0
Thursday 4 Jul 2019 08:24

حج ابراہیمی کا آفاقی پیغام

حج ابراہیمی کا آفاقی پیغام
اداریہ
حج کے ایام قریب آرہے ہیں، بعض ممالک سے حج قافلے اور حجاج کرام کی مقدس سرزمین حجاز کی طرف روانگی شروع ہوگئی ہے۔ کتنا حسین منظر ہوتا ہے، جب دنیا بھر سے ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے اور ہر زبان بولنے والے اپنے تمام امتیازات، تعصبات اور تفاوت کو پس پشت ڈال کر اپنے اپنے لہجوں میں "لبیک اللھم لبیک" کی دلنشین صدائیں بلند کرتے ہیں۔ مکہ و مدینہ اور عرفات و منا میں توحید کے متوالے حج ابراہیمی کے اعمال و مناسک کو انجام دیتے ہیں۔ اسلام کا انسانوں اور مسلمانوں پر احسان عظیم ہے کہ اس نے نماز باجماعت، نماز جمعہ، نماز عیدین اور حج کی صورت میں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب ہونے اور افکار و نظریات کے ساتھ غم و مصائب کے بارے میں تبادلہ خیال کا موقع دیا ہے۔ اسلام کی صورت میں رب کریم کے ان احسانات کا شکریہ ادا کرنا ناممکن ہے اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ مخلوق اپنے خالق کا کس طرح اور کس انداز میں شکریہ ادا کرے کہ مخلوق کے پاس جو کچھ ہے، وہ سب کچھ خالق حقیقی کا عطا کردہ ہے۔

خداوند عالم نے عبادات کے ذریعے مسلمانوں کے لئے انفرادی اور اجتماعی کمال کے مواقع فراہم کئے ہیں، لیکن دین کے حقیقی فلسفے سے دوری نے دین اسلام جیسے اجتماعی دین کو بھی اپنوں کی نادانی اور غیروں کی سازش کی وجہ سے صرف مذہبی رسومات میں تبدیل کر دیا ہے۔ حج جیسا عظیم اجتماع، جو اسلام اور مسلمانوں کی عظیم طاقت کے اظہار اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی بے مثال علامت تھا، اسے چند فزیکل اور جسمانی حرکات و سکنات اور مذہبی علامات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کعبۃ اللہ کے طواف سے لے کر شیطان کو کنکریاں مارنے کا سارا عمل ایک اجتماعی موقف کا اظہار ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ عظیم عبادت ایسے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اور اس کا انتظام و انصرام ایسے خاندان اور ایسی حکومت کے تسلط میں آگیا ہے کہ حج ابراہیمی اپنے حقیقی فلسفے سے کوسوں دور چلا گیا ہے۔ آج حجاج کی سکیورٹی اور سلامتی کے نام پر شیطانی اور طاغوتی طاقتوں سے اظہار بیزاری کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ آج سعودی ریال اور امریکی ڈالر کے اثرات نے ان آوازوں کو خاموش کر دیا ہے، جہاں سے حج کے حقیقی فلسفے اور توحید کے حقیقی مطالب کا پرچار ہونا چاہیئے۔

آج ہر ملک سے لاکھوں اور ہزاروں کی تعداد میں حجاج خطیر رقوم خرچ کر حجاز مقدس پہنچتے ہیں، لیکن ان کو اس عظیم اجتماعی و سیاسی عبادات کا فلسفہ نہیں بتایا جاتا۔ خداوند عالم کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) اور اس وقت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اس بات کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے کہ دنیا کو دین اسلام کی تعلیمات کے حقیقی فلسفے سے آگاہ کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گذشتہ روز ایران کے حج مشن کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ "حج میں معنوی جلووں کے ساتھ ساتھ اسلام کی اجتماعی اور سیاسی حیات کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، جس میں اتحاد و اخوت اور رنگ و نسل سے بالا تر ہوکر یکسانیت کا عنصر سب سے نمایاں ہے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ حج کا سیاسی پہلو اس اہم فریضے کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ آپ نے اس بات پر تاکید فرمائی کہ بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ حج کو سیاسی نہ بنایا جائے جبکہ یہ غلط ہے، کیونکہ حج کے سیاسی پہلو اسلام کے احکام اور تعلیمات سے عبارت ہیں۔
خبر کا کوڈ : 803142
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب