0
Friday 5 Jul 2019 08:08

چند جانبہ معاہدے پر یک جانبہ عملدرآمد

چند جانبہ معاہدے پر یک جانبہ عملدرآمد
اداریہ
ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے معاہدے پر جب دستخط ہوئے تھے تو دنیا کے سفارتی حلقوں نے اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بڑا عالمی سفارتی معاہدہ قرار دیا تھا۔ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد رائے عامہ کا سفارتی رویئے اور جنگ و گشیدگی کی بجائے مذاکرات سے مسائل کو حل کرنے کے طریقہ کار پر اعتماد بڑھا تھا۔ یورپی ممالک کو بھی کئی عشروں کے بعد سفارتی میدان میں کارکردگی دکھاںے کا موقع ملا تھا، کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جتنے بھی بڑے عالمی معاہدے ہوئے، ان میں امریکہ نے کریڈٹ لیا تھا۔ ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو یورپی ممالک کی کامیابی قرار دیا گیا۔ لہذا یورپ نے بھی بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک پیچیدہ مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن امریکہ میں صدر ٹرامپ کے وائٹ میں پہنچتے ہی یہ بات سامنے آنا شروع ہوگئی تھی کہ نئے امریکی صدر اس معاہدے کو سپوثاژ کر دیں گے۔ توقع کے عین مطابق ڈونالڈ ٹرامپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کر دیا۔

ایران میں اس پر شدید ردعمل فطری تھا، لیکن یورپی ممالک نے اس معاہدے کو باقی رکھنے پر زور دیا۔ ایران نے بھی چند شرائط کے ساتھ اس معاہدے میں رہنے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن صبر کی کوئی حد ہوتی ہے، آخر کار ایرانی پارلیمنٹ نے الٹی میٹم جاری کیا کہ اگر یورپ نے فلاں فلاں شقوں پر فوری عملدرآمد شروع نہ کیا تو مقررہ تاریخ کے اندر ایران یورینیم کی افزودگی کی شرح، بھاری پانی کے اراک ری ایکٹر اور افزوردہ یورینیم کی ذخیرہ شدہ مقدار کے بارے میں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوگا۔ یورپی ممالک نے نیا مالیاتی نظام"INSTEX" انسٹیکس کو نافذ کرنے کا اعلان کرکے شدت کو کم کرنے کی کوشش، لیکن ایران کی طرف الٹی میٹم کی مدت کے خاتمے کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے، یورپی ممالک کے بیانات میں لچک دکھائی دے رہی ہے، لیکن امریکہ کی طرف سے دبائو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صورتحال یہاں تک آگئی ہے کہ امریکی حکام نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ کے ان اقدامات کو "جنگل کا قانون" اور "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" نہ کہا جائے تو کونسا عنوان دیا جائے۔

امریکہ سفارت کاری کے تمام راستے بند کرنا چاہتا ہے۔ وہ دھونس، دھاندلی، دھوکہ بازی اور جنگ و حملے کی دھمکیاں دے کر ایران کو اپنے اصولی موقف سے ہٹانا چاہتا ہے، لیکن عالمی برادری اس بات کو درک کر رہی ہے کہ امریکہ اور یورپ دونوں سفارتکاری کی بجائے جنگ و جدل اور ٹال مٹول کی سیاست پر کاربند ہیں، اسی لیے ایرانی وزیر خارجہ نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ میرے اوپر پابندی لگانے سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن تاریخ اس بات کو یاد رکھے گی کہ ایران پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ ایسا معاہدہ جو چند جانبہ ہے اور اس پر دوسرا کوئی فریق عمل کرنے نہ کرے، صرف ایران عمل درآمد کرے۔ عالمی سفارتکاری کا اصول یہ ہے کہ چند جانبہ معاہدے پر یک جانبہ عمل نہیں کیا جاتا بلکہ اس معاہدے کے تمام فریق اس پر معاہدے کی شقوں کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 803212
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب