0
Wednesday 3 Jul 2019 21:50

داستان ظہور(1)

داستان ظہور(1)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

میرا ایک دوست سفر پر گیا تھا، میں اس کا منتظر تھا، آپ اس کے منتظر تھے، وہ بھی منتظر تھا! سب بہار کی آمد کے منتظر تھے اور اسے دیکھنے کےلئے، لمحات گن رہے تھے۔ میں نے قلم کو ہاتھ میں لیا؛ ایک سال، سینکڑوں کتابوں میں اپنے گمشدہ کو ڈھونڈتا رہا۔ میں چاہتا ہوں اس کے آنے کی تصویر کشی کروں؛ وہ تصویر کہ جو معصومین علیہم السلام کی احادیث میں بیان ہوئی ہیں وہ خوبصورت تصویر جو آپ کو اس کے آنے کا دیوانہ کر دے۔ آپ کے لئے اس کتاب کو لکھنے کےلئے سو سے زائد کتب کا مطالعہ کیا، اب آپ کی باری ہے کہ اس کتاب کو پڑھیں تاکہ آپ کے دل میں ظہور امام کے شوق میں اضافہ ہو اور یاد رکھیں کہ آپ کا ظہور کتنے ہی دلوں کو اُمیدوار بنا دیتا ہے۔ (مہدی خدامیان آرانی، قم المقدس)

مکہ کا چاند کعبہ میں:
اس کتاب کو کیوں ہاتھ میں لیا ہے اور کس انگیزہ سے اس کا مطالعہ کر رہے ہیں؟ کیا جانتے ہیں کہ میں آپ کو ایک دور دراز سفر میں لے کر جا رہا ہوں؟ اے میرے بہترین ہمسفر! آپ سے چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ مستقبل میں چلیں! وہ مستقبل کہ جسے سب دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں آپ کو اس دور میں لے کر جا رہا ہوں کہ جب امام زمانہ علیه السلام ظہور کریں گے؛ جی ہاں! میری بات زمانہ ظہور سے متعلق ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس زمانہ کے حالات کو آپ کے لئے بیان کروں، کیا تیار ہیں؟ یقینا کئی بار سنا ہے کہ خدا کا وعدہ بہت نزدیک ہے، پس اٹھو اور میرے ساتھ مکہ چلو ۔۔۔ آج 20 ذی الحج ہے۔ میں اور آپ شہر مکہ میں کعبہ کے پاس کھڑے ہیں، ظہور امام تک چند دن باقی ہیں۔ امام زمانہ دس محرم الحرام کو کعبہ میں ظہور کریں گے۔(1)

دیکھو دیکھو! کعبہ کس قدر خوبصورت جلوہ دکھا رہا ہے!
کیا کعبہ کا طواف کرنا چاہیں گے؟
ارے مسجد الحرام اتنی خالی خالی کیوں ہے؟
سنا ہے کہ خانہ خدا میں بہت جمع غفیر ہوتا ہے، کبھی بھی خانہ خدا میں خلوت (ہجوم کا نہ ہونا) نہیں ہوتی۔
آج جگہ اتنی خالی خالی کیوں ہے؟
کیا لوگوں کا کعبہ سے عشق و محبت کم ہو گیا ہے۔
مکہ امن کا گھر ہے؛ لیکن آج ”سفیانی“ کے سپاہیوں نے اس شہر کا محاصرہ کیا ہوا ہے، اسی وجہ سے شہر میں بہت تھوڑے لوگ ہیں۔(2)
اے میرے ہمسفر! کیا ”سفیانی“ کو جانتے ہیں؟
کیا اس کے بارے میں آپ کو کچھ بتا
ں؟

'"سفیانی" امام زمانہ علیه السلام کے دشمنوں میں سے ایک ہے اور اس کا قیام ظہور امام کی علامات میں سے بیان ہوا ہے۔(2) تقریباً پانچ ماہ قبل اس نے
Syria (شام) میں فوجی انقلاب برپا کیا ہے اور اس ملک کی حکومت پہ قبضہ کیا ہے۔ پھر عراق پہ حملہ کیا اور شہر کوفہ پر قبضہ کرلیا اور اس شہر میں بہت زیادہ خون خرابہ کیا اور بہت سے بےگناہ شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ (3) سفیانی نے ایک لشکر مدینہ بھیجوایا ہے اور اس شہر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اب سفیانی شہر مکہ پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے؛ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امام زمانہ علیه السلام اسی شہر سے ظہور کریں گے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ کچھ سپاہی مکہ جائیں اور اس شہر کا محاصرہ کر لیں۔ اب شہر مکہ سفیانی کے قبضہ میں ہے۔ میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو رہا ہے کہ امام زمانہ علیه السلام اور ان کے ساتھی کیسے اس شہر کا محاصرہ توڑیں گے؟ سفیانی کی فوج بڑی سختی سے آنے جانے والے راستوں کو کنٹرول کررہی ہے۔ تیار ہو جا۔ ہمیں بھی شہر سے نکل جانا چاہیئے، اور اس جگہ جانا چاہیئے کہ جہاں سے چاند اس شہر میں داخل ہو گا۔

وہاں دیکھو! کیا اُس تیس سالہ جوان کو دیکھ رہے ہوشکل و صورت سے ایک چرواہا لگتا ہے؟ اس کے ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی ہے، آہستہ آہستہ سفیانی کی فوج کے درمیان سے گزر رہا ہے، بڑی عجیب بات ہے! سفیانی کی فوج تو کسی کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی کیوں اس جوان کو روک نہیں رہے؟
نہیں جانتا اسے پہچانا یا نہیں؟
میری جان اس پہ قربان!
یہ جوان، وہی میرے اور آپ کے مولا ہیں کہ جو حکم خدا سے ایک چرواہے کی شکل میں شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔(5)
وہ دور سے آ رہے ہیں۔ وہ یمن سے مدینہ گئے حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کے شہر میں قیام کیا اور مدینہ پر سفیانی کے حملہ کی وجہ سے وہاں سے نکلے ہیں اور اب مکہ پہنچے ہیں۔(6)
اُن کی نورانی صورت چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہی ہے۔(7)
ان کے دائیں جانب دیکھو ان کی گالوں پر ایک تل ،ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔(8)
یہ جوان حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کے فرزند ہیں، آئے ہیں تاکہ اپنے نانا کے دین کو زندہ کریں۔(9)
امام زمانہ شہر مکہ میں داخل ہوتے ہیں اور اس شہر کے پہاڑوں میں قیام کرتے ہیں۔
شہر مکہ، خدا اور کعبہ کا شہر، اور خدا پرستی کا محور ہے چونکہ امام کا مقصد کفر کا خاتمہ ہے اسی لئے وہ اپنی تحریک کا آغاز مکہ سے کرتے ہیں۔
ابھی امام زمانہ علیه السلام کے ظہور میں کچھ وقت باقی ہے، امام پہلے مکہ اس لیے آئے ہیں تاکہ ابتدائی کاموں کو انجام دے سکیں۔

(جاری ہے)
________________________________________

منابع:

1۔ الإمام الباقر(علیه السلام): «یخرج القائم(علیه السلام)... یوم عاشورا ، الیوم الذی قُتل فیه الحسین (علیه السلام)»: تهذیب الأحکام ج 4 ص 332، شرح أُصول الکافی ج 12 ص 301۔۔
2۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): «... کبسنا أصحاب السفیانی ، فإذا تجلّی لهم الصبح یرونهم طائعین...»: معجم أحادیث الإمام المهدی(علیه السلام) ج 3 ص 94. ص:11 
3۔ الإمام الکاظم (علیه السلام): «... إنّ أمر القائم حتم من الله، وأمر السفیانی حتم من الله، ولا یکون قائم إلاّ بالسفیانی»: قرب الإسناد ص 374، بحار الأنوار ج 52 ص 182۔
4۔ الإمام الباقر (علیه السلام): «یبعث السفیانی جیشاً إلی الکوفه وعدتهم سبعون ألفا۔ فیصیبون من أهل الکوفه قتلاً وصلباً وسبیاً...»: الغیبه للنعمانی ص 289، الاختصاص للمفید ص 256، بحار الأنوار ج 52 ص 238، تفسیر العیّاشی ج 1 ص 245، تفسیر نور الثقلین ج 1 ص 486.ص:12۔
5۔ الإمام الصادق (علیه السلام): «یسوق بین یدیه أعنُزاً عِجافا حتّی یصل بها...»: مختصر بصائر الدرجات ص 182، بحار الأنوار ج 53 ص 6.ص:13۔
6۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): «... یصبر حتّی یأذن الله له بالخروج، فیخرج من الیمن من قریه یُقال لهاأکرعه...»: کفایه الأثر ص 150، بحار الأنوار ج 36 ص 335، و ج 52 ص 380۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): «... فیخرج رجل من أهل المدینه هارباً إلی مکّه، فیأتیه ناس من أهل مکّه فیخرجونه...»: سنن أبی داوود ج 2 ص 275، کنز العمّال ج 11 ص 135.
7۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): «... شعره علی منکبیه ونور وجهه یعلو سواد لحیته ورأسه...»: روضه الواعظین ص 226، الإرشاد للمفید ص 382، الغیبه للطوسی ص 470، الخرائج والجرائح ج 2 ص 1152، إعلام الوری ص 294، کشف الغمّه ص 263، بحار الأنوار ج 51 ص 36۔
8۔ رسول الله(صلی الله علیه وآله وسلم): «... علی خدّه الأیمن خال کأنّه کوکب دُرّی»: کشف الغمّه ص 269، العقد النضید ص 29، بحار الأنوار ص 80، غایه المرام ص 114، کشف الخفاء ص 288، مجمع الزوائد ج 7 ص 319، المعجم الکبیر ج 8 ص 102، مسند الشامیین ج 2 ص 410، کنز العمّال ج 14 ص 268، الإصابه ج 6 ص 71، ینابیع المودّه ج 3 ص 200۔
9۔ رسول الله(صلی الله علیه وآله وسلم): «المهدی من عترتی من ولد فاطمه»: سنن أبی داوود ج 2 ص 310، تحفه الأحوذی ج 6 ص 403، عون المعبود ج 11 ص 251، شرح نهج البلاغه لابن أبی الحدید ج 1 ص 281، فیض القدیر ج 6 ص 360۔
خبر کا کوڈ : 802983
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب