0
Wednesday 3 Jul 2019 11:35

محاذ یمن اور انقلاب مہدیؑ(2)

محاذ یمن اور انقلاب مہدیؑ(2)
تحریر: ثاقب اکبر
 
ایک روایت ہماری نظر سے گزری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قم سے جو شخصیت قیام کرے گی، اس کا جانشین ایک سید خراسانی ہوگا۔ روایت کے مطابق جب امام سے سوال کیا گیا کہ کیا قم سے قیام کرنے والی شخصیت کی حکومت قائم آل محمدؐ سے ملحق ہوگی تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ان کا جانشین سید خراسانی ہوگا، جس کی قیادت میں جو لشکر اٹھے گا، وہ امام مہدیؑ کے لشکر سے ملحق ہوگا۔ اس روایت کے بارے میں ہماری طرف سے تحقیق ابھی جاری ہے۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ قم سے قیام کرنے والی شخصیت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب پر گہرا شعور بھی رکھتی تھی اور اس پر ایمان بھی۔ علاوہ ازیں پوری تاریخ اسلام میں امام خمینیؒ کے علاوہ کوئی انقلابی راہنما ایسا نہیں گزرا، جس کا نام روح اللہ ہو اور جس سے لوگوں نے ایسی بے پناہ محبت کی ہو، جس کے مظاہرے ہم نے امام خمینی ؒکے لیے دیکھے ہیں، ابھی تک کروڑوں انسان ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کا نام لے کر ایک نیا ولولہ پاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ امام خمینی کی زندگی ہی میں ان کے چاہنے والے یہ نعرہ لگاتے تھے: "خدایا خدایا تا انقلاب مہدی خمینی را نگہدار"
یعنی اے اللہ انقلاب مہدی تک امام خمینی کی حفاظت فرما۔
 
ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا، ان کے جانشین سید خراسانی ہوگئے، یعنی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای۔ جب انہوں نے رہبری کا منصب سنبھالا تو لوگوں نے یہ نعرہ لگانا شروع کر دیا:"خدایا خدایا تا انقلاب مہدی از نہضت خمینی محافظت بفرما خامنہ ای رہبر بہ لطف خود نگھدار" یعنی اے اللہ! انقلاب مہدی تک امام خمینی کی برپا کی ہوئی تحریک کی حفاظت فرما اور اپنے لطف سے ہمارے رہبر خامنہ ای کی حفاظت فرما۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس انقلاب سے وابستہ افراد اچھی طرح سے جانتے ہیں اور یہ ایمان رکھتے ہیں کہ امام خمینی اور ان کے جانشین کی تحریک کا تعلق انقلاب مہدی سے ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ انقلاب اب سرحدوں سے باہر نکل چکا ہے اور طاغوتی و استعماری قوتوں کے خلاف ایک عالمی مزاحمت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ طاغوتی قوتیں بھی اپنے لائو لشکر کے ساتھ صف آراء ہیں، مزاحمتی قوتیں اپنی مالی اور مادی کمزوری کے باوجود اپنی ایمانی قوت اور روحانی بصیرت سے ان کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
 
یمن کا معرکہ اسی مزاحمت کا حصہ ہے، جس کے بارے میں پیشگوئیوں کی طرف ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ وہاں سے ایک سید یمانی اٹھیں گے اور سید خراسانی کی طرح وہ بھی امام مہدی ؑسے جا ملیں گے۔ اس طرح سے یہ انقلاب ایک مکمل اور کامل انقلاب کی صورت اختیار کر لے گا۔ اس سلسلے میں ایک یمنی راہنما سید حسن العماد جو یمن کی تنظیم مستقبل العدالہ کے سیکرٹری جنرل ہیں، کی ایک تقریر ہمارے ایک دوست نے بھجوائی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ یمنی قیادت اس پورے فلسفے پر عقیدہ رکھتی ہے اور اسی کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے، اسے اپنی تحریک کی درستی پر ایمان بھی ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ قربانیاں دے رہی ہے۔ سید حسن العماد نے یہ تقریر چند روز قبل ’’مجاہدین، عالم غربت میں‘‘ کے عنوان سے دامغان میں منعقد ہونے والی تیسری کانفرنس کے موقع پر کی۔

ان کی تقریر نہایت اہم نکات کی حامل ہے، جس کا ترجمہ ہم ذیل میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں: وہ لوگ جو امام زمانہ ؑکے ظہور کی روایات اور امام کے پروگرام سے بے خبر ہیں، نہیں سمجھتے کہ سعودیہ، اسرائیل، برطانیہ اور امریکا یمن پر کیوں حملہ آور ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی دینی کتب کا مطالعہ کریں۔ یہ بات باعث افسوس ہے کہ ہمارے دشمنوں نے ہماری دینی کتابوں کا زیادہ مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے امام مہدیؑ کے ظہور کی علامات اور مقدمات کا بغور جائزہ لیا ہے۔ دشمن نے ہماری کتابوں کے بارے میں تحقیق کی ہے اور وہ سمجھ گیا ہے کہ امام مہدیؑ اس وقت تک ظہور نہیں کرسکتے، جب تک ان کے لیے مقدمات فراہم نہ ہوں۔ ان کے ظہور کے مقدمات کیا ہے؟ پرچم خراسانی اور پرچم یمانی وغیرہ۔
 
ایرانیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "اگر آپ غور کریں تو یمن پر حملے کے ذمہ دار وہی ہیں، جو آپ کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کے ذمہ دار ہیں۔ جن میزائلوں اور اسلحے سے یہ آج ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں، انہی کے ذریعے انہوں نے آپ پر حملہ کیا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ اس روز وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایران آزاد ہو، ایران خود مختار ہو اور پرچم خراسانی بلند ہو، لیکن انہوں نے شکست کھائی، ایران آزاد ہوگیا اور آج وہی لوگ یمن کی آزادی کے لیے پریشان ہیں کہ کہیں ظہور کا یمنی حلقہ بھی مکمل نہ ہو جائے۔ یہ یمن کو اس لیے تباہ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ امام مہدیؑ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ وہ امام کے ظہور کے دشمن ہیں، ان کی عادلانہ حکومت کے دشمن ہیں۔ آج ہم یمنیوں کی آنکھیں کھل چکی ہیں اور ہم بیدار ہوچکے ہیں۔ یہ اسلامی جمہوریہ کی برکت سے ہے، یہ امام خمینی ؒکی برکت سے ہے، یہ سید علی خامنہ ای کی برکت سے اور یہ آپ کے انقلاب کے پہلے اور بعد کے شہداء کی برکت سے ہے۔

فجر انقلاب کا نور یمن تک پہنچ چکا ہے۔ امریکا اور سعودیہ اندھے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ یمن اپنی سابقہ حالت پر واپس چلا جائے۔ یہ آج یمن کے خلاف جنگ آزما ہیں، کیونکہ جانتے ہیں کہ اگر یمن آزاد ہوگیا تو ظہور کے دونوں پَر مکمل ہو جائیں گے اور امام زمانؑ کا ظہور عمل میں آجائے گا۔ وہ جانتے ہیں، اس لیے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ آپ محمد بن سلمان کی ان تقریروں کو سامنے رکھیں، جو اس نے کچھ عرصہ قبل کی تھیں۔ اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم اجازت نہیں دیں گے کہ ایران خطے میں وسعت پیدا کرے، کیونکہ ایران امام مہدیؑ کے ظہور کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ غور کریں کہ وہ لوگ اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی مشکل ظہور مہدی ہے۔ محمد بن سلمان کے اسی انٹرویو کے بعد سید حسن نصراللہ نے ایک تقریر میں اُس کے جواب میں کہا تھا کہ ’’تو کیا اور تیرے بڑے کیا اور تیرے سرپرست کیا، وہ امام زمانؑ کے ظہور کو نہیں روک سکتے اور نہ روک سکیں گے۔"
 
آج یمن سے جنگ امام زمانؑ سے جنگ ہے اور امام زمانؑ کے پروگرام سے جنگ ہے، امام زمانؑ کے ظہور کے لیے راہ ہموار کرنے والوں سے جنگ ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ امام زمانؑ کے ظہور کے مقدمات ہیں، وہ ان مقدمات کو روکنا چاہتے ہیں، وہ اس ظہور کو روکنا چاہتے ہیں۔ میں امام زمانؑ پر قربان جائوں کہ ابھی انہوں نے ظہور بھی نہیں فرمایا کہ ان سے یہ لوگ اس طرح سے ڈر رہے ہیں، اگر وہ خود آجائیں تو یہ کیا کریں گے۔ آج یمن امام زمانؑ کے منتظرین کے لیے ایک عظیم امتحان سے عبارت ہے، کیونکہ فقط یہی ہیں، جو اپنی اس اہم ذمہ داری سے آگاہ ہیں، کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ یمن مقدمۂ ظہور ہے۔ لہٰذا یمن کا دفاع اور یمن کی مدد ظہور امام زمانؑ کے لیے مدد ہے۔ دشمن اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اے میرے عزیز بھائیو اورب ہنو! اگر ہم سو جائیں تو دشمن سویا ہوا نہیں ہے، وہ چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ ہم نے کیا کام کیا ہے، یمن کے مسئلے کو فقط ایک جذباتی بحث کا مسئلہ نہ بنائیں، یمن کا مسئلہ ہر منتظر امام زمانؑ کی شرعی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔

امام خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ آگاہ رہو کہ باطل ختم ہو جائے گا۔ آل سعود کی نابودی یقینی ہے، لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ مومنین خوب کام کریں۔ اگر ہم فقط دیکھتے رہیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھیں تو کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا، جبکہ دشمن اسی طرح اپنا کام جاری رکھے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ظہور ہمارے ہاتھوں سے رونما ہوگا۔ پس ہمیں کوشش کرنا ہے، جس شعبے میں بھی ممکن ہے کوشش کرنا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہمارے یہ جوان سوشل میڈیا کے ذریعے سے یمن کی مظلومیت کو دنیا والوں کے کانوں تک پہنچائیں تو بلاشبہ وہ ظہور امام میں مدد کریں گے۔ اگر ہم اس امتحان سے کامیاب گزر گئے تو ظہور جلد تر رونما ہو جائے گا۔ انہوں نے آخر میں ایرانی بہن بھائیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ نے ظہور کا پہلا مقدمہ ہموار کیا، یعنی پرچم خراسانی کو بلند کرنے میں کردار ادا کیا اور اسی طرح آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ دوسرے مقدمے کو فراہم کرنے کے لیے مدد کر رہے ہیں، یعنی پرچم یمانی کو سر بلند کرنے کے لیے۔ آپ کی حالت پر رشک آتا ہے۔ آج امام خمینی کے افکار سے یمن میں کیسے کیسے معجزات رونما ہو رہے ہیں، کس کے ذریعے سے؟ امام خمینی ؒکی چند کتابوں کے ذریعے سے اور سید علی خامنہ ای کی چند کتابوں کے ذریعے سے۔
۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 802911
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب