0
Sunday 7 Jul 2019 11:32

آڈیو ویڈیو کا کھیل نئی ہنگامہ آرائی کی بنیاد

آڈیو ویڈیو کا کھیل نئی ہنگامہ آرائی کی بنیاد
تحریر: طاہر یاسین طاہر

بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

غالب نے صدیوں پہلے آج کے پاکستان میں شاید جھانک لیا تھا۔ پہلی نظر میں غالب کا یہ شعر بالکل سادہ اور عام فہم ہے، مگر غالب کی خصوصیت اور انفرادیت یہی ہے کہ ان کا ہر شعر اپنے اندر معانی کا اک جہان رکھتا ہے۔ یہی خاصیت اس شعر میں بھی ہے اور اسی سے کالم کی بنیادیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ شعر کے مفہوم، روانی اور تہہ دار معانی، انسانی مزاج اور اس کی اشتعال انگیزیوں کو بھی سموئے ہوئے ہیں۔ دوسروں پر غالب آنے کی انسانی جبلت کو بھی حضرتِ غالب نے اپنے اس شعر کے پیچ دار معانی میں موضوعِ سخن بنایا ہے۔ جملہ تکلیف دہ ہے، مگر کوئی صاحبِ دانش بنائے تو سہی کہ کیا حقائق اس کے برعکس ہیں یا اس جملے کے عین مطابق؟ "ہم ابھی تک قوم نہیں بنے بلکہ ایک منتشر، گروہی و لسانی اور مسلکی و صوبائی تعصبات رکھنے والے گروہوں میں سے کسی ایک گروہ کا حصہ ہیں۔" اگر ہم ایک قوم ہوتے تو ہمارے اہداف مشترک ہوتے۔ جدید قومی اور علاقائی ریاستوں میں امریکہ، برطانیہ، چین اور ایران قومی یکجہتی کی بہترین مثالیں ہیں۔ ترقی یافتہ ریاستیوں میں چند مثالیں مزید بھی ممکن ہیں۔

اصل میں سیاست اور عوامی مفادات کے نام پر ہمارے ہاں خاندانی"جمہوریتوں" کو بچانے کی تگ و تاز ہے، جس میں عام آدمی "سیاسی ہاری" کا کردار ادا کرتا ہے۔ میں نے کئی صحافیوں اور صاحبانِ علم و ہنر کو تعصب کی عینک سے حاشیہ آرائی کرتے ہوئے دیکھا۔ جس سماج کے صاحبانِ علم و ہنر، ادیب اور قلم کار اپنے قلم کا وزن کسی متعصب گروہ کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں، وہ سماج ترقی کے بجائے انتشار کا شکار ہوتے ہوتے خانہ جنگی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تاریخی حقیقت یہی ہے۔ آج ہم بھی اسی تاریخی حقیقت کی زد میں آنے والے ہیں۔ اگر ہم لکھنے والے کسی تعصب کے بغیر سماج کی رہنمائی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ سماج میں بڑھتے ہوئے ہیجان میں کمی آجائے۔ لیکن سہل پسند سماج کے افراد تحقیق و جستجو کے بجائے سنسنی خیز خبروں اور تجزیوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کے دماغ درست بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

ہمیں تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ ہمارے ہاں جسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے، یہ دراصل طاقتور خاندانوں کے اقتدار میں آنے کی کشمکش ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون سمیت مذہبی جماعتوں جیسے مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام، کیا یہ سب خاندانی اقتدار کی جدوجہد کے لیے عام آدمی اور مذہبی رحجانات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرتیں؟ سوائے جماعت اسلامی کے، کسی ایک پارٹی کے اپنے اندر ہی جمہوری مزاج نہیں۔ اگرچہ مجھے جماعت اسلامی کے طرز سیاست سے اختلاف ہے، مگر ان کا پارٹی کے اندر جمہوری رویہ قابل تحسین ہے۔ کیا موجودہ حکومت یعنی پی ٹی آئی ایک مکمل جمہوری پارٹی ہے؟ نہیں، بلکہ ایک شخص کے گرد گھومتی پارٹی کے اندر کئی دھڑے ہیں، جو پارٹی پر مستقبل میں قابض ہونے کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایسے سماج میں جہاں طاقتور طبقات اپنے اپنے مفادات کے لیے "سیاسی ہاریوں" کو نت نئے خواب دکھاتے ہوں، وہاں امیدیں ٹوٹتی ہیں اور خواب بکھرتے ہیں۔ ہیجان بڑھتا ہے تو خاندانی بادشاہتوں کے جنگجو، کوئی نہ کوئی سنسنی خیز چٹکلا چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک سابق وزیر داخلہ اپنی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی پریس کانفرنس کرنے کے دوران میں کہا کرتے تھے کہ "فلاں بات بتانے کا ابھی وقت نہیں آیا۔" یہی بازیچہ اطفال ہے اور یہی شب و روز کا تماشا ہے، جو ہم سے پہلے والے بھی دیکھتے رہے اور آج ہم بھی دیکھ رہے ہیں۔ مریم نواز نے پریس کانفرنس کی اور ناصر بٹ نامی ایک مسلم لیگی کارکن جسے میاں نواز شریف کا چاہنے ولا کہا گیا ہے، کے حوالے سے ایک آڈیو، ویڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا کہ نواز شریف کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ناصر بٹ کو مبینہ طور پر اپنے گھر میں بلایا اور کہا کہ مجھ سے فیصلہ زبردستی لکھوایا گیا، مجھے کسی خفیہ جگہ بلوا کر میری غیر اخلاقی ویڈیو مجھے دکھائی گئی، اس کے بعد میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا نہ دیتا۔ مریم نواز نے دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی شرارت کی گئی تو ان کے پاس مزید ویڈیوز اور آڈیوز موجود ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ہم چیئرمین نیب کے حوالے سے بھی آڈیو ویڈیو کھیل دیکھ چکے ہیں۔

میرا سوال بڑا سادہ ہے کہ ناصر بٹ جس پر کہ قتل و اقدام قتل کے کئی مقدمات ہیں اور جو قتل کے پرچوں میں ملزم نامزد ہونے کے بعد ملک سے فرار ہوگیا تھا، اس کا احتساب عدالت کے جج سے اتنا قریبی تعلق کیسے ہوسکتا ہے؟ اور کیا جج صاحب اس قدر عقل سے عاری ہیں کہ وہ اتنے بڑے کیس کا فیصلہ دینے کے بعد ایک ثقہ بند بلیک میلر اور قاتل کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے رہے ہیں؟ مزید یہ کہ ایک کریمنل ریکارڈ کا حامل شخص میاں نواز شریف اور مریم نواز کے اس قدر قریب کیسے ہوا؟ کیا اسے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لیے نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کی حمایت و تائید حاصل رہی؟ مزید کئی سوالات ہیں، لیکن ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس آڈیو ٹیپ کی فرانزک کرائی جائے۔ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں جن قوتوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے احتساب عدالت کے جج کو بلیک میل کیا اور دبائو ڈالا، اگر ان قوتوں کی جانب سے کوئی جوابی ویڈیو لیک کر دی جاتی ہے تو نون لیگ کیا کرے گی؟ ہمارے عدالتی نظام میں بے شمار خرابیاں ہیں، ہمیں یاد ہے کہ کسی نے جسٹس ملک قیوم پر بھی دبائو دالا تھا۔ مکافات عمل شاید اسی چیز کا نام ہو۔ بس دیکھتے جایئے کہ اب اگلی ویڈیو کس کی آتی ہے اور کس کے ساتھ آتی ہے۔ بس غالب ہی یاد آتے ہیں کہ
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل ِ کرم دیکھتے ہیں
خبر کا کوڈ : 803691
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب