0
Friday 5 Jul 2019 18:00

داستان ظہور(2)

داستان ظہور(2)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

سید محمد کا شہید ہونا:
آج پچیس ذی الحج ہے، امام زمانہ علیه السلام کے ظہور میں پندرہ دن باقی ہیں۔
اے میرے پیارے ہمسفر! کیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ ”کوہ ذی طویٰ“ کے اطراف میں جائیں؟(1) یقینا تم نے دعائے ندبہ میں اس جملہ کو بہت زیادہ پڑھا ہو گا۔

" ابرضوی امام عندھا ام ذی طویٰ"
اب اٹھو کوہ ذی طویٰ چلتے ہیں، جب ہم کعبہ سے مدینہ کی طرف پانچ کلو میٹر چلتے ہیں تو اس پہاڑ کے پاس پہنچتے ہیں۔
دیکھو! امام کے دس اصحاب اس پہاڑ پر جمع ہوئے ہیں۔(2)
شاید کہیں کہ امام کے تو تین سو تیرہ اصحاب ہیں پس یہ دس افراد ہی کیوں؟
یہ افراد امام کے خاص افراد ہیں جو پہلے امام کی خدمت میں پہنچے ہیں۔
لیکن وہ تین سو تیرہ افراد چودہ دنوں کے بعد مکہ آئیں گے۔
امام زمانہ کوہ ذی طویٰ پر کھڑے ہیں اور منتظر ہیں کہ خدا کی طرف سے انہیں ظہور کی اجازت ملے۔(3)
کیا جانتے ہیں کہ جو عبا امام زمانہ علیه السلام علیه السلام کے کندھوں پر ہے، یہ حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی عبا ہی ہے؟
آپ کے سر پر جو عمامہ دیکھ رہے ہیں، یہ وہی حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کا عمامہ ہے۔(4)

سنو!
امام زمانہ اپنے اصحاب سے کہتے ہیں: ایک شخص کو مکہ بھیجنا چاہتا ہوں۔(5)
ایک بہت اہم کام ہے۔
کون امام زمانہ علیه السلام کا نمائندہ بن کر مکہ کے لوگوں کی طرف جائے گا؟
اب امام اپنے ایک چچازاد بھائی کا اس اہم کام کے لئے انتخاب کرتے ہیں۔ ان کا نام ”سید محمد“ ہے امام انہیں حکم دیتے ہیں کہ مکہ کے لوگوں کے پاس جا
اور انہیں میرا پیغام پہنچا۔
کیا اس پیغام کو سننا چاہتے ہیں؟
غور سے سنو! امام کا پیغام یہ ہے۔ ”میں مہربان خاندان اور نسل پیغمبر سے ہوں اور آپ کو خدا کے دین کی نصرت کی دعوت دے رہا ہوں اے مکہ کے لوگوں میری مدد کرو“۔(6)
آپ تو جانتے ہیں کہ امام زمانہ علیه السلام کو مکہ کے لوگوں کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ظہور کا وقت نزدیک ہے جلد ہی خدا کا وعدہ پورا ہو گا اور لاکھوں فرشتے ان کی مدد کو آ جائیں گے۔
پس امام مکہ کے لوگوں سے کیوں مدد مانگ رہے ہیں؟
امام انہیں دعوت دے رہے ہیں تاکہ راہ راست کی ہدایت پا جائیں تو اس صورت میں اس شہر میں کسی کا خون نہ بہے گا۔
جی ہاں! وہ مہربان امام ہیں اور اسی لئے تمام صداقت سے مکہ کے لوگوں کو نصرت کی دعوت دے رہے ہیں۔

دیکھو! سید محمد جانے کے لئے تیار ہیں، وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے کیونکہ انہیں ایک اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔
وہ اپنے امام اور دیگر ساتھیوں سے خدا حافظی کرتے ہیں اور مسجد الحرام کی طرف جاتے ہیں۔
میں تھوڑا سا پریشان ہوں مکہ کے لوگ اس جوان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟
چند گھنٹوں کے بعد بھی سید محمد کی کوئی خبر نہیں آ رہی، میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خدایا سید محمد نے کیوں دیر کر دی ہے؟
کچھ دیر کے بعد ایک شخص نہایت پریشان حالت میں امام کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے وہ آ کر بتاتا ہے کہ سید محمد مسجد الحرام میں داخل ہوئے آپ کا پیغام مکہ کے لوگوں کو پہنچایا لیکن مکہ کے لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں کعبہ کے پاس شہید کر دیا۔(7)
آخر کس جرم میں قتل کیا؟
کیا یہ شہر امن، حرم الٰہی نہیں ہے؟ کیا یہاں پر حیوانات تک کو بھی امن حاصل نہیں ہے؟
امام کے نمائندہ نے لوگوں سے ایسا کیا کہہ دیا ہے کہ اس کو مظلومانہ انداز میں قتل کر دیا ہے؟
یہ وہی شہید ہیں کہ جنہیں احادیث میں (نفس زکیہ) کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یقینا اس کا معنی جاننا چاہتے ہیں؟
نفس زکیہ یعنی بےگناہ اور پاک شخص جو مظلومانہ قتل کیا جائے۔(8)

(جاری ہے)
________________________________________
منابع:

1۔ الإمام الباقر (علیه السلام): «یکون لصاحب هذا الأمر غیبه فی بعض هذه الشعاب . ثمّ أومأ بیده إلی ناحیه ذی طوی»: الغیبه للنعمانی ص 187، بحار الأنوار ج 52 ص 341، تفسیر العیّاشی ج 2 ص 56، غایه المرام ج 4 ص 210۔
2۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "أشیروا إلی ذوی أسنانکم وأخیارکم عشره... فینطلق بهم حتّی یأتون صاحبهم ویعدهم إلی اللیله التی تلیها": بحار الأنوار ج 52 ص 340، تفسیر العیّاشی ج 2 ص 56۔ص:17
3- الإمام الصادق (علیه السلام): «کأنّی بالقائم علی ذی طوی قائماً علی رجلیه حافیاً یرتقب بسنه موسی...": بحار الأنوار ج 52 ص 375۔
4- الإمام الصادق (علیه السلام): "فکأنّی أنظر إلیه وقد دخل مکّه وعلیه بُرده رسول الله وعلی رأسه عمامه صفراء": مختصر بصائر الدرجات ص 182، بحار الأنوار ج 53 ص 6۔
5- الإمام الباقر (علیه السلام): "إنّه یقول القائم لأصحابه: یا قوم ، إنّ أهل مکّه لا یریدونی...": بحار الأنوار ج 52 ص 307.ص:18
6- الإمام الباقر (علیه السلام): "... فیدعو رجلاً من أصحابه فیقول له: امضِ إلی أهل مکّه فقل: یا أهل مکّه ، أنا رسول فلان إلیکم ، وهو یقول لکم: إنّا أهل بیت الرحمه ومعدن الرساله والخلافه، ونحن ذرّیه محمّد وسلاله النبیّین، و أنّا قد ظُلمنا واضطُهدنا و قُهرنا وابتُزّ منّا حقّنا منذ قُبض نبیّنا إلی یومنا هذا ، فنحن نستنصرکم فانصرونا...»: بحار الأنوار ج 52 ص 307.ص:19
7- الإمام الباقر(علیه السلام): "فإذا تکلّم هذا الفتی بهذا الکلام أتوا إلیه فذبحوه بین الرکن والمقام": بحار الأنوار ج 52 ص 307.ص:20
8- الإمام الصادق (علیه السلام): "قبل قیام القائم خمس علامات محتومات، الیمانی والسفیانی وقتل النفس الزکیه والخسف بالبیداء": کمال الدین ص 65، بحار الأنوار ج 52 ص 204.ص:21۔
خبر کا کوڈ : 803258
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب