدد مذاکرات کے دور انجام دے چکے ہیں، لیکن ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ افغان امور پر نظر رکھنے والے ماہرین دوحا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت حساس قرار دے رہے ہیں، لیکن طالبان کی طرف سے انجام پانے والے گذشتہ روز کے دھماکوں نے صورت حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ طالبان ایک طرف اپنی طاقت کے اظہار کے لیے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اپنی قوت کے اظہار کے لیے اس طرح کے اقدامات انجام دیتے ہیں۔

دوسری طرف امریکہ کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم جس افغان حکومت اور جس اشرف غنی پر تکیہ کرتے ہوئے طالبان جیسے گروہ کو نظرانداز کر رہے ہو، وہ حکومت کابل میں اتنی کمزور ہے کہ طالبان جب چاہیں، افغان حکومت کے حساس مقامات کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے کی طاقت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ مذاکرات کے ذریعے طالبان پر ایسی پالیسی مسلط کرنا چاہتا ہے، جس سے طالبان کا فلسفہ وجودی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ طالبان رہنمائوں نے ابھی تک اپنے پتے بڑے اچھے انداز سے کھیلے ہیں، البتہ طالبان کو اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ یہ نوے کا عشرہ نہیں 2019ء ہے۔ افغانستان کے اسٹیک ہولڈروں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ روس، چین، پاکستان، ایران، ہندوستان سمیت عالمی برادری افغانستان پر نظریں گاڑھے ہوئے ہے۔ طالبان کو ایسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، جس سے افغان عوام اور افغانستان کے ہمسائیوں کو کسی نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے۔
خبر کا کوڈ : 802618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب