0
Sunday 7 Jul 2019 06:35

داستان ظہور(3، 4)

داستان ظہور(3، 4)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

بیت المعمور آباد گھر کہاں ہے؟
یہ مکہ ہے شب نہم محرم،
عالم تشیع حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کی شہادت کا غم منا رہا ہے۔ طے پایا ہے کہ خدا کی طرف سے اجازہ ظہور دیا جائے، لیکن اس کام کو خاص اہتمام سے انجام دیا جائے گا۔
ظہور کی اجازت کے بعد سیاہی و تاریکی کی حکومت کا خاتمہ ہو گا اور روشنائی کا سورج طلوع ہو گا۔
آج کی رات انتظار کی گھڑیاں ختم ہوتی ہیں خدا کا حکم صادر ہوتا ہے اگرچہ ہم ابھی تک مکہ میں خانہ خدا کے پاس ہیں، لیکن آج رات چوتھے آسمان کی طرف سفر بھی کرنا ہے۔
ارے چوتھے آسمان پر کیا ہو رہا ہے؟ صبر کرو ابھی بتاتا ہوں۔
ہمیں ”بیت المعمور“ کے پاس بھی جانا ہے۔
یقینا کہیں گے کہ بیت المعمور کہاں ہے؟
جس طرح ہم کعبہ کو خدا کا گھر سمجھتے ہیں اس کا طواف کرتے ہیں۔ خدا نے اس کعبہ کے اوپر چوتھے آسمان پر بھی ایک گھر بنایا ہے جہاں فرشتے طواف کرتے ہیں۔ (1)

”بیت المعمور" یعنی "آباد گھر" امام زمانہ علیه السلام کے ظہور کی اجازت اسی گھر سے صادر ہو گی اور تمام دنیا آباد ہو جائے گی، اسی لئے دنیا کی آبادی "آباد گھر" (بیت المعمور) سے شروع ہو گی۔
بس آج کی رات میرے ساتھ چوتھے آسمان پر بھی جانا ہو گا۔
یقینا جانتے ہیں کہ خدا نے قرآن کریم میں سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے۔ ہم ابھی چوتھے آسمان پر جانا چاہتے ہیں۔
اچھا دیکھو! کیا دیکھ رہے ہو؟ تمام انبیاء یہاں جمع ہیں، یہاں پر آپ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت عیسٰی علیہ السلام، حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ سکتے ہیں۔
یہاں پر کچھ مومنین بھی ہیں۔
تمام انتظار کر رہے ہیں سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
ادھر دیکھو، کیا دیکھتے ہیں۔
فرشتے چند نورانی منبروں کو ” بیت المعمور“ کی طرف لا رہے ہیں۔ (2)
اچھی طرح دیکھو کتنے نورانی منبر ہیں ان منبروں کی تعداد کتنی ہے؟
درست ہے چار نورانی منبر ہیں!

حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم، حضرت امام علی علیہ السلام، حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام کو دیکھو کس انداز سے ان منبروں پر بیٹھے ہیں۔
مومنین، فرشتوں اور انبیاء میں کتنا شوق و اشتیاق ہے۔
اسی دوران آسمان کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔ (3)
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم دعا کرنا چاہتے ہیں، اپنے خدا کے ساتھ راز و نیاز کرتے ہیں۔ تمام فرشتے، انبیاءان کے ساتھ ہمنوا ہو جاتے ہیں۔
غور سے سنو آپ بھی حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کی بات سن سکتے ہیں۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم اس طرح فرماتے ہیں: خدایا تونے اپنے نیک بندوں کو زمین پر حکومت کا وعدہ کیا ہے، اس وعدہ کو پورا کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ (4)
تمام فرشتے، انبیاء بھی اس بات کو زمزمہ کرتے ہیں۔
دیکھو حضرت پیغمبر اکرم، امام علی، امام حسن و امام حسین علیہم السلام منبروں پر ہی سجدہ میں چلے گئے ہیں۔ وہ سجدہ میں یوں کہتے ہیں: "خداوندا! ظالموں پر سختی فرما کیونکہ انہوں نے تیری حدود کو توڑا ہے، تیرے دوستوں کو قتل اور اچھے لوگوں کو ذلیل کیا ہے"۔(5)
اے میرے پیارے ہمسفر! آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان باتوں سے کیا مراد ہے۔ جب خانہ وحی خدا کو آگ لگائی گئی دختر رسول کو شہید کیا گیا اس دن خدا کی حرمت ٹوٹ گئی۔

جس دن امام حسین پیاسے شہید کئے گئے، اہل ایمان کی ذلت شروع ہو گئی۔ جی ہاں حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم ا چھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح خدا سے اذن ظہور لینا ہے۔ یہ جان کر آپ کو عجیب لگے گا کہ آنحضرت کے منبر پر آنے سے قبل خداوند عالم ایک فرشتہ کو آسمان سے دنیا پر بھیجتا ہے۔(6)
میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ اس کام کی علت کو سمجھوں۔
جی ہاں! حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم اس وقت تک منبر سے نیچے نہیں آتے، جب تک امام زمانہ علیه السلام کو اذن ظہور نہ ملے۔
اور خداوند عالم نے بھی اپنے حبیب کی خوشی کے لئے فرشتہ کو پہلے آسمان دنیا پر بھیجا تاکہ جونہی حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کی دعا تمام ہو یہ فرشتہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے، امام زمانہ علیه السلام کو ظہور کا حکم نامہ دے سکے۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم نے اس سجدہ میں اس طرح خدا سے بات کی اور اپنے دل سے غم کو نکالا کہ جس کے بعد ظہور میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔


تین سو تیرہ افراد کا آنا
اگر غور کریں تو دیکھیں گے کہ مکہ کے لوگ کسی اہم مسئلہ کے بارے میں آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔
کیا آپ بھی چاہتے ہیں ان کی باتوں سے آگاہی حاصل کریں؟
کل رات تین سو تیرہ افراد مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور صبح تک مشغول عبادت رہے۔(7)
وہ مسجد الحرام میں جمع ہوئے اور تمام نگاہوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیاہے۔ (8)
مکہ کے لوگ تعجب کرتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کیسے اپنے آپ کو مکہ پہنچایا ہے کیونکہ شہر مکہ کا سفیانی کی فوج نے محاصرہ کر رکھا ہے۔ (9)
عجیب ہے کہ ان تمام جوانوں کا لباس بھی ایک جیسا ہے۔
سب کی قدوقامت بھی ایک جیسی ہے، جیسے کوئی فوجی دستہ ہو ہر لحاظ سے منظم، جو کوئی بھی ان کو دیکھتا ہے مبہوت ہو جاتا ہے۔ (10)
ان جوانوں کا مکہ میں آنا ایک راز ہے جو کوئی نہیں جانتا۔
یہ جوان دنیا کے مختلف حصوں سے ایک لمحہ میں مکہ پہنچ جاتے ہیں۔
وہ، حکم خدا سے ” طی الارض“ کے ذریعہ مکہ آئے ہیں۔
شاید پوچھیں کہ طی الارض کیا ہے؟
اگر ایک لمحہ میں بغیر کوئی وسیلہ نقلیہ استعمال کرتے ہوئے ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کرے، تو اس کو "طی الارض" کہا جاتا ہے۔
جی ہاں! اصحاب امام زمان حیرت انگیز معجزات رونما کرتے ہوئے مکہ آئے ہیں۔
جی ہاں امام زمانہ علیه السلام کا ظہور ان تین سو تیرہ افراد سے وابستہ ہے ، خدا کا ارادہ یہ تھا کہ وہ ایک لمحہ میں مکہ میں جمع ہو جائیں۔ (11)

جو کوئی بھی خدا کے اسم اعظم کو جانتا ہو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ امام زمان خدا کو اس اسم اعظم کی قسم دیتے ہیں ،تین سو تیرہ اصحاب پلک جھپکتے ہی مکہ میں جمع ہو جاتے ہیں۔ (12)
اب آپ اس راز سے آگاہ ہو گئے ہیں لیکن مکہ کے لوگوں کا تعجب باقی ہے۔ وہ مسجد الحرام میں جمع ہو کر ان کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں کہ کیسے یہ جوان مکہ میں داخل ہوئے ہیں؟
اس طرف دیکھو! وہ شخص عمائدین مکہ کی طرف جا رہا ہے وہ کون ہے؟ اور کیوں لوگوں کو چیرتا ہوا جا رہا ہے؟
وہ براہِ راست گورنر مکہ کے پاس جاتا ہے سلام کرتا ہے اور کہتا ہے:
کل رات عجیب و غریب خواب دیکھا ہے اس لئے بہت ڈرا ہوا ہے۔ (13)
گورنر مکہ اس کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے: ”اپنا خواب مجھے بتاﺅ۔
وہ شخص اس طرح کہتا ہے: خواب میں دیکھا کہ آسمان پر بادل ظاہر ہوا اور آہستہ آہستہ زمین کی طرف آ رہا ہے یہاں تک کہ کعبہ میں پہنچ جاتا ہے
ان بادلوں کو میں نے دیکھا ہے جن کے سبز پر ہیں کافی دیر تک کعبہ کا طواف کرتے ہیں پھر شرق و غرب عالم کو پرواز کر جاتے ہیں۔ (14)

جو کوئی بھی اس بات کو سنتا ہے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔
کیا اس خواب اور ان تین سو تیرہ افراد کے گروہ میں کوئی ربط ہے؟
شہر مکہ میں ایک شخص ہے کہ جو خواب کی تعبیر بتاتا ہے اس سے پوچھتے ہیں کہ اس خواب کی تعبیر بتاﺅ۔
وہ تھوڑی دیر سوچتا ہے پھر کہتا ہے: خدا کے لشکروں میں سے ایک لشکر اس شہر میں داخل ہو گیا ہے اور آپ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ (15)
مکہ کے تمام لوگ سوچ میں گم ہو جاتے ہیں جی ہاں، یہ لشکر وہی جوان ہیں کہ جو کل رات مکہ میں داخل ہوا ہے۔
فطری ہے کہ مکہ کے لوگوں کو ان جوانوں پر غصہ آئے؛ کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ اہل بیت علہیم السلام اور ان کے پیروکاروں کو تمام دنیا پر عزت دیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مکہ کے لوگ پہلا فیصلہ کیا کریں گے؟
آپ نے صحیح گمان کیا وہ چاہیں گے کہ ان تین سو تیرہ افراد کو گرفتار کریں لیکن خدا ان کے دلوں پر خوف مسلط کر دے گا۔
مجھے ان لوگوں کی سادہ لوحی پر ہنسی آتی ہے کہ اب بھی شیعہ دشمنی کی سوچ رکھتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ اب شیعہ کی مظلومیت کا دور ختم ہو گیا ہے۔
بزرگان مکہ میں سے ایک شخص ان کے اضطراب کو دیکھتے ہوئے کہتا ہے جن جوانوں کو میں نے دیکھا ہے ان کے چہرے نورانی اور اہل عبادت ہیں انہوں نے ابھی تک کوئی غلط کام ہی نہیں کیا تو کیوں ڈر رہے ہیں؟ (10)
مکہ کے لوگ غروب آفتاب تک ان جوانوں کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس قدر ڈرتے ہیں کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ رات ہو جاتی ہے لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ (11)
(جاری ہے)
________________________________________
منابع:

1۔ الإمام الصادق (علیه السلام): «... لأنّها بحذاء بیت المعمور ، وهو مربّع»: علل الشرائع ج 2 ص 398، کتاب من لا یحضره الفقیه ج 2 ص 191، بحار الأنوار ج 55 ص 5. الإمام السجّاد(علیه السلام): "... وجعل لهم البیت المعمور الذی فی السماء الرابعه": علل الشرائع ج 2 ص 407.
2۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... نصب لمحمّد و علی والحسن والحسین (علیهم السلام) منابر من نور عند البیت المعمور...»: الغیبه للنعمانی ص 284، بحار الأنوار ج 52 ص 297.
3۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... فیصعدون علیها ویجمع لهم الملائکه والنبیّین والمؤمنین ، و یفتح أبواب السماء...": بحار الأنوار ج 52 ص 297۔
4۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... یا ربّ، میعادک الذی وعدت فی کتابک...": الغیبه للنعمانی ص 284۔
5۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... ثمّ یخرّ محمّد و علیّ والحسن والحسن سجداً، ثمّ یقولون: یا ربّ اغضب، فإنّه هتک حریمک...": بحار الأنوار ج 52 ص ۔297
6۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "إذا کان لیله الجمعه أهبط الربّ تبارک وتعالی ملکاً إلی السماء الدنیا...": الغیبه للنعمانی ص 284۔

7۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "بینا شباب الشیعه علی ظهور سطوحهم نیام ، إذا توافوا إلی صباحهم لیلهواحده...": الغیبه للنعمانی ص 330، بحار الأنوار ج 52 ص 370۔
8۔  الإمام الصادق(علیه السلام): "فهؤلاء ثلاثمئه و ثلاثه عشر رجلاً بعدد أهل البدر ، یجمعهم الله بمکّه فی لیله واحده وهی لیله الجمعه...": الملاحم والفتن ص 379.
9۔  أمیر المؤمنین (علیه السلام): إنّ أصحاب القائم شباب لا کهول فیهم ، إلاّ کالکحل فی العین...": الغیبه للنعمانی ص 330۔
11۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): "کأنّی أنظر إلیهم والزیّ واحد والقدّ واحد والجمال واحد واللباسواحد...»: الملاحم والفتن ص 294.
12۔ الإمام الصادق(علیه السلام): "أما لو کملت العدّه الموصوفه ثلاثمئه وبضعه عشر ، کان الذی تریدون": الغیبه للنعمانی ص 211، بحار الأنوار ج 65 ص 165.
13۔ الإمام الصادق(علیه السلام): «إذا أذن دعا الله باسمه العبرانی فاتیحت له صحابته الثلاثمئه والثلاثه عشر...»: الغیبه للنعمانی ص 326، بحار الأنوار ج 52 ص 368.
14۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... إذ یقبل رجل من بنی مخزوم یتخطّی رقاب الناس حتّی تأتی رئیسهم فیقول: لقد رأیت فی لیلتی هذه رؤیا عجیبه": الملاحم والفتن ص 379.
15۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... رأیت کوره نار انقضت من عنان السماء، فلم تزل تهوی حتّی انحطّت إلی الکعبه، فدارت فیها فأطافت بالکعبه ما شاء الله، ثمّ تطایرت شرقاً وغرباً...": نفس المصدر ص 379۔
16۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... لقد رأیت عجباً وقد طرقکم فی لیلتکم جند من جنود الله لا قوّه لکم بهم": نفس المصدر ص 379۔
10۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "لا تعجلوا علی القوم إنّهم لم یأتوکم بعد بمنکر ولا ظهروا خلافاً، ولعلّ الرجل منهم یکون فی القبیله من قبائلکم ، فإن بدا لکم منهم شرّ فأنتم وهم، وأمّا القوم...سیماهم حسنه": نفس المصدر ص 379۔
11۔ الإمام الصادق(علیه السلام): "یضرب الله آذانهم وعیونهم بالنوم ، فلا یجمعوا بعد غداتهم إلی أن یقوم القائم(علیه السلام)": نفس المصدر ص 379۔
خبر کا کوڈ : 803260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب