0
Wednesday 3 Jul 2019 21:05

جنگ جنگ تا فتح جنگ

جنگ جنگ تا فتح جنگ
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
انقلاب اسلامی ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازشیں، اقدامات اور حکمت عملیاں گذشتہ چالیس برس سے جاری ہیں اور الحمد للہ یہ ناکامی سے دوچار ہیں۔ الہیٰ مدد اور غیبی امداد جمہوری اسلامی ایران کو ہر مشکل اور پریشانی نیز مصیبت سے نکال باہر کرتی آئی ہے، اس کے مظاہرے ہمیشہ ہم دیکھتے آئے ہیں۔ اگر استعمار اور اس کی سازشوں کو دیکھا جائے اور انہیں ترتیب سے شمار کیا جائے تو یہ ایک طویل فہرست بنتی ہے۔ ہم اس مختصر مضمون میں ان کا شمار نہیں کرسکتے، اس کیلئے کئی دفتر درکار ہیں، ہاں بس چیدہ چیدہ واقعات اور غیبی امداد کے مطاہر ہم ضرور گن سکتے ہیں۔ بذات خود ایران جیسی مضبوط بادشاہت، جہاں امریکہ کی اتحادی اور من پسند حکومت تھی، کو ختم کرکے ایک ایسا انقلاب برپا ہونا جو اپنے قیام سے لیکر آج چالیس برس تک امریکہ کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے اور اسے سینکڑوں بار ناکامی سے دوچار کر چکا ہے، کا قیام اور وقوع پذیر ہو کر قائم رہنا کسی معجزہ الہیٰ سے کم نہیں ہے، ایسے میں جب دنیا دو قطبی سے یک قطبی ہوگئی تھی تو ایران کا شعار اور نعرہ فضائوں میں گونج رہا تھا کہ سپر پاور ہے خدا۔۔لا الہ الا للہ، اس نعرے کا مطلب یہ تھا کہ ہم شرق و غرب سے بیزار ہیں اور ہم الہیٰ قانون کو مانتے ہیں جبکہ اس وقت دنیا ان دو بلاکوں سے ہٹ کے زندہ رہنے سے قاصر تھی اور جب روس کے ٹکڑے ہوگئے تو اہل ایران اور اس کی قیادت کا یہی لا الہ اللہ کا نعرہ امریکہ کی آنکھوں میں خار بن کے کھٹکنے گا۔
 
انقلاب کے اوائل میں ایرانی جید علماء و سیاست دانوں اور اراکین پارلیمنٹ کو نشانہ بنانا جبکہ انقلاب ابھی نوزائیدہ ہی تھا، اس سانحے نے ایران کی اصل انقلابی قیادت جو انقلاب لانے میں پیش پیش تھی اور عوام میں بہت مقبول ہونے کے باعث پہلی پارلیمنٹ کی ممبر منتخب ہوئی تھی، کو ایک بم دھماکے کے ذریعے شہید کر دیا گیا، جو بلا شبہ ایک سانحہ عظیم تھا، اس سانحہ نے رہبر انقلاب امام خمینی سمیت ہر ایک کو غم ناک کیا اور دشمن نے یہ سوچا کہ اس انقلابی قیادت کے چلے جانے کے بعد انقلاب کو اس کی بنیادوں کے ساتھ قائم رکھنا ممکن نہیں ہوگا، مگر امام خمینی نے فرمایا کہ کیا ہوا آج بہشتی ہمارے درمیان نہیں رہے تو خدا موجود ہے۔ انقلاب پر ہونے والے ہزاروں وار میں سے سب سے بڑا وار صدام کی طرف سے اوائل انقلاب میں ہی جنگ مسلط کرنا تھا، جس میں صدام کو بیسیوں ممالک بشمول عرب و مغرب کی مدد حاصل تھی، جبکہ ایران کی حالت یہ تھی کہ پر عالمی مارکیٹ سے کانٹوں والی تار خریدنے کی بھی پابندی تھی۔

اس حالت میں صدام کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ وہ حملے کے تیسرے دن ایران کے پایہء تخت تہران میں ہونگے، مگر ایرانی قوم نے یہ معجزہ کر دکھایا کہ آٹھ سال تک مسلسل پابندیوں کا شکار رہ کر لاکھوں قربانیاں دے کر اپنے ملک کی حفاظت کی اور اپنے قبضہ شدہ شہر واپس لئے اور صدام کو اس کے ارادوں میں ناکام و نامراد کیا، ایران پر اپنے قیام انقلاب کے ساتھ ہی عالمی پابندیاں لگا دی گئی تھیں، جو آج بھی جاری ہیں، یہ پابندیاں آج بھی امریکی صدر لگا رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت امریکہ بہادر کے سامنے کسی کمزور ملک کا ٹکنا معجزے سے کم نہیں اور امریکی پابندیوں کا مطلب یہی ہے کہ اس ملک کا اقتدار اور حکومت مجبور ہو کر گھٹنے ٹیک دے اور حکمران اپنی جان بچا کر کہیں بھی سیاسی پناہ حاصل کرکے گم ہو جائے، مگر چالیس سال سے امریکہ کی یہ خواہش رہی ہے کہ ایران کو پابندیوں کا شکار کرکے سبق سکھا سکے مگر۔۔
 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ مرا دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
کے مصداق امریکہ کو تھوک کے چاٹنا پڑا ہے، آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال درپیش ہے، امریکہ کی دہشت گردی کا اس سے بڑا واقعہ شائد ہی ملے کہ ایران کے ایک مسافر بردار طیارے کو خلیج میں اپنے بحری بیڑے سے نشانہ بنا کر کم از کم تین سو ایرانی بے گناہ مسافروں کو شہید کر دیا، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، جن کا کوئی قصور نہیں تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ کام سرانجام دینے والے کمانڈر کو اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا، جو اس کی انسانیت دشمنی کا کھلا ثبوت ہے، یہ سب ایران کی دشمنی میں کیا گیا، جبکہ بے گناہ مارے جانے والے عام انسان تھے۔ آج امریکہ صدر یہ کہتا ہے کہ ہم نے ڈرون گرانے کا جواب دینے کی مکمل تیاری کر لی تھی اور آرڈر بھی کر دیا گیا تھا، مگر جب میں نے یہ معلوم کیا کی مجوزہ ٹارگٹ سے جانی نقصان کا کس قدر اندیشہ ہے تو بتایا گیا کہ سو ایک سو پچیس لوگ مارے جائیں گے تو میں نے فیصلہ بدل دیا۔

اس سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بڑے ہی انسانیت دوست ہیں، جبکہ دنیا جان چکی کہ یہ "کھسیانی بلی کھمبا نوچے" والی بات ہے، ورنہ عراق، افغانستان، لیبیا، شام، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں فضائی بمباری، ڈرون حملے جن میں بے گناہ لوگ، سکولوں کے بچے، شادیوں میں شریک عام پبلک اور سویلین لوگوں کو کتنی بڑی تعداد میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور یمن و افغانستان میں تو اب بھی یہ سب کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے درست فرمایا ہے کہ اگر تم  ایران پر حملہ کرسکتے تو ضرور کرتے، یہ تمہاری ناتوانی کا بھید کھلا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو حقیقت یہی ہے کہ اہل ایران اور ان کی قیادت کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہی پیغام ہے کہ تم پابندیاں لگا سکتے ہو، بدمعاشی کرسکتے ہو، عالمی اداروں میں اپنی مرضی کے فیصلے کروا سکتے ہو، خائن مسلم ممالک کو ساتھ ملا سکتے ہو، ایران کا نام لیکر عرب ممالک کو ڈرا کر اپنا ناکارہ اسلحہ بیچ سکتے ہو، سازشیں کرسکتے ہو، تخریب کار بھیج سکتے ہو، ثقافتی یلغار کرسکتے ہو، مگر ایران کو جھکا نہیں سکتے۔

ایران کی غیرت کا سودا نہیں کرسکتے، ایران کی آزادی اور اس کے استقلال پر ضرب نہیں لگا سکتے، ایران کی حمیت اور جرات کو نہیں خرید سکتے، ایرانی قیادت کی شجاعت اور دور اندیشی کا مقابلہ نہیں کرسکتے، جس نے پوری دنیا میں تمہیں ننگا کر دیا ہے۔ تمہارے کھوکھلے پن کا پردہ چاک کر دیا ہے، تمہارے جھوٹے رعب اور دبدبے کو فاش کرکے رکھ دیا ہے، ایرانی قیادت کا اعلان ہے کہ تم ہمیں شعب ابی طالب میں رہنے پہ مجبور کرسکتے ہو، مگر ہمارے موقف اور الہیٰ ہدف سے پیچھے نہیں دھکیل سکتے، تم پابندیوں کا شکار کرسکتے ہو، مگر ہمارے جوانوں کی ذہانت اور علمی میراث کو ہم سے نہیں چھین سکتے، ہمارے ملک میں بہت سے نامور لوگ جو اپنے آپ کو دانشور کہتے ہیں، کسی ایجنڈے کے تحت ایران کے بارے اس سب کے باوجود اب بھی پروپیگنڈا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایران امریکہ ملے ہوئے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کبھی ایران پر حملہ نہیں کریگا، چونکہ ایران میں یہودیوں کی بڑی تعداد بستی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل ملے ہوئے ہیں، ان لوگوں کو اسرائیل کیساتھ عرب ممالک کی جپھیاں اور سفارتی تعلقات تو دکھائی نہیں دیتے، جو وقت کیساتھ ساتھ اب واشگاف اور روشن دن کی طرح ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اندر کھاتے ملے ہونے کی خبریں مل جاتی ہیں۔

بحرین کے شہر منامہ میں ہونے والی حالیہ کانفرنس، جس میں فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے اور ان کی زمینوں پر صیہونیوں کے قبضوں کو مستقل کرکے انہیں در بدر کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے، کسی کو دکھائی نہیں دی اور نہ ہی ایران کی جانب سے اس منامہ کانفرنس کے خلاف فلسطینیوں کو یکجا و متحد کرنے کی کوششیں اور اس کے مقابل فلسطینیوں کو کھڑا کرکے ان کی مدد کرنے کے اعلانات اور اقدامات کسی کے علم میں نہیں ہونگے۔ اگر حقیقت کا اظہار کیا جائے تو یہی ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ و اسرائیل کی دشمنی کا اہم ترین نکتہ ہی فلسطینیوں کی، کی جانے والی مدد ہے، جس پر ایران کی قیادت نے کبھی انکار نہیں کیا، اگر ایران آج فلسطینی جہادی تنظیموں اور گروہوں کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی بہت سی اپنی مصیبتیں اور مسائل فوری حل ہو جائیں گے، مگر ایران کا موقف اصولوں کی بنیاد پر ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اس کے باوجود ایسے لکھاری حضرات اور خود کو دانشور کہنے والے ہمارے بعض معروف لوگ ایران کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں، اس سے ان کی مفاداتی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے، ایران کو کیا فرق پڑتا ہے۔؟
 
ایران نے چالیس سال پہلے انقلاب برپا کرکے امریکہ کے منہ پر جو طمانچہ مارا تھا، اس کی گرمائش اب بھی اسے محسوس ہوتی ہے، جبھی تو امریکہ اس کے خلاف گذشتہ چالیس برس سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اہل ایران کا بھی یہی نعرہ اور شعار ہے کہ جنگ جنگ تا پیروزی یعنی جنگ تا فتح جنگ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق و باطل کے درمیان ازل سے جاری معرکہ آرائی کا حصہ ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہیگی، جب تک کہ خدا کی آخری حجت جن کا ذکر احادیث مبارکہ میں تواتر کیساتھ آیا ہے، وہ ظاہر نہیں ہو جاتی اور عدل کا پرچم تو دنیا میں انہی کے ظہور سے مشروط ہے۔ دعا ہے اہل ایران کی حق کے مقابل قوتوں کے ساتھ معرکہ آرائی ان کی آمد میں جلدی کا سبب قرار پائے۔
خبر کا کوڈ : 802981
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب