0
Wednesday 3 Jul 2019 08:33

حشدالشعبی کا ایک اور سنگ میل

حشدالشعبی کا ایک اور سنگ میل
اداریہ
دو ہزار چودہ میں عالم تشیع کے مرجع اور بزرگ عالم دین آیت اللہ سید علی سیستانی نے عراق میں ایک تاریخ ساز فتویٰ دیا، جس نے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے پرورش اور حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ داعش کو ایک ایسے چیلنج سے دوچار کر دیا، جس کے بارے میں امریکہ اور اس کے علاقائی حواریوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ایک ایسے عالم میں جب داعش دہشت گرد موصل پر قبضے کے بعد بغداد کے دروازے پر دستک دے رہا تھا تو 2014ء میں آیت اللہ سید علی سیستانی نے داعش کے خلاف جہاد کفائی کا تاریخی فتویٰ دیا، جس کے نتیجے میں حشدالشعبی تشکیل پائی۔ اس رضاکار مسلح تنظیم نے اندازوں کے خلاف بہت کم وقت میں داعش کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور یوں وہ فتنہ جسے ایران سمیت پورے عالم عرب کے لیے خلق کیا گیا تھا عراق و شام میں دم توڑ گیا۔

جس حشد الشعبی نے یہ معرکہ لڑا تھا، اس کے بارے میں عراق دشمن اندرونی اور بیرونی عناصر نے بہت زیادہ منفی پرویگینڈا کیا، لیکن اب اسی حشدالشعبی کے بارے میں عراق کے وزیراعظم اور عراقی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر عادل عبدالمھدی نے حشد الشعبی کو باقاعدہ قومی فوج کے طور پر منظم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عراقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں رضا کار فورس الحشد الشعبی کو مسلح افواج کی کمانڈ میں باضابطہ طور پر شامل کرنے اور الحشد الشعبی میں شامل مختلف گروہوں کو ٹروپس، بٹالین، بریگیڈ اور ڈویژن کے نام دیئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے عراق کے سابق وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی مارچ 2018ء میں الحشد الشعبی کو عراق کی مسلح افواج میں ضم کرنے کا حکم صادر کیا تھا، لیکن چونکہ اس وقت عراق میں پارلیمانی انتخابات قریب تھے تو حیدرالعبادی کے اس فیصلے کو انتخابات کے تناظر میں دیکھا گیا۔

لیکن اس مرتبہ عراق کے موجودہ وزیراعطم عبدالمھدی نے اپنے دورہ وزارت عظمیٰ کے پہلے سال میں یہ حکم جاری کیا ہے، جس سے وہ تاثر ختم ہوگیا۔ عبدالمھدی اور حیدرالعبادی کے حکم میں دوسرا نمایاں فرق یہ ہے کہ حشد الشعبی کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی، حشد الشعبی کے جو افراد باقاعدہ فوج کے انتظام میں آگئے، وہ انتخابی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوسکیں گے، لیکن وہ افراد جو مسلح افواج سے ملحق نہیں ہوئے تو ان کو سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی مکمل اجازت ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد عراق میں حشد الشعبی کا ایک نیا کردار شروع ہونے کو ہے۔ امید واثق ہے کہ یہ فورس استقامتی و مزاحمتی بلاک کا حصہ رہتے ہوئے مستقبل میں مزید سنگ میل عبور کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 802831
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب