7
Friday 5 Jul 2019 03:13

سوڈان کی فوجی بغاوت میں اسرائیل کا کردار

سوڈان کی فوجی بغاوت میں اسرائیل کا کردار
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
سوڈان میں عوامی احتجاجی تحریک، اس کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی تبدیلی اور اب تک کے تحولات کا جائزہ لیتے وقت جن اہم نکات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، ان میں اس افریقی ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور اس پر اثر انداز غیر ملکی قوتوں کا کردار سرفہرست ہے۔ ان خارجی عوامل میں زایونسٹ لابی یا اسرائیل کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس حوالے سے مستند خبریں ریکارڈ پر آچکی ہیں۔ سوڈان میں بھی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں بالکل اسی انداز سے ریٹائرڈ فوجی جرنیل صدر عمر البشیر کے ماتحت فوجی افسران انتقال اقتدار کے نام پر عبوری مدت کے لئے المجلس العسکری الانتقالی قائم کرکے اقتدار پر قابض ہوچکے ہیں، جیسا کہ مصر میں حسنی مبارک کی معزولی کے وقت ہوا تھا۔ عمر البشیر کو بھی جیل میں قیدی بنا دیا گیا ہے۔
 
اب مذاکرات ہو رہے ہیں کہ جنرل عبدالفتاح البرھان اور ان کی ٹیم انتقال اقتدار کے ادارے میں سویلین کو بھی مناسب نمائندگی دیں۔ کہنے کو سوڈان میں بھی مصر کی طرح انقلاب آیا، لیکن مصر ہی کے انقلابیوں کی طرح سوڈانی انقلابی بھی منت سماجت میں مصروف ہیں۔ افریقی یونین اور ایتھوپیا کی حکومت کے نمائندے سوڈان میں فریقین کے مابین ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ عرب لیگ بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی نظر آرہی ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تو سوڈان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور بعض سیاستدانوں پر بہت مہربان دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ اثر انداز کردار پس پردہ ہے اور وہ ہے جعلی ریاست اسرائیل کا۔ سوڈان میں فلسطین مخالف اور اسرائیل دوست بیانیہ سامنے آرہا ہے اور یہ بیانیہ بھی سعودی ذرائع ابلاغ کے توسط سے سامنے لایا جا رہا ہے۔
 
سوڈان میں ایک مبارک فاضل ال مہدی ہیں، جو حزب الامہ القومی سے ایک الگ دھڑا بناکر سوڈانی سیاست میں فعال ہیں۔ یہ معزول صدر عمر البشیر کے دور صدارت میں ان کی کابینہ کے وزیر تھے اور اب چار جولائی 2019ء کو الشرق الاوسط میں انکا انٹرویو شایع ہوا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سوڈان خلیجی عرب ریاستوں، مصر اور مغربی ممالک سے اچھے تعلقات رکھے اور ایران اور اس کی حامی تنظیموں بشمول حماس کے کسی سے بھی تعلقات نہ رکھے۔ سوڈانیہ 24ٹی وی سنڈے نائٹ انٹرویو میں اگست 2017ء میں جب مبارک فاضل المہدی سرمایہ کاری کے وزیر تھے، تب انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لئے ہیں اور اب یہ ایشو تبدیل ہوچکا ہے۔
 
سال 2017ء ہی میں ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے حکام نے سوڈانی حکام سے ملاقات و مذاکرات کئے تھے۔ سوڈانی حکام میں اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ جنرل عطا بھی شامل تھے، جبکہ جنوری 2019ء کو یہ خبر سامنے آئی کہ سوڈانی صدر عمر البشیر نے کہا کہ انہیں مشورہ دیا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرلو تو اس سے حکومت مخالف احتجاج کے مقابلے میں مستحکم ہونے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ افریقی ملک چاڈ کے صدر جنرل ادریس دیبی نے نومبر 2018ء میں جب اسرائیل کا دورہ کیا تھا تو سوڈان سے متعلق بھی افواہیں تھیں، لیکن اس وقت حکمران نیشنل کانگریس پارٹی کے رہنما عادل سخی عباس نے سختی سے اس کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا مسلمان عرب فلسطین پر اسرائیل قابض ہے، جب وہ فلسطین سے دشمنی ختم کر دے گا، تب سوڈان تعلقات قائم کرسکتا ہے۔
 
اس کے بعد ماہ دسمبر میں مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک شروع ہوئی اور یہ سلسلہ جاری رہا تا وقتیکہ 11 اپریل 2019ء کو صدر عمر البشیر کی حکومت کے اپنے وزیر دفاع جنرل احمد عوض ابن عوف نے اعلان کیا کہ مسلح افواج نے بغاوت کرکے صدر کو معزول کرکے دو سال کے لئے المجلس العسکری الانتقالی یعنی عبوری فوجی کاؤنسل حکومت کرے گی اور اسی کے تحت عام انتخابات ہوں گے۔ یعنی وہی مصر والی کہانی دہرا دی گئی! پھر جنرل ابن عوف بھی ہٹا دیئے گئے اور جنرل عبدالفتاح البرھان آگئے۔ مصر کے جنرل موجودہ صدر ال سیسی کا نام بھی عبدالفتاح ہی ہے  اور اب جنرل یاسر ال عطاء انتقال اقتدار کی عبوری فوجی کاؤنسل کا رکن ہے۔
 
یہ سبھی فوجی وہی ہیں، جنہوں نے جنرل عمر البشیر کی ماتحتی میں کام کیا ہے۔ عبوری فوجی کاؤنسل کا نائب سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو حمیدتی کو بنایا گیا ہے۔ دارفور کے غیر عرب مسلمانوں کو کچلنے کے لئے جنجوید مسلح گروہ کو وجود بخشا گیا تھا اور اس کی سربراہی اس غیر تعلیم یافتہ جنرل محمد حمدان دقلو حمیدتی کو سونپی گئی تھی۔ بعض حلقے اس کو اس وقت سوڈان کا اصل حاکم سمجھتے ہیں جبکہ عہدے کے لحاظ سے وہ نائب حکمران ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سبھی اس پر مہربان دکھائی دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یمن میں جنگ کے لئے اس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو زمینی فوجی دستے بھیجے تھے۔
 
سوڈان کی قومی امت جماعت کے سربراہ صادق المہدی جو ماضی میں وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ انہیں جنرل حمیدتی کے صدارتی امیدوار بننے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے ہم وطنوں سے بھی اپیل کی ہے کہ جنرل حمیدتی اور ان کی جنجوید ملیشیاء (ریپڈ سپورٹ فورس) سے کشیدگی سے اجتناب کریں۔ انہوں نے حمدان دقلو حمیدتی سے کہا ہے کہ اپنی جنجوید ملیشیاء کو سوڈان کی مسلح افواج میں ضم کر دے۔ امریکی اتحاد جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے، اس کی پوری کوشش یہ ہے کہ سوڈان میں اسرائیل سے تعلقات کے حامی برسر اقتدار آجائیں۔
 
بظاہر امریکی اتحاد ایرانی بلاک اور ان فلسطینی گروہوں کے خلاف ماحول بنا رہا ہے، جو ایران کے حامی سمجھے جاتے ہیں، لیکن سوڈان اور اس خطے کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ سوڈان میں عوامی احتجاج کو ہائی جیک کرتے ہوئے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سوڈان میں ترکی اور قطر کے حامی اخوان المسلمین سے خطرہ لاحق تھا۔ سوڈان میں اخوانی منقسم ہیں اور مختلف گروہوں میں تقسیم بھی ہیں، جبکہ بہت سے مصر کی اخوان سے الگ آزاد اخوانی ہیں۔ یہ الگ بات کہ قطر اور ترکی جو کہ علی الترتیب امریکی اور نیٹو اتحادی ہیں، یہ سوڈان پر اثر انداز ہو رہے تھے۔
 
سوڈان کے ساحلی جزیرے سواکن جہاں بندرگاہ بھی ہے، وہاں ترک عثمانی سلطنت کے دور میں بحری اڈہ ہوا کرتا تھا۔ دو سال قبل ترک صدر اردگان اور سوڈانی صدر عمر البشیر اس سواکن کو سویلین اور فوجی مقاصد کے لئے از سرنو ڈیویلپ کرنے پر متفق ہوئے تھے۔ ترکی کے صومالیہ اور قطر میں اڈے موجود ہیں۔ ترک ذرائع ابلاغ میں سوڈان یا سواکن کے حوالے سے ترکی کے خلاف پروپیگنڈا کا ذمے دار سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کو قرار دیا گیا ہے، تو سوڈان میں یہ تبدیلی امریکی بلاک کی جانب سے ایک تیر سے دو تین شکار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یعنی ایک طرف سعودیہ، امارات و مصر سوڈان سے قطر اور ترکی کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں تو دوسری طرف اسرائیل اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہے۔ دونوں کے مفاد کو صدر ٹرمپ کی حکومت اپنا مفاد سمجھتی ہے۔ یہ ہے سوڈان کے موجودہ حالات کا وہ پہلو جس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 803193
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب