0
Wednesday 3 Jul 2019 22:35

کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا

کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا
تحریر: ظہیر عباس جٹ
Zaheerabasjut@gmail.com


حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام:
القاب کریمہ اہلبیت، طاہرہ، حمیدہ برہ ، رشیدہ، تقیہ، نقیہ، رضیہ، مرضیہ، سیدہ، اخت الرضا، معصومہ۔ شفیعہ روز جزا، عالمہ آل عبا، محدثہ آل طٰہٰ۔
والد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
والدہ ماجدہ: حضرت نجمہ خاتون
تاریخ ولادت: یکم ذی القعد173 ہجری میں مدینہ منورہ میں تشریف لائیں۔
وفات: 10 ربیع الثانی 201 ہجری ایران کے شہر قم مقدس میں مدفون ہیں۔
زندگی 28 سال

فضیلت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا:
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت منسوب ہے، یہ روایت امام علیہ السلام نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے اس دنیا میں آنے سے پہلے نقل فرمائی تھی
"جان لو کہ خدا کا ایک حرم ہے وہ مکہ ہے، اور پیغمبر خدا کا ایک حرم ہے وہ مدینہ ہے، اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کا ایک حرم ہے وہ کوفہ ہے، آگاہ ہو جاؤ کہ میرے بعد میرا اور میرے بیٹوں کا حرم قم ہے، جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ان میں تین دروازے قم کی طرف کھلتے ہیں، میرے فرزند حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ایک بیٹی بنام فاطمہ قم میں رحلت کرے گی، اس فاطمہ کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے"(1) امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں، "جس نے بھی قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی اس نے میری زیارت کی"۔ (2) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے اور زیارت نامے میں بھی نقل ہے،"اے فاطمہ، ہماری جنت میں شفا فرمائیے گا"(3)
 
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا ایران کی طرف سفر:
آپ کی کچھ ہی زندگی گزری تھی کہ ہارون رشید نے آپ کے والد بزرگوار امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا اور کچھ عرصے بعد امام علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ فقط امام رضا علیہ السلام جو اس امت کے مظلوم لوگوں کی فریاد رس تھے، جن پر ہارون کی طرف سے ہر روز نئے نئے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ عصمت و طہارت کے گھرانوں میں خواتین اور بچوں کا آسرا امام رضا علیہ السلام تھے جن کو دیکھ کر دلوں کو سکون ملتا تھا لیکن ایک دن ہارون کے بدکردار بیٹے مامون رشید نے اپنے باپ کی موت کے بعد امام علی رضا علیہ السلام کے لئے حکم صادر کردیا کہ آپ کو مدینہ سے شہر خراسان لایا جائے۔ مامون ایک دھوکے باز انسان تھا، اس کی کوشش یہی تھی کہ امام رضا علیہ السلام کو بظاہر ولی عہد بنایا جائے، لیکن پس پردہ ہدف یہ تھا کہ امام علیہ السلام کی جان لے لی جائے اور خاموشی سے امام علیہ السلام کو راستے سے ہٹایا جائے۔ امام علی رضا علیہ السلام کو مجبورا مدینہ چھوڑنا پڑا آپ اپنے چند اصحاب کے ساتھ خراسان میں تشریف لائے، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایک سال اپنے بھائی کی جدائی برداشت کی، جب آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو آپ نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، اپنے بھائی کی خاطر ایران کی طرف سفر شروع کیا۔ (4)

 سادات کی خواتین کی مذہبی بصیرت:
عمومی طور پر امام علیہ السلام کی تمام اولادیں علم فقہ و حدیث کی عالم تھیں۔ خواتین پرہیزگاری اور پاکدامنی میں شہرت رکھتی تھیں۔ جب بھی مدینہ رسول میں علمی گفتگو ہوتی تو ان کی حاضری مسلم ہوتی تھی اور یہ قرآن و حدیث سے استدلال کرتی تھیں، امام عالی مقام موسٰی کاظم علیہ السلام کی ایک زوجہ ام احمد کے نام سے تھیں، جب حضرت علیہ السّلام کو بغداد لے جایا جا رہا تھا۔ حضرت نے کچھ امانتیں ان کو دیں اور فرمایا، میں شاید واپس نہ آ سکوں یہ امانتیں امام علی رضا علیہ السلام کو دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔(5) حضرت کی بیٹیوں نے بھائی کے ساتھ ولایت و امامت کا دفاع کیا اور تبلیغ اسلام کی۔ اس وقت کے امام کا مکمل طور پر ساتھ دیا ان میں سب سے نمایاں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا تھیں۔ اپنے اجداد خصوصاً حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح مدینے کی عورتوں میں تبلیغ کرتی تھیں، ان کو درس قرآن و احادیث کی تعلیم دیتیں ولایت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر استدلال کرنا ان کا شیوہ تھا۔ دین مبین کی تبلیغ اور حکومت کے ظلم کی وجہ سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نےہجرت کی۔

کرامات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا:
 1۔ چوده سالہ لڑکی کو فالج سے شفایابی
یہ واقعہ پیر کی رات تین ذی الحجہ چودہ سو چودہ ہجری میں پیش آیا۔ ایک لڑکی جو کہ چودہ سال کی تھی، اس کا نام رقیہ تھا، وہ آذربایجان غربی سے تعلق رکھتی تھی، 94 دن تک وہ پورے جسم کے فالج میں مبتلا رہی، سب ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا یہاں تک کہ وہ لوگ مایوس ہو گئے تھے۔ اس کو دو تکلیفیں ہوتی تھیں، ایک تو یہ کہ پیروں پر فالج اس طرح تھا کہ بالکل حرکت نہ کر سکتی تھی۔ دوسری یہ کہ سخت کھانسی کا شکار تھی اور کئی کئی گھنٹے کھانستی رہتی تھی تھی۔ اس کے گھر والے اس کو لے کر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے، ایران کے ایک سپیشلٹ ڈاکٹر سے تهران چیک اپ کا طے ہوا، یہ لوگ تبریز سے سیدھا قم آئے تاکہ دوسرے دن ڈاکٹر کے پاس جا سکیں۔ اس لڑکی نے خواب میں دیکھا اور بتایا کہ چند خواتین سفید پوش گھوڑے پر سوار تھیں، اور ہم جہاں تھے وہاں سے ان کی سواری گزر رہی تھی، ان میں سے ایک نے مجھے دیکھا اور فرمایا، اے میری بیٹی میں حضرت معصومہ ہوں، تمہاری شفا اور صحتیابی میرے پاس ہے، ضروری نہیں کہ تم ڈاکٹر کے پاس جاؤ اور رقیہ کہتی ہے کہ میں فورا نیند سے بیدار ہوئی میں نے اپنے گھر والوں کو اپنا خواب سنایا۔ ہم سب کریمہ اہلبیت کے حرم کی طرف روانہ ہوئے۔

مجھے دو عورتوں نے پکڑا ہوا تھا اور ضریح کے نزدیک لائے، میں زیارت پڑھنے میں مصروف تھی  اسی اثناء میں مجھے آواز آئی، یہ آواز وہی آشنا آواز تھی، بی بی مجھ سے فرما رہی تھیں رقیہ کھڑی ہو جاؤ چلو میں نے تم کو شفا دے دی ہے۔ رقیہ کہتی ہے کہ میں زیارت نامہ پڑتی رہی، دوبارہ یہ آواز سنی یہاں تک کہ تیسری مرتبہ یہ آواز سنی، کہ اٹھو چلو میں نے تم کو شفا دی ہے۔ میرے ساتھ جو عورتیں تھیں وہ نماز میں مشغول تھیں میں نے اٹھنے کی کوشش کی، ایک خاتون نے کہا کہ صبر کرو گر جاؤ گی ابھی تمہارے ساتھ والوں کی نماز ختم ہو جائے، تو پھر اٹھنا رقیہ کہتی ہے کہ میں خود اٹھی اور تیزی سے ضریع کی طرف جانے لگی، ضریع سے لپٹ گئی، گریہ و زاری کر رہی تھی بی بی کا شکریہ ادا کر رہی تھی، سب زائرین خواتین جنہوں نے مجھے دیکھا تھا کہ مجھے دو عورتیں تھام کرلا رہی تھیں، اور اب میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوں سب نے مجھے گھیر لیا، مجھے میرے رشتہ دار عورتوں نے بمشکل اس رش سے جدا کیا۔ یہ وہ عظیم منظر تھا کہ جس کو سب عورتوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اورعظمت بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا کا مشاہدہ کیا۔(6)

2۔ آیت اللہ عبداللہ مجد فقہی کی بیٹی کی زندگی لوٹ آئی:
آیت اللہ عبداللہ مجد فقہی جو قرآن و عترت ہاسٹل کے بانی ہیں اس کرامت کو سب کے لئے ایک محفل میں بیان کرتے ہیں کہ جب ہم قم میں نئے نئے ساکن ہوئے تو میری چھوٹی بیٹی بیمار ہوگئی، بہت علاج کرایا لیکن افاقہ نہ ہوا بسترِ مرگ پر آگئی، کفن و دفن کے انتظام کرنے لگے، میں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا تھا کہ وہ آ کر اس کو چیک کر کے بتائے کہ وہ اب زندہ ہے یا فوت ہوچکی ہے راستے میں حرم کریمہ اہل بیت علیہ السلام پر جیسے ہی نظر پڑی، کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا سے عرض کی، اے بی بی دوعالم ہم آئے تھے آپ کی پناہ میں کہ آپ کے نزدیک زندگی گزاریں آپ کیسے راضی ہیں کہ شروع زندگی میں ہم غمگین ہو جائیں اور یہ دکھ لگا لیں یہ دل میں کہتا ہوا ڈاکٹر کے پاس گیا اور ڈاکٹر سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ لیا، گھر کی طرف چل دیا گھر جا کر دیکھا تو بچی کی زندگی دوبارہ لوٹ آئی تھی، اس کے چہرے سے موت کے آثار بالکل ختم ہوگئے تھے، وہی بچی آج ماشاء اللہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کے ساتھ خوش و تندرست و شاداب زندگی گزار رہی ہے۔(7)
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع
1۔ بحار الانوار جلد 60 ص 21639 صفحہ 105
2۔ ناسخ التواریخ جلد 3صفحہ 68
3۔ امالی طوسی 280
4۔ بنت باب الحوائج ج صفحہ 72
5، بنت باب الحوائج ج صفحہ 72
6۔ کریمہ اہلبیت صفحہ 70
7۔ کریمہ اہل بیت 219
خبر کا کوڈ : 803050
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب