0
Sunday 7 Jul 2019 08:12

امریکی درخواست ایک تاریخی مذاق

امریکی درخواست ایک تاریخی مذاق
اداریہ
امریکہ نے 8 مئی 2018ء کے دن ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے تاریخی ایٹمی معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ڈونالڈ ٹرامپ نے ایران کے خلاف جاری اقدامات میں مزید تیزی پیدا کر دی۔ امریکی صدر اور ان کی کابینہ آج کل ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دبائو" کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اس دبائو کو بڑھانے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک کے انجام دیئے گئے منصوبوں اور حربوں کو بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے امریکی صدر پر بوکھلاہٹ طاری ہے، وہ آئے روز ایک نیا بیان اور جدید دھمکی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں سیروسیاحت کے لیے نیو جرسی جانے سے پہلے ایک بیان میں ایران کو پھونک پھونک کر چلنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ دوسری طرف آئی اے ای اے یعنی ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے میں امریکی نمائندے نے مضحکہ خیز مطالبہ کرکے عالمی اداروں کو ایک دلچسپ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، امریکی نمائندے نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے سے بورڈ آف گورنرز کے فوری اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔

اس ایٹمی ادارے کے دیگر اراکین جن میں روس بھی شامل ہے، وہ اس مطالبے کو انہونی اور اچھنبے کی بات قرار دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا ہنگامی اجلاس اس وقت بلایا جاتا ہے، جب کسی فریق کی جانب سے کھلی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا جا رہا ہو۔ امریکہ نے ایک ایسی حالت میں ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس طلب کیا ہے کہ اس ادارے نے اپنی پندرہ مسلسل رپورٹوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل محفوظ قرار دیا ہے۔ امریکی مطالبے کو اس لیے بھی مضحکہ خیز قرار دیا جا رہا ہے کہ لیگ آف نیشن، اقوام متحدہ، سکیورٹی کونسل سے لیکر آئی اے ای اے جیسے عالمی اداروں کے ہنگامی اجلاس اس وقت بلائے جاتے ہیں، جب کوئی خلاف ورزی یا منظور شدہ معاہدے یا قانون کی کسی شق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔ ایران آئی اے ای اے اور سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 پر مکمل عملدرآمد کر رہا ہے۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی مخالفت کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کی ہے، اسی طرح امریکہ وہ ملک ہے جو آئی اے ای اے کی پندرہ رپورٹوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھ رہا۔ اگر آج کسی کے خلاف اقوام متحدہ، سکیورٹی کونسل یا آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے تو وہ امریکہ ہے، جس نے ان اداروں کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکہ ان اداروں کے فیصلوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے من مانی کر رہا ہے، اس کے باوجود بڑی ڈھٹائی سے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بلانے کی درخواست کر رہا ہے۔ امریکہ کی اس بوکھلاہٹ اور ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں آئی اے ای اے کے بورڑ آف گورنرز کا اجلاس بلانے کی امریکی درخواست کو ویانا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں قائم ایران کے نمائندہ دفتر نے تاریخ کا تلخ ترین مذاق قرار دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 803616
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب