0
Sunday 7 Jul 2019 23:33
عدالتیں خود بے نقاب ہو رہی ہیں

بلاول بھٹو کے دورہ ڈی آئی خان کا مکمل احوال

ضیاء و مشرف دور میں پولنگ اسٹیشنز میں فوجی نہیں تھا تو اب کیوں۔؟
بلاول بھٹو کے دورہ ڈی آئی خان کا مکمل احوال
رپورٹ: عمران خان

شہداء کے خانوادوں سے اظہار تعزیت کئے بنا بلاول واپس لوٹ گئے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ مکمل کرکے اسلام آباد واپس جا چکے ہیں۔ کارکنوں سے مختصر الوداعی خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مصروفیات کی زیادتی اور وقت کی کمی کے باعث وہ ان کے درمیان زیادہ وقت نہیں گزار سکتے جبکہ کارکنوں کا اصرار تھا کہ شہید بی بی کا فرزند ان کے ساتھ کچھ وقت گزارے۔ لحظہ بھر کیلئے اپنے شہید نانا اور اپنی شہید والدہ کی مانند بھاری سکیورٹی، آرائش و آسائش سے باہر نکل آئے۔ ان کے درد کا درمان نہ سہی مگر ان کا درد تو سنے، تاہم جیالے کارکنوں کی یہ امید بر نہ آئی۔ دورہ ڈی آئی خان کے دوران بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے حقیقی کارکنوں اور جیالوں کو نہ ہی وقت پائے، نہ ہی اپنے شہید کارکنوں کے اہل و عیال سے اظہار تعزیت کر پائے، حالانکہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے تقریباً تین عشروں کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کا رخ کیا تھا۔ اس سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو اسی کی دھائی میں ڈی آئی خان آئی تھیں۔ اس وقت عوامی سیاست کا دور دورہ تھا۔ ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے جو جیالے محترمہ کے ساتھ ساتھ موجود رہے بعد ازاں ان میں سے متعدد افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنکر شہید ہوئے۔ ان شہید جیالوں کی اولاد بلاول کے استقبال کیلئے بھی موجود رہی اور جلسہ گاہ میں زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے نعرے بھی لگاتی رہی، تاہم وارث شہداء کے دعویدار بلاول بھٹو اپنے شہید کارکنوں کے خانوادوں سے اظہار تعزیت کیلئے وقت نہیں نکال پائے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو کے دورہ ڈی آئی خان کے فوری بعد پیپلز یوتھ کے ضلعی صدر نے استعفیٰ دیکر پارٹی سے اپنی راہیں جدا کرلیں۔  

پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت کا بھرم رہ گیا
کنڈی ماڈل فارم پہ ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد چیئرمین پی پی پی نے انتہائی مصروف وقت گزارا۔ صوبائی و ضلعی قیادت سے ملاقاتیں کرنے کے بعد جلسہ گاہ میں آئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان دورے کے دوران سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق چیئرمین سینٹ نیئر بخاری، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ، سینیٹر بہرمند ان کے ہمراہ موجود تھے۔ حقنواز پارک میں جلسے کا انتظام کیا گیا تھا۔ شہر میں ایک ہفتہ قبل ہی استقبالیہ نعروں اور خوش آمدید پہ مبنی بینرز پی پی پی کے ضلعی رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے آویزاں کئے گئے تھے۔ مقامی قیادت کے دعوے کے مطابق جلسہ گاہ میں پانچ ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ مقامی قیادت گرچہ جلسہ کو انتہائی کامیاب قرار دینے پہ مصر رہی تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے بزرگ کارکنوں نے اس جلسے کو اوسط درجے کا جلسہ قرار دیا اور وہ اس میں حق بجانب بھی تھے کیونکہ پی پی پی قیادت کئی عشروں بعد ڈی آئی خان آئی تھی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی کا ایسا گڑھ سمجھا جاتا ہے کہ جہاں تمام تر حربوں کے استعمال کے باوجود پی پی کے ووٹر کو توڑا نہیں جا سکا۔ دوسری جانب دہشت گردی، فرقہ واریت، لاقانونیت اور ٹارگٹ کلنگ کے ایک تاریک دور سے گزرنے کے باعث یہاں کے مظلوم عوام کی ہمدردیاں مظلوم سمجھی جانے والی پی پی پی کیلئے کچھ زیادہ ہیں چنانچہ جس وقت بلاول کی ڈی آئی خان آمد کا اعلان کیا گیا تو توقع کی جا رہی تھی کہ شہید بی بی کے فرزند کی ایک جھلک دیکھنے کو شہر کا شہر امڈ آئے گا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جلسہ گاہ میں جیالوں اور کارکنوں کی اتنی تعداد ضرور موجود تھی کہ مقامی قیادت کا بھرم باقی رہ گیا۔ اب مولانا فضل الرحمن اپنے اس دعوے میں حق بجانب ہیں کہ ڈی آئی خان کی تاریخ میں ان سے بڑا عوامی جلسہ کوئی نہیں کر پایا۔ 

سکیورٹی 
چیئرمین پی پی پی کے دورہ ڈی آئی خان کے دوران 5 ڈی ایس پیز افتخار خان، سعید خان، افسر خان، اسماعیل خان اور ظہور خان سمیت 33 انسپکٹر 21 سب انسپیکٹر، 34 اے ایس آئی، 112 حوالدار جبکہ 855 کانسٹیبلان سمیت کل 1036 کی نفری نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیئے۔ جلسہ گاہ کی قریبی عمارتوں پہ مختلف محکموں کے چاک و چوبند اہلکار تعینات رہے۔ اس کے علاوہ سپیشل برانچ، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ایلیٹ اہلکار، ریسکیو سروس اہلکاروں نے ڈیوٹی سرانجام دی۔ جلسہ سے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی، پی پی پی کے امیدوار برائے قومی اسمبلی نورنگ خان گنڈہ پور، امیدوار برائے صوبائی اسمبلی ملک فرحان دھپ، پی پی پی پنجاب کے مرکزی صدر قمر الزمان کائرہ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق چیئرمین سینٹ نیئر بخاری نے خطاب کیا۔ 

عدالتیں خود بے نقاب ہورہی ہیں، کائرہ
مقامی قیادت نے اپنے خطاب میں بلاول کو شہدا ء کی سرزمین ڈی آئی خان میں خوش آمدید کہا۔ قمرالزمان کائرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام نے پی پی پی قیادت کا بہت پرجوش استقبال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ اس وقت سے طرح  طرح کے الزمات لگائے جارہے ہیں کہ پی پی پی حکومت گرانا چاہتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر پیپلز پارٹی نہ چاہتی تو یہ پارلیمنٹ وجود میں ہی نہ آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد جب اسمبلی وجود میں آئی تو مولانا فضل الرحمن نے کہا  تھا کہ اس الیکشن کا اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلی کابائیکاٹ کر دیں۔ اسمبلیوں میں نہیں جانا۔ قمرالزمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی تھی اور چیئرمین بلاول تھے جنہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ الیکشن میں کھیل کھیلا گیا ہے۔ ہم سے الیکشن چھینا گیا ہے۔ ان تمام تر تحفظات کے باوجود ہم نے نظام کو چلانا ہے۔ اس کو چلانے میں جتنی قربانیاں پی پی پی نے دی ہیں اور کسی نے نہیں دی ہیں۔ ہم نے اسمبلی میں جانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے دن چیئرمین صاحب نے کہا کہ عمران خان ہمیں تمہارے اوپر تحفظات ہیں، تم پتلی تماشہ میں آئے ہو ، پتلیاں نچانے والے کوئی اور ہیں۔ اس کے باوجود ہم تمہارے ساتھ ہوں گے اگر تم پاکستان کے عوام کے لیے دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوئے۔ انتہاپسندی کے خلاف لڑو۔ غربت مہنگائی کے خلاف کھڑے ہو۔ عوام کو ان کے معاشی، سیاسی معاشرتی حقوق دو۔ عمران خان تم نے مخالفین کو الزامات لگانے، جھوٹ بولنے اور یوٹرن لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ جو وڈیو آئی ہے وہ ہم نہیں لائے۔ اگریہ وڈیو سچی ہے تو اس حکومت سے جان چھڑانی ہوگی۔ ہمیں عدالتوں کے حکم سے جیلوں میں رکھا گیا۔ عدالتیں خود بے نقاب ہو رہی ہیں۔ ملک کے ذمہ داروں سن لو۔ صبر کا امتحان مت لو۔ بھٹو کے دیئے ہوئے آئین کے تحت اسی میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ 

بلاول بھٹو کا خطاب،  حسین (ع) والے ہمیشہ شہید ہوتے ہیں
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں عوام سے اظہار تشکر کے بعد انہیں دلاسہ دیا کہ مجھ سے زیادہ آپ کے درد کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ قبل ازیں انہوں نے کہا کہ 
شہادتوں کے علم جب بلند ہوجائیں 
توجہاں سارے میں رسوا  یزید ہوتے ہیں
عظیم باپ کی بیٹی دیکھا گئی شوکت
کہ حسین والے ہمیشہ شہید ہوتے ہیں
کس کے ہاتھ پہ پیاروں کا لہو تلاش کریں

بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ کوئی آپ کے آنسووں کو نہیں سمجھ سکتا ۔ جیسے میں سمجھ سکتا ہوں۔ میں آپ کے درد کو جتنا سمجھ سکتا ہوں ، اتنا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا کیونکہ میں بھی اسی درد و کرب سے گزرا ہوں کہ جس سے آپ گزرے ہیں۔ میں بھی اسی آگ کے دریا سے گزرا ہوں کہ جس سے آپ گزرے۔فاٹا کے عوام کے دکھ و درد کو شہید کا وارث ہی سمجھ سکتا ہے کیونکہ فاٹا والوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ آپ اور میں پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے پیاروں کو ہم سے کیوں چھینا گیا۔ ان کے قاتل کون ہیں۔ ہم کس کے ہاتھوں پہ اپنے پیاروں کا لہو تلاش کریں۔ ہمارا پوچھنا حق ہے کہ بھٹو کیس میں بے نظیر کیس میں ہمیں انصاف کب ملے گا۔ ہزاروں شہادتوں کے باوجود کیوں دنیا ہمارا بیانیہ نہیں سن رہی۔ ان شہادتوں میں پولیس و فوج کے جوانوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ یہ پوچھنا ہمارا حق ہے کہ کیوں دنیاہمارا موقف نہیں سن رہی ہے۔ 

ڈیرہ کی دھرتی شہداء کی دھرتی ہے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ڈی آئی خان کی دھرتی شہدا کی دھرتی ہے۔ اس مٹی میں میرے کارکنوں کا لہو شامل ہے۔ میں اس دھرتی کا دفاع کرتا رہوں گا اور اس کے لیے مجھے جتنی بھی قربانیاں دینا پڑیں، دریغ نہیں کریں گے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت قبائلی علاقہ جات میں جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں میرے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو اور میری والدہ دختر مشرق شہید بے نظیر بھٹو اور میرے بابا آصف علی زرداری کے دور اقتدار میں ہوئے ہیں۔ آج ڈیرہ اسماعیل خان میں آکر اپنے شہید نانا کے دیرینہ رفیق دوست اور پیپلز پارٹی کے پہلے شہید ورکر حق نواز شہید پارک میں ٹھہر کر جلسہ عام سے خطاب کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل کی دھرتی بھی شہیدوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ سر زمین شہید حق نواز کی زمین ہے اس میں میرے کارکنوں کا خون شامل ہے، میں اس کا دفاع کرتا رہوں گا، اس لئے ہمیں جتنے بھی قربانیاں دینے پڑیں۔ یہ میرے لئے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ اسی پارک میں میرے نانا شہید اور میری والدہ شہید بی بی نے ورکرز سے خطاب کیا۔ ہمارے پیاروں کا مقدس لہو دھرتی کے لئے بہا اور جمہوریت کو بچانے کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ ہم جیلوں اور کیسوں سے نہیں ڈرتے۔ عوام نے سلیکٹڈ وزیراعظم کو مسترد کر دیا ہے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم نے مہنگائی کے طوفان سے بھرا بجٹ پیش کرکے عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ 

نئے پاکستان میں کسان برباد اور تاجر پریشان ہیں
جب ایک ڈکٹیٹر نے میرے نانا کو جھوٹے کیس میں شہید کرایا تو اس کے بعد یہی پختون بھائی تھے خیبر پختونخوا کے جنہوں نے میری والدہ دختر مشرق شہید بی بی کا ساتھ دیا اور انہیں کامیاب کرایا، اگر مظلوموں کا ساتھ دینا بغاوت ہے تو میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں مجرم ہوں اور ہاں میں باغی ہوں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل یونیورسٹی، چشمہ رائٹ بنک کینال اور ڈیرہ سے ٹانک تک سوئی گیس کے اہم اور ترقیاتی منصوبے بھی ہمارے دور حکومت میں پایہ تکمیل تک پہنچے۔ میری شہید ماں نے قبائلی لوگوں کے لئے ایف سی آر کے خاتمے کے لئے اعلان جنگ کیا تھا اور تیس سال جدوجہد کے بعد ایف سی آر کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے بینظیر انکم سپورٹ جیسی سکیم غریبوں کے لئے متعارف کرائی۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ NWFP کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا۔ اس ملک پر جو سلیکٹڈ حکومت بیٹھا دی گئی ہے۔ اس نے ایک سال میں عوام کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ آج میں اس دھرتی پر کھڑا ہوں جسے کبھی فرقہ واریت، دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور کبھی قبائلی علاقوں کے امن کو تار تار کیا گیا۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ کتنے دکھ میں ہیں۔ میں عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے نکلا ہوں، سلیکٹڈ وزیراعظم کو ہٹانے کیلئے نکلا ہوں۔ دہشتگردوں اور را کے ایجنٹ کلبھوشن اور غدار مشرف کا انٹرویو ٹی وی پر چل سکتا ہے۔ ملک کے سابق صدر، سابق وزیراعظم اور قبائلی رہنمائوں کے انٹرویو کیوں نہیں چل سکتے۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ آصف زرداری نے 18ویں ترمیم منظور کروا کر قبائلی علاقوں کو حقوق دیئے۔ میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو ایک کروڑ نوکریاں ملیں ہیں؟ کیا آپ کو 50 لاکھ گھر ملے ہیں؟ کٹھ پتلی وریراعظم عمران خان عوام کو صرف سبز باغ دکھا سکتا ہے۔ حکومت نے ہماری خود مختیاری کا سودا کر لیا ہے۔ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ یہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں کسان برباد اور تاجر پریشان ہے۔

عمران خان تم عوام کے قاتل ہو
بلاول کا کہنا تھا کہ میرے قبائلی بھائیوں کا انٹرویو ٹی وی پہ نہیں چل سکتا۔ اگر سوال پوچھنا جرم ہے، اگر انتہا پسندی کے خلاف اٹھنا جرم ہے تو ہم سب باغی ہیں۔ کیا ہمارا جرم یہ ہے کہ عوام کو اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا۔ ارب پتی کیلئے اربوں روپے کا بیل آوٹ ہے مگر عام اور غریب آدمی کیلئے ٹیکسز کا سونامی ہے۔ یہ کس قسم کا نیا پاکستان ہے۔ مزدور کا سوچیں جس نے پائی پائی جوڑ کر پانچ لاکھ اکھٹا کیا ہے۔ اب اسے جواب دینا پڑے گا کہ میرا منی ٹریل کیا ہے۔ نالائق اور نااہلی کی وجہ سے صوبے دیوالیہ ہورہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو چالیس ارب روپے کم دیا گیا ہے۔ یہ عوام کا حق ہے کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ کیا جائے۔ اسلام آباد کی کٹھ پتلی کو کوئی حق حاصل نیہں کہ وہ فیصلہ کرے عوام کا پیسہ کہاں خرچ کرنا ہے۔ عوام پریشان عمران کے چہرے پہ مسکراہٹ ہے۔ عمران قاتل ہو، عوام کے معاشی قاتل ہو، امیدوں اور بنیادی انسانی حقوق کے قاتل ہو۔ آزادی صافت کے قاتل ہو۔ کٹھ پتلی سلیکٹڈ حکومت حقوق چھیننا چاہ رہے ہیں۔ ون یونٹ قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ اگر ستر سال بعد بھی شفاف انتخابات نہیں کرا سکتے تو پھر یہ کیسی آزادی ہے۔

ضیاء و مشرف دور میں پولنگ اسٹیشنز میں فوجی نہیں تھا تو اب کیوں۔؟
 بندوق کے زور پولنگ سٹیشنز سے ایجنٹس کو باہر پھینکا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اگر ضیاالحق اور مشرف کو پولنگ اسٹیشنز میں فوج کو کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اگر 2012، 2013 میں فوج کو پولنگ اسٹیشنز میں کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ تو آج میں پوچھتا ہوں کہ عمران کیلئے ایسا کیوں کیا جارہا ہے۔ میرے ادارے کو کیوں متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ سیکشن 144 صرف اپوزیشن کیلئے ہے۔ پی ٹی آئی کے نمائندے آزادی سے کمپئن کررہے ہیں۔ اپوزیشن کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ الیکشن ڈے پہ پولنگ سٹیشن کے باہر قطاریں بنیں گی تو کیا وہ غیر قانونی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن جاگو۔ کتنے الیکشن عمران کیلئے مشکوک ہونے دیں گے۔ قبائلی علاقوں اور ملک بھر میں ہونے والے انتخابات ثابت کریں گے کہ ملک میں الیکشن کمیشن ہے یا سلیکشن کمیشن۔ کیسی جمہوریت نہ عوام آزاد، یہ سیاست آزاد۔ ہماری زبان بندی کی جاتی ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے۔ ہزاروں شہری لاپتہ ہیں اور ہم انہیں ڈھونڈ نہیں سکتے۔ یہ کیسی آزادی اور جمہوریت ہے کہ شہری سے لیکر قائدین تک قتل ہوتے ہیں اور قاتل پکڑے نہیں جاتے۔ قبائلیوں کو سندھ آنے سے روکا جاتا ہے اور مجھے فاٹا میں نہیں جانے دیا جاتا۔ بجلی قبائلی علاقوں میں بنتی ہے مگر انہیں نہیں ملتی جبکہ گیس بلوچستان اور سندھ سے آتی ہے مگر انہیں ان کا حصہ نہیں ملتا۔ کیا یہی وہ آزاد پاکستان ہے کہ جس کا وعدہ قائداعظم نے کیا تھا۔ ہمیں ملکر لڑنا ہوگا۔ سڑکوں پہ نکلنا ہوگا۔ اسلام آباد میں کٹھ پتلی تک آواز پہنچانی ہوگی۔ نیا پاکستان نامظور، عوام دشمن بجٹ نامنظور۔ 

مقامی قیادت 
 سابق امیدوار حلقہ این اے 39 اور شہید حق نواز گنڈہ پور کے فرزند سردار نورنگ خان گنڈہ پور نے بھی جلسہ عام سے جذباتی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ڈویژنل سنئیر نائب صدر اور سنئیر راہنما ملک اقبال ایسر، ضلعی صدر اور ضلع ممبر سجاد شیرازی، ضلعی جنرل سیکریٹری حنیف پیپا ایڈوکیٹ، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی امان الحق غزنی خیل، جنرل سیکریٹری ٹانک شاہ فہد انصاری، میڈیا کوارڈینیٹر وقار بلوچ جیالہ، ضیاالدین بیٹنی، شازیہ طہماش، خواتین کی صدر اور تحصیل ممبر حمیرا یاسمین، زعفران حسین بخاری، سابقہ امیدوار سٹی ون ملک فرحان دھپ، انعام تاجو خیل، پیر عدنان شاہ گیلانی، سابقہ ایم پی اے کوہاٹ دینا ناز، سنئیر کارکن راہنما نیک دراز وزیر، قبائلی راہنما گل شاہ عالم وزیر، ضلع ممبر یوسی چہکان ملک مشتاق احمد روڈی خیل، یوتھ کے صدر ریحان بلوچ، لال بادشاہ، چوہدری داود، امیدوار پی کے 113 وزیرستان عمران مخلص، سخی مرجان، اسلم رنگپوری اور کثیر تعداد میں پارٹی راہنما و کارکنان موجود تھے۔ جلسہ کے بھرپور انتظامات میڈیا کوارڈینیٹر وقار بلوچ جیالہ، ضیاالدین بیٹنی، ریحان بلوچ اور پی پی پی مقامی ورکروں، یوتھ و پی ایس ایف کے نوجوانوں کے سپرد تھے۔

کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق صوبائی رہنما کا خطاب
کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق صوبائی رہنماملک فرحان دھپ نے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ ملک فرحان دھپ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔ تاہم فرحان دھپ کو ڈی آئی خان کے شہریوں نے مسترد کر دیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس حلقے سے فرحان دھپ کو ٹکٹ جاری کیا گیاتھا ، وہ صوبائی اسمبلی کی نشست اکثر و بیشتر پی پی کے تصرف میں رہی ہے اور اگر کبھی پی پی پی کو وہاں سے شکست بھی ہوئی تو معمولی مارجن سے ہوئی، تاہم فرحان دھپ کو ٹکٹ ملنے کے بعد اسی حلقے سے پی پی پی بری طرح الیکشن ہار گئی تھی۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق رہنما نے اپنے خطاب میں بلاول بھٹو کو خوش آمدید کہا اور ڈی آئی خا ن کے شہریوں کی جانب سے انہیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دھانی کرائی۔ واضح رہے کہ ڈی آئی خان میں پی پی پی کے بیشتر جیالوں کی ٹارگٹ کلنگ کا الزام کالعدم سپاہ صحابہ پہ رہا ہے، یہ وہی دور تھا کہ جب فرحان دھپ کالعدم سپاہ صحابہ کے متحرک اور اہم رکن مانے جاتے تھے۔ 

مسئلہ جیب کتروں کا نہیں، ان کی شناخت کا ہے
پی پی پی کے جلسے میں کئی صحافیوں، سرکاری اہلکاروں، جیالوں ، کارکنوں سمیت عام شہریوں کی جیبیں کٹ گئیں۔ بلاول کے آنے سے لیکر جانے کے درمیان میں درجنوں افراد اپنے پرس، قیمتی شناختی کاغذات، رقوم اور موبائلز سے محروم ہوگئے ۔ متاثرہ صحافیوں نے اس بارے پولیس سے فوری رابطہ کیا جس کے بعد سویلین کپڑوں میں ملبو س اہلکاروں نے خود کو آسان شکار کے طور پر پیش کیا۔ جس پہ مشتاق اور ماہر دو جیب کترے پولیس نے گرفتار کر لیئے۔ ان میں سے ایک ضیاء نامی جیب کترا کراچی کا شہری ہے اور جلسوں میں جیبیں کاٹنے کیلئے خصوصی طور پر ڈی آئی خان آیا تھا۔ دوسرا جیب کترا محمد اکرم کا تعلق بھی شکار پور سندھ سے نکلا۔ متاثرین کیلئے یہ باعث حیرت تھی کہ ان کی جیبیں کاٹنے کیلئے کراچی اور اندرون سندھ سے خصوصی جیب کترے ڈی آئی خان آئے ، حالانکہ ڈی آئی خان کے جیب کترے بھی اپنے فن میں ماہر ہیں مگر انتہائی قلیل وقت میں درجنوں افراد کو یوں لوٹ لینا بہرحال مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا اعتراف شہریوں نے بجا طور پر کیا۔

ضلعی صدر سجاد شیرازی جلسہ کے دوران منظر عام سے غائب
 پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سید سجاد شیرازی کو پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی فیصل کریم کنڈی نے تشفی دلاسے کے ساتھ کھڈے لائن لگا دیا۔ یہاں تک کہ انہیں مرکزی چیئرمین سے بات چیت کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی بلاول بھٹو کو ڈی آئی خان سٹی میں لایا گیا ۔بلاول کی آمد سے پہلے تک تو ضلعی صدر سجاد شیرازی مقامی و صوبائی لیڈر شپ کے ہمراہ موجود تھے تاہم جب انہیں بلاول کے استقببال کیلئے آگے آنے سے روکا گیا تو وہ ناراض ہوئے۔ دوران جلسہ نہ ہی انہیں تقریر کا موقع دیا گیا اور نہ ہی سٹیج پہ ان کی پذیرائی کی گئی۔  واضح رہے کہ ڈی آئی خان سٹی پی پی پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے اور یہاں ہر تیسرے گھر کا ایک آدھ فرد فرقہ واریت دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ جن میں غلام شبیر اور جاوید باقر جیسے پی پی کے جیالے بھی ہیں۔ شہید بی بی کے قابل بھروسہ ساتھ جاوید باقرکو اس وقت شہید کیا گیا کہ جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے گھر واپس آرہے تھے۔ ان کی اہلیہ اپنے خاوند کو بچانے کیلئے جب آگے آئیں تو حملہ آوروں نے انہیں بھی چھلنی کردیا۔ دونوں کو درجنوں گولیاں لگی تھیں۔ افسوس کہ شہداء کے خانوادوں کیلئے بلاول کے پاس وقت نہیں تھا۔ ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے بزرگ جیالے کارکن سید علی حسین بڑے خوش اور پرجوش تھے۔ استفسار پہ کہنے لگے، بس یہی بہت ہے کہ حقنواز پارک میں بڑے طویل عرصے کے بعد نعرہ حٰیدری، یاعلی (ع) کی گونج سنائی دی ہے۔ میرے لیے یہی بہت ہے اور بجا طور پہ اس کا کریڈٹ بلاول کو جاتا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 803699
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب